Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Islam and Liberalism: Liberalism Ek Zadid Fitna. Urdu

Zadid Daur Ka Zadid Fitna - Nam Naye Kaam Purane. 

Zadid Fitna jise Aam Musalman, Ulema, Imam Bahut kam hi waqif hai. 
Leftism, liberalism,Socialism wagairah ke Nam Par Muslamano ke Andar Ham Jins Parasti aur Fahashi ka Bij Dala ja raha hai. Aam Musalman sirf Dusre Dharmo kar Bare me Janate hai, We Masum Log bahut jald Inke Giraft me Fans Jate hai. Isliye Musalmano ko Bedar Hone ki jarurat hai. 

لبرل ازم کی آڑ میں شیطان کی سازش – اسلام کی حفاظت کا پیغام
لبرل ازم کی آڑ میں شیطان کی سازش – ایک فتنہ کی حقیقت
قرآن کا اعلان: اسلام مکمل اور ابدی دین
بدعت اور فحاشی کی ترویج: جہنم کی راہ
امت کو جگاؤ: اللہ کی کتاب اور سنت پر قائم رہو
لبرل ازم کی چمکدار آڑ میں چھپی شیطان کی سازش! قرآن و سنت سے ہٹ کر "پروگریسو ویلیوز" صرف فتنہ ہیں۔ اسلام مکمل ہے، اسے بدلنے کی ضرورت نہیں! #اسلام_ایک_ہے #دین_کی_حفاظت.
لبرل ازم = شیطان کی غلامی؟  دیکھیے کیسے پروگریسو مسلمز دین کو مسخ کر رہے! سنت پر قائم رہو، بدعت سے بچو۔ 
لبرل ازم کی سازش, شیطان کا فتنہ, اسلام کی حفاظت, پروگریسو مسلمز, LGBTQ اسلام, قرآن کی حفاظت, سنت نبوی, بدعت کی حقیقت
قرآن کا اعلان: اسلام مکمل اور ابدی دین
 لبرل ازم کی آڑ میں شیطان کی سازش – ایک فتنہ کی حقیقت
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ  
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَجْمَعِیْنَ۔
اے مسلمانو! اللہ کے بندو! آج میں تمہیں ایک ایسے فتنے کی طرف متوجہ کرتا ہوں جو تمہارے ایمان کی جڑوں کو کاٹنے کا درپيش ہے۔ یہ فتنہ "لبرل ازم"، "سیکولر ازم" اور "موڈرن ازم" کے خوبصورت لباس میں لپٹا ہوا ہے، مگر اس کی حقیقت تو شیطان کی گھٹن ٹولی ہے – ایک ایسی سازش جو تمہیں اللہ کی اطاعت سے دور کر کے شیطان کی غلامی میں جکڑ دے گی۔ سنو! یہ لوگ جو خود کو "مسلمان" کہہ کر تمہیں دھوکہ دیتے ہیں، جیسے "Muslims for Progressive Values"، وہ اپنی زبان میں فرماتے ہیں:  

"At Muslims for Progressive Values, we are firm in our acceptance and our belief that Islam accepts LGBTQIA+ individuals within the Muslim and non-Muslim communities."
 
   یہ انگریزی میں ان کا اقتباس ہے، جو ان کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر واضح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام ہم جنس پرستی اور دیگر فحاشیوں کو قبول کرتا ہے! نعوذ باللہ! یہ کیا بے شرمی ہے، کیا جھوٹ؟ یہ لوگ لبرل نہیں، بلکہ شیطانی ایجنٹس ہیں – ملعون، فاسق اور فاجر، جو اللہ کی وحی کو اپنے گندے ہاتھوں سے مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ عبد اللہ ابن سبا کی طرح ہیں، اس ملعون یہودی کا، جو نبی ﷺ کے بعد صحابہ کے درمیان فتنہ پھیلا کر امت کو توڑنا چاہتا تھا؛ اور قارون کی طرح، فرعون کے زمانے کے اس بخیل، سرکش اور کافر کا، جو اپنی دولت اور علم کی غرور میں اللہ کے احکامات کو حقیر سمجھتا تھا اور قوم کو گمراہ کرنے کی سازش رچتا تھا۔ اے تم ان شیطانی ایجنٹسو! تمہاری یہ "پروگریسو ویلیوز" تو شیطان کی ویلیوز ہیں – تم ملعون ہو، تمہاری زبان پر لعنت ہو، تمہاری سازشیں اللہ کی طرف سے مردود ہیں! تم جہنم کے ایندھن بنو گے، جہاں تمہاری فحاشی کی آگ تمہیں جلا دے گی۔ اللہ تمہیں تباہ کرے، تم جیسے فاسد عناصر کو جو دین کو اپنی بے حیائی کی کھاد بنانا چاہتے ہو!
اے مسلمانو! سنو اللہ کا کلام، جو ہر دور کے لیے مکمل اور ابدی ہے:  
"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا"** (سورۃ المائدہ: 3)  
یعنی "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔"  
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ اسلام کوئی نامکمل چیز نہیں، بلکہ سب سے زیادہ لبرل، سیکولر اور موڈرن دین ہے – وہ دین جو ہر زمانے کے لیے فٹ ہے، جسے وقت بہ وقت ایڈٹ کرنے، کسٹم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسرے مذاہب تو انسانی ہاتھوں سے مسخ ہو گئے، انہیں بار بار تبدیل کرنا پڑا – عیسائیت کو کونسل آف نائسیا میں تبدیل کیا گیا، یہودیت کی تلمود میں اضافے کیے گئے، ہندو مت کے ویدوں کو مختلف روایات میں توڑ مروڑا گیا – مگر اسلام؟ اللہ کا محفوظ کلام: **"اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ"** (سورۃ الحجر: 9) – "ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔"  
اسلام ہی وہ دین ہے جو عورت کو وراثت، طلاق اور تعلیم کا حق دیتا ہے جب دوسرے مذاہب اسے غلام سمجھتے تھے؛ جو غلاموں کو آزادی کا درس دیتا ہے؛ جو انصاف اور مساوات کا اعلان کرتا ہے بغیر کسی نسل پرستی کے۔ یہ سب سے موڈرن ہے، کیونکہ یہ اللہ کا ہے – نہ انسانی غلطیوں کا شکار، نہ زمانے کی غلامی کا۔
مگر یہ شیطانی ایجنٹس کیا چاہتے ہیں؟ لبرل ازم، سیکولر ازم، موڈرن ازم کا نام لے کر وہ فحاشی چاہتے ہیں – بے حیائی، بے شرمی، ہم جنس پرستی کی ترویج، خاندان کے نظام کی تباہی! یہ کوئی "موڈرن" نہیں، بلکہ شیطان کی غلامی ہے، جہنم کی راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:  
**"أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ"** (البقرہ: 85)  
"کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کا انکار کرتے ہو؟"  
حقیقی مسلمان وہ ہے جو پورے دین کو تسلیم کرے، نہ کہ اسے چنیدہ طور پر صرف انہی احکام تک محدود رکھے جو اس کی خواہشات کے مطابق ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  
**"مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ"** (صحیح بخاری)  
یعنی "جس نے ہمارے اس معاملے (اسلام) میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔"  
اور: **"خَیْرُ الْکَلَامِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَخَیْرُ الْہُدَىٰ ہُدَىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَشَرُّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ"** (صحیح مسلم)  
یعنی "سب سے بہتر کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے۔ سب سے برے امور نئی ایجادات ہیں، اور ہر نئی ایجاد بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"  
اے تم ملعون شیطانی ایجنٹسو! تمہاری یہ فحاشی شیطان کی دعوت ہے، تمہاری "پروگریس" تو جہنم کی طرف واپسی ہے! اللہ تمہیں لعنت دے، تم جیسے فاجر کو جو امت کو گمراہ کر رہے ہو۔ تم عبد اللہ ابن سبا کی اولاد ہو، قارون کی طرح مال و دولت میں ڈوبے ہوئے، مگر تمہارا انجام وہی ہوگا جو ان کا ہوا – اللہ کی لعنت اور ہلاکت!
اے مسلمانو! اس فتنے سے ہوشیار رہو۔ اللہ کی کتاب اور سنت نبوی ﷺ پر قائم رہو۔ یہ شیطانی ایجنٹس تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں، مگر اللہ کا دین محفوظ ہے۔ **"اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ"** (سورۃ آل عمران: 19) – "اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔"  
اللہ ہمیں ہدایت دے، شیطان کے جال سے بچائے، اور ان ملعونوں کو ان کی جگہ پہنچا دے۔ آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔
وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔  
#اسلام_ایک_ہے
 #شیطانی_فتنہ #دین_کی_حفاظت #لبرل_ملعون
Share:

Islam and Liberalism: Liberalism Ki Shakl me Shaitan Ki Sajish.

Zadid Fitna Chaal Purane: Shikari Wahi Khel Naye.

The Deception Behind Liberalism: Unmasking a Modern Fitna.
Shaitan’s trap through liberalism.
Fitna in the name of freedom.
Islamic critique of Western liberalism.
Liberalism and moral decay.
Dangers of liberal thought in Islam.
Truth behind liberal propaganda.
लिबरलिज़्म की आड़ में शैतान की साज़िश – इस्लाम की हिफ़ाज़त का पैग़ाम.
शैतानी एजेंट्स का धोखा: Muslims for Progressive Values की हक़ीक़त.
उम्मत को जगाओ: अल्लाह की किताब और सुन्नत पर क़ायम रहो
लिबरलिज़्म, सेक्युलरिज़्म और मॉडर्निज़्म के नाम पर शैतान की साज़िश का पर्दाफ़ाश। क़ुरआन और सुन्नत की रोशनी में फ़ित्ने से बचाव का तरीक़ा जानें।
शैतान LGBTQ को इस्लाम में घुसेड़ रहा है? नऊज़ु बिल्लाह! Muslims for Progressive Values जैसे फ़ासिक़ उम्मत को गुमराह कर रहे। क़ुरआन की हिफ़ाज़त करो! 
Fitna in the name of freedom, Shaitan’s trap through liberalism, Liberalism and moral decay, Fitna in modern ideology
Liberalism vs Islamic values.
लिबरलिज़्म की आड़ में शैतान की साज़िश – एक फ़ित्ने की हक़ीक़त
लिबरलिज़्म की चमकदार आड़ में छिपी शैतान की साज़िश! क़ुरआन और सुन्नत से हटकर "प्रोग्रेसिव वैल्यूज़" सिर्फ़ फ़ित्ना हैं। इस्लाम मुकम्मल है, इसे बदलने की ज़रूरत नहीं! 
आज हम ऐसे फिक्र और नज़रिया के बारे मे बात करेंगे जो दुनिया मे रौशन ख्याल,ज़दिदियत और इंसानी हुकुक का नुमाइंदा बनता है, इसके मानने वाले खुद को सबसे ज्यादा तरक्की याफ्ता, तालीम याफ्ता और मुहज्जब समझते है। इनके एक  हाथ मे साइंस और दूसरे मे इनका अपना नज़रिया होता है, यह अपने सोच और फिक्र को हर दफ्तर, सैलबस् और हुकुमती निज़ाम मे शामिल करना चाहते है, कर रहे है। यह इंसानी हुकुक के नुमाइंदे किसी भी मजहब, धर्म या बिरादरी के हो सकते है। इनके नामो से इनके धर्म का पता मत करे, इनके धर्म/मजहब सिर्फ अपना नज़रिया (विचारधारा) होता है नाकि खानदानी घराने मे पैदा होने वाले धर्म। इनको धर्म अफीम लगता है दूसरी तरफ यह सब धर्म को मानने वाले और सभी का आदर करने वाले कहते है। यह असल मे न हिंदू है, ना ईसाई, सिख या मुस्लिम कुछ भी नही, बल्कि ये किसी भी धर्म के मानने वाले घर मे पैदा हुए हो इससे उसके धर्म को नही पहचाने उसका नज़रिया क्या है इससे पहचाने। यह leftism, Socialism, Marxism वगैरह जितने भी नज़रिया है सब बातिल और फ़ितना बरपा करने वाले पुराने मगर ज़दीदीयत का लेबादा डाले इंसानियत के दुश्मन है। इसके बावजूद वह इंसानी हुकुक के पैरोकार है। 

बिस्मिल्लाहिर रहमानिर रहीम
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم  
अल्हम्दु लिल्लाहि रब्बिल आलमीन, वस्सलातु वस्सलामु अला सय्यिदिना मुहम्मदिन व अला आलिही व अस्हाबिही अजमईन।
ऐ मुसलमानो! अल्लाह के बंदो! आज मैं तुम्हें एक ऐसे फ़ित्ने की तरफ़ मुतवज्जिह करता हूँ जो तुम्हारे ईमान की जड़ों को काटने का दरपेश है। ये फ़ित्ना "लिबरलिज़्म", "सेक्युलरिज़्म" और "मॉडर्निज़्म" के ख़ूबसूरत लिबास में लिपटा हुआ है, मगर इसकी हक़ीक़त तो शैतान की घुटन टोली है – एक ऐसी साज़िश जो तुम्हें अल्लाह की इताअत से दूर करके शैतान की ग़ुलामी में जकड़ देगी। सुनो! ये लोग जो ख़ुद को "मुस्लिम" कहकर तुम्हें धोखा देते हैं, जैसे "Muslims for Progressive Values", वो अपनी ज़बान में फ़रमाते हैं:  
"At Muslims for Progressive Values, we are firm in our acceptance and our belief that Islam accepts LGBTQIA+ individuals within the Muslim and non-Muslim communities."
ये इंग्लिश में उनका इक़्तिबास है, जो उनकी वेबसाइट और सोशल मीडिया पर वाज़ेह है। वो कहते हैं कि इस्लाम हमजिंसपरस्ती और दीगर फ़ुह्श को क़बूल करता है! नऊज़ु बिल्लाह! ये क्या बेशर्मी है, क्या झूट? ये लोग लिबरल नहीं, बल्कि शैतानी एजेंट्स हैं – मलऊन, फ़ासिक़ और फ़ाजिर, जो अल्लाह की वह्य को अपने गंदे हाथों से मस्ख़ करने की कोशिश कर रहे हैं। वो अब्दुल्लाह इब्न सबा की तरह हैं, उस मलऊन यहूदी का, जो नबी ﷺ के बाद सहाबा के दरमियान फ़ित्ना फैलाकर उम्मत को तोड़ना चाहता था; और क़ारून की तरह, फ़िरऔन के ज़माने के उस बख़ील, सरकश और काफ़िर का, जो अपनी दौलत और इल्म की ग़ुरूर में अल्लाह के अहकामात को हक़ीर समझता था और क़ौम को गुमराह करने की साज़िश रचता था। ऐ तुम इन शैतानी एजेंट्सो! तुम्हारी ये "प्रोग्रेसिव वैल्यूज़" तो शैतान की वैल्यूज़ हैं – तुम मलऊन हो, तुम्हारी ज़बान पर लानत हो, तुम्हारी साज़िशें अल्लाह की तरफ़ से मरदूद हैं! तुम जहन्नम के ईंधन बनोगे, जहाँ तुम्हारी फ़ुह्श की आग तुम्हें जला देगी। अल्लाह तुम्हें तबाह करे, तुम जैसे फ़ासिद अनासिर को जो दीन को अपनी बेहयाई की ख़ाद बनाना चाहते हो!

ऐ मुसलमानो! सुनो अल्लाह का कलाम, जो हर दौर के लिए मुकम्मल और अबदी है:  
"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا" (सूरह अल-माइदा: ३)  
यानी "आज मैंने तुम्हारे लिए तुम्हारा दीन मुकम्मल कर दिया और तुम पर अपनी नेअमत तमाम कर दी और तुम्हारे लिए इस्लाम को बतौर दीन पसंद कर लिया।"  
ये आयत एलान करती है कि इस्लाम कोई नामुकम्मल चीज़ नहीं, बल्कि सबसे ज़्यादा लिबरल, सेक्युलर और मॉडर्न दीन है – वो दीन जो हर ज़माने के लिए फ़िट है, जिसे वक़्त-ब-वक़्त एडिट करने, कस्टम करने की कोई ज़रूरत नहीं। दूसरे मज़ाहिब तो इंसानी हाथों से मस्ख़ हो गए, उन्हें बार-बार तब्दील करना पड़ा – ईसाइयत को काउंसिल ऑफ़ नाइसीया में तब्दील किया गया, यहूदियत की तलमूद में इज़ाफ़े किए गए, हिंदू मत के वेदों को मुख़्तलिफ़ रिवायात में तोड़-मरोड़ा गया – मगर इस्लाम? अल्लाह का महफ़ूज़ कलाम: **"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ"** (सूरह अल-हिज्र: ९) – "हमने ही इस ज़िक्र (क़ुरआन) को नाज़िल किया है और हम ही इसके हाफ़िज़ हैं।"  
इस्लाम ही वो दीन है जो औरत को विरासत, तलाक़ और तालीम का हक़ देता है जब दूसरे मज़ाहिब उसे ग़ुलाम समझते थे; जो ग़ुलामों को आज़ादी का दर्स देता है; जो इंसाफ़ और मुसावात का एलान करता है बग़ैर किसी नस्लपरस्ती के। ये सबसे मॉडर्न है, क्योंकि ये अल्लाह का है – न इंसानी ग़लतियों का शिकार, न ज़माने की ग़ुलामी का।
मगर ये शैतानी एजेंट्स क्या चाहते हैं? लिबरलिज़्म, सेक्युलरिज़्म, मॉडर्निज़्म का नाम लेकर वो फ़ुह्श चाहते हैं – बेहयाई, बेशर्मी, हमजिंसपरस्ती की तरवीज, ख़ानदान के निज़ाम की तबाही! ये कोई "मॉडर्न" नहीं, बल्कि शैतान की ग़ुलामी है, जहन्नम की राह है। अल्लाह तआला का फ़रमान है:  
**"أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بَعْضٍ"** (अल-बक़रा: ८५)  
"क्या तुम किताब के एक हिस्से पर ईमान लाते हो और दूसरे हिस्से का इंकार करते हो?"  
हक़ीक़ी मुसलमान वो है जो पूरे दीन को तस्लीम करे, न कि उसे चुनिंदा तौर पर सिर्फ़ उनही अहकाम तक महदूद रखे जो उसकी ख़्वाहिशात के मुताबिक़ हों। रसूल अल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:  
**"مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ"** (सहीह बुख़ारी)  
यानी "जिसने हमारे इस अम्र (इस्लाम) में कोई नई चीज़ इजाद की जो इसमें से नहीं, तो वो मरदूद है।"  
और: **"خَيْرُ الْكَلَامِ كِتَابُ اللّٰهِ، وَخَيْرُ الْهُدَىٰ هُدَىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرُّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ"** (सहीह मुस्लिम)  
यानी "सबसे बेहतर कलाम अल्लाह की किताब है, और सबसे बेहतर हिदायत मुहम्मद ﷺ की हिदायत है। सबसे बुरे अमूर नई इजादात हैं, और हर नई इजाद बिदअत है, और हर बिदअत गुमराही है।"  
ऐ तुम मलऊन शैतानी एजेंट्सो! तुम्हारी ये फ़ुह्श शैतान की दावत है, तुम्हारी "प्रोग्रेस" तो जहन्नम की तरफ़ वापसी है! अल्लाह तुम्हें लानत दे, तुम जैसे फ़ाजिर को जो उम्मत को गुमराह कर रहे हो। तुम अब्दुल्लाह इब्न सबा की औलाद हो, क़ारून की तरह माल व दौलत में डूबे हुए, मगर तुम्हारा अंजाम वही होगा जो उनका हुआ – अल्लाह की लानत और हलाकत!
ऐ मुसलमानो! इस फ़ित्ने से होशियार रहो। अल्लाह की किताब और सुन्नत नबवी ﷺ पर क़ायम रहो। ये शैतानी एजेंट्स तुम्हें धोखा दे रहे हैं, मगर अल्लाह का दीन महफ़ूज़ है। "إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ" (सूरह आल इमरान: १९) – "अल्लाह के नज़्दीक दीन सिर्फ़ इस्लाम है।"  
अल्लाह हमें हिदायत दे, शैतान के जाल से बचाए, और इन मलऊनों को उनकी जगह पहुंचा दे। आमीन या रब्बल आलमीन।
वस्सलामु अलैकुम व रहमतुल्लाहि व बरकातुहु।  
Share:

Umar Khalid Bail Update: Supreme Court Slams 5-Year Delay in Delhi Riots Case

उमर खालिद जमानत: सुप्रीम कोर्ट 5 साल की देरी पर भड़का | 27 अक्टूबर 2025

बलात्कारियों को जमानत, एक्टिविस्टों को जेल: उमर खालिद के मामले में सुप्रीम कोर्ट ने दिल्ली पुलिस को लगाई फटकार।

लाइव अपडेट अंतिम अपडेट:
कार्यकर्ता उमर खालिद, शरजील इमाम, गुलफिशा फातिमा और मीरन हैदर की सुप्रीम कोर्ट बिल्डिंग के सामने की कंपोजिट तस्वीर।
छात्र कार्यकर्ता उमर खालिद, शरजील इमाम, गुलफिशा फातिमा, और मीरन हैदर, सुप्रीम कोर्ट की पृष्ठभूमि में, दिल्ली दंगा UAPA जमानत सुनवाई, अक्टूबर 2025।
📍

नई दिल्ली, भारत — पांच साल जेल में। कोई मुकदमा नहीं। कोई सज़ा नहीं। यह कार्यकर्ता उमर खालिद की कठोर सच्चाई है। 27 अक्टूबर, 2025 को, भारत के सुप्रीम कोर्ट ने इसी देरी पर अपनी हताशा व्यक्त की, और 2020 से खालिद को बिना मुकदमे के जेल में रखने की इस "त्रासदी" पर दिल्ली पुलिस से तीखे सवाल किए। विवादास्पद 2020 के दिल्ली दंगों से जुड़ी उमर खालिद की जमानत की सुनवाई, न्याय, असहमति और भारत के कड़े आतंक-रोधी कानून (UAPA) के इस्तेमाल पर बहस का एक मुख्य बिंदु बन गई है।

बलात्कारियों को ज़मानत, कार्यकर्ताओं को जेल। भारतीय न्यायपालिका की दर्दनाक सच्चाई। उमर खालिद 5 साल से बिना मुकदमे के जेल में सड़ रहा है, जबकि दोषी अपराधी आज़ादी का मज़ा ले रहे हैं।

खचाखच भरे कोर्ट रूम में जस्टिस अरविंद कुमार और एन.वी. अंजारिया की बेंच ने कोई लाग-लपेट नहीं की। जब दिल्ली पुलिस का प्रतिनिधित्व कर रहे एडिशनल सॉलिसिटर जनरल (ASG) एस.वी. राजू ने जवाब दाखिल करने के लिए दो सप्ताह का एक और विस्तार मांगा, तो अदालत ने दृढ़ता से इनकार कर दिया। बेंच ने कहा, "यह स्वीकार्य नहीं है," और उन पांच लंबे वर्षों पर प्रकाश डाला जो खालिद पहले ही प्री-ट्रायल हिरासत में बिता चुके हैं। "जमानत सजा नहीं है। प्रक्रिया अपने आप में सजा नहीं बन सकती।"

यह न्यायिक फटकार उमर खालिद मामले की गाथा का नवीनतम अध्याय है। उन्हें, शरजील इमाम और गुलफिशा फातिमा जैसे अन्य छात्र कार्यकर्ताओं के साथ, नागरिकता संशोधन अधिनियम (CAA) के खिलाफ व्यापक विरोध के बाद हुए दंगों की कथित "बड़ी साजिश" के लिए UAPA के तहत गिरफ्तार किया गया था। फरवरी 2020 की हिंसा में 53 लोग मारे गए थे और सैकड़ों घायल हुए थे। पांच साल बाद, जब खालिद की कानूनी टीम, जिसका नेतृत्व वरिष्ठ अधिवक्ता कपिल सिब्बल और अभिषेक मनु सिंघवी कर रहे हैं, उनकी स्वतंत्रता के लिए बहस कर रही है, तब एक स्पष्ट विरोधाभास उभरता है: जहाँ कार्यकर्ता बिना मुकदमे के जेल में बंद हैं, वहीं राजनीतिक रसूख वाले दोषी बलात्कारी और हत्यारे अक्सर पैरोल पर आज़ाद घूम रहे हैं।

यह लेख आज की सुनवाई के महत्वपूर्ण विवरणों, इससे उजागर होने वाले प्रणालीगत मुद्दों और उस स्पष्ट "दोहरी-न्याय" व्यवस्था पर प्रकाश डालता है, जो खुद कटघरे में है। 27 अक्टूबर की सुनवाई के बाद, कानूनी विशेषज्ञ और मानवाधिकार समूह 31 अक्टूबर की महत्वपूर्ण सुनवाई से पहले अपनी दलीलों को और मज़बूत कर रहे हैं, जिससे यह मामला और भी अधिक चर्चा में आ गया है।

वकील कपिल सिब्बल, अभिषेक मनु सिंघवी और एएसजी एसवी राजू, सुप्रीम कोर्ट के जस्टिस अरविंद कुमार और एनवी अंजारिया के साथ।
उमर खालिद जमानत सुनवाई में जस्टिस अरविंद कुमार और एनवी अंजारिया, वकीलों कपिल सिब्बल, अभिषेक मनु सिंघवी और एएसजी एसवी राजू की दलीलें सुनते हुए, अक्टूबर 2025 (साभार: बार एंड बेंच)।

SC की कड़ी फटकार: "5 साल की देरी न्याय का मखौल है"

आज की सुप्रीम कोर्ट की सुनवाई न्यायिक अधीरता का एक बेहतरीन उदाहरण थी। बेंच की तीखी टिप्पणियों ने नियमित कानूनी दांव-पेंच को भेद दिया। "वह पांच साल से जेल में है। पांच साल! और आप अभी भी जवाब दाखिल करने के लिए समय मांग रहे हैं?" जस्टिस कुमार ने ASG राजू से सीधे तौर पर पूछा। पुलिस का औचित्य— "भारी रिकॉर्ड" और साजिश की "जटिलता"— को संदेह के साथ देखा गया। बेंच ने टिप्पणी की, "चाहे यह कितना भी जटिल क्यों न हो, पांच साल तो पांच साल होते हैं। यह न्याय का मखौल है।"

खालिद की ओर से बहस कर रहे कपिल सिब्बल ने इसी बात पर बल दिया। "प्रक्रिया ही सजा बन गई है। उनके पास मुकदमा शुरू करने के लिए कोई सबूत नहीं है, इसलिए वे प्रक्रिया का ही इस्तेमाल करके उसे जेल में रखते हैं। यह UAPA के दुरुपयोग का एक क्लासिक मामला है।" एक समानांतर मामले में शरजील इमाम की ओर से पेश हुए अभिषेक मनु सिंघवी ने भी यही भावना व्यक्त की, और तर्क दिया कि इतने लंबे समय तक जमानत से इनकार करना मौलिक रूप से अनुच्छेद 21, यानी जीवन और स्वतंत्रता के अधिकार, का उल्लंघन करता है। अदालत का पुलिस को और समय देने से इनकार करना और 31 अक्टूबर, 2025 को अगली सुनवाई मजबूती से तय करना, यह एक कड़ा संकेत है कि अंतहीन देरी के दिन अब गिने-चुने हो सकते हैं।

बिना मुकदमे 5 साल जेल: उमर खालिद का अंतहीन संघर्ष

उमर खालिद की न्यायिक प्रणाली के माध्यम से यात्रा एक लंबी और कठिन रही है। सितंबर 2020 में गिरफ्तार किए गए जेएनयू के इस पूर्व छात्र की जमानत याचिकाएं हर स्तर पर खारिज होती रही हैं। निचली अदालत ने पहली बार मार्च 2022 में उन्हें जमानत देने से इनकार कर दिया, यह पाते हुए कि UAPA की कठोर परीक्षा के तहत उनके खिलाफ आरोप "प्रथम दृष्टया सही" थे। इस फैसले को दिल्ली उच्च न्यायालय ने अक्टूबर 2022 में बरकरार रखा।

इसके बाद उनकी कानूनी टीम ने सुप्रीम कोर्ट का दरवाजा खटखटाया। हालांकि, एक रणनीतिक कदम के तहत, खालिद ने फरवरी 2024 में अपनी याचिका वापस ले ली, शायद बदलती बेंच संरचना के कारण, और बाद में इसे फिर से दायर किया। यह अक्टूबर 2025 की सुनवाई स्वतंत्रता के लिए इस नए प्रयास की परिणति है। उनके पूरे कारावास के दौरान, उनके पिता, सैयद कुर्बान हुसैन ने अपने बेटे की बेगुनाही को बनाए रखा है, और कहा है, "उमर का एकमात्र अपराध संविधान के लिए बोलना था।" बिना मुकदमा शुरू हुए यह पांच साल की अवधि UAPA की केंद्रीय आलोचना को रेखांकित करती है: यह केवल आरोपों के आधार पर अनिश्चितकालीन हिरासत को सक्षम बनाता है।

कानूनी चक्रव्यूह: शरजील इमाम का बहु-राज्यीय मामला

अक्सर खालिद की याचिका के साथ ही जामिया मिल्लिया इस्लामिया के पीएचडी स्कॉलर शरजील इमाम के मामले की भी सुनवाई होती है। इमाम को एक अधिक जटिल कानूनी जाल का सामना करना पड़ रहा है, जिसमें न केवल दिल्ली दंगों के UAPA मामले (FIR 59/2020) में आरोप हैं, बल्कि CAA विरोधी प्रदर्शनों के दौरान उनके भाषणों के लिए कई राज्यों (जैसे असम, मणिपुर और उत्तर प्रदेश) में कई राजद्रोह के मामले भी दर्ज हैं। उन्हें खालिद से भी पहले, जनवरी 2020 में गिरफ्तार किया गया था।

हालांकि वह राज्य-स्तरीय राजद्रोह के कुछ मामलों में जमानत हासिल करने में कामयाब रहे हैं, लेकिन वह दिल्ली UAPA के आरोपों के तहत मजबूती से कैद हैं। उनके वकीलों का तर्क है कि उनके भाषण, जिसमें "चक्का जाम" (सड़क नाकाबंदी) का आह्वान किया गया था, विरोध का एक रूप थे और हिंसा के लिए उकसाना नहीं थे। हालांकि, अभियोजन पक्ष उन्हें एक प्रमुख भड़काने वाले के रूप में चित्रित करता है। उनका मामला भी, खालिद की तरह, यह उजागर करता है कि कैसे विरोध के भाषण को अपराध बनाया जा सकता है और एक बहु-राज्य कानूनी दलदल में उलझाया जा सकता है जो रिहाई को लगभग असंभव बना देता है।

असहमति पर प्रहार: गुलफिशा, मीरन और CAA विरोध का दमन

उमर खालिद और शरजील इमाम अकेले नहीं हैं। यही "बड़ी साजिश" वाली FIR एक दर्जन से अधिक अन्य छात्र नेताओं और कार्यकर्ताओं को फंसाती है। उनमें सीलमपुर की एक MBA ग्रेजुएट और सामुदायिक आयोजक गुलफिशा फातिमा, और जामिया के पीएचडी स्कॉलर मीरन हैदर शामिल हैं। दोनों को 2020 की शुरुआत में गिरफ्तार किया गया था और UAPA के तहत उन्हें भी बार-बार जमानत से वंचित किया गया है।

ये कार्यकर्ता CAA के खिलाफ शांतिपूर्ण, महिलाओं के नेतृत्व वाले धरने-प्रदर्शनों की रीढ़ थे, विशेष रूप से शाहीन बाग में। पुलिस की चार्जशीट में आरोप है कि ये विरोध प्रदर्शन सांप्रदायिक अशांति पैदा करने की एक गहरी साजिश का "मुखौटा" थे। हालांकि, आरोपी यह मानते हैं कि वे एक ऐसे कानून के खिलाफ असहमति के अपने लोकतांत्रिक अधिकार का प्रयोग कर रहे थे, जिसे वे मुसलमानों के खिलाफ भेदभावपूर्ण मानते हैं। उनका लगातार कारावास में रहना उन अन्य लोगों के लिए एक भयावह संदेश देता है जो समान जमीनी स्तर के आंदोलनों को संगठित करने पर विचार कर सकते हैं।

UAPA: जमानत रोकने का 'कानूनी हथियार'?

उमर खालिद मामले के केंद्र में गैरकानूनी गतिविधियां (रोकथाम) अधिनियम (UAPA) है। जो चीज इस कानून को इतना कठोर बनाती है, वह है इसकी एक विशिष्ट धारा: धारा 43D(5)। यह प्रावधान कहता है कि किसी आरोपी को जमानत नहीं दी जा सकती यदि अदालत, केस डायरी और पुलिस रिपोर्ट की समीक्षा के बाद, यह मानती है कि आरोप "प्रथम दृष्टया सही" हैं।

यह "निर्दोष जब तक दोषी साबित न हो" के मूल सिद्धांत को प्रभावी ढंग से पलट देता है। जमानत के लिए, *आरोपी* को अनिवार्य रूप से अपनी बेगुनाही साबित करनी होती है, जो बिना किसी पूर्ण मुकदमे या सबूतों की जिरह करने की क्षमता के लगभग असंभव काम है। जैसा कि एमनेस्टी इंटरनेशनल के कानूनी विशेषज्ञों ने बताया है, यह धारा वह प्राथमिक उपकरण है जो राज्य को व्यक्तियों को वर्षों तक "निवारक हिरासत" में रखने में सक्षम बनाता है, भले ही अंततः मामले की ताकत कुछ भी हो। मुकदमा, वास्तव में, निरर्थक हो जाता है, क्योंकि कारावास की सजा पहले ही दी जा चुकी होती है।

न्याय के दो चेहरे: एक्टिविस्ट जेल में, बलात्कारी आज़ाद

उमर खालिद की जमानत की सुनवाई में निराशा तब और बढ़ जाती है जब इसकी तुलना उन दोषी अपराधियों के साथ की जाती है, जिन्हें स्पष्ट रूप से राजनीतिक या धार्मिक रसूख प्राप्त है। यह "जमानत" (विचाराधीन कैदियों के लिए) बनाम "पैरोल" या "छूट" (दोषियों के लिए) की तुलना नहीं है, बल्कि यह राज्य मशीनरी की नीयत और गति पर एक तीखा सवाल है। जहाँ एक तरफ राज्य एक कार्यकर्ता को बिना दोषसिद्धि के जमानत रोकने के लिए एड़ी-चोटी का जोर लगा देता है, वहीं दूसरी तरफ यह दोषियों की रिहाई को सक्रिय रूप से सुगम बनाता है।

यह असमानता एक दो-स्तरीय न्याय प्रणाली की सार्वजनिक धारणा को जन्म देती है: एक असहमति जताने वालों और अल्पसंख्यकों के लिए, और दूसरी राजनीतिक रूप से शक्तिशाली लोगों के लिए। निम्नलिखित मामले इस बातचीत का एक अनिवार्य हिस्सा हैं।

राम रहीम की 'पैरोल पॉलिटिक्स'

डेरा सच्चा सौदा संप्रदाय का प्रमुख गुरमीत राम रहीम, बलात्कार (2017 से) और एक पत्रकार की हत्या के लिए आजीवन कारावास की सजा काट रहा है। इन जघन्य दोषसिद्धियों के बावजूद, उसे कम से कम 17 बार पैरोल दी जा चुकी है। ये रिहाइयां अक्सर संदिग्ध रूप से चुनाव अवधियों के साथ मेल खाती हैं। उदाहरण के लिए, उसे हरियाणा विधानसभा चुनावों से ठीक पहले, अक्टूबर 2024 में 20 दिन की पैरोल दी गई थी, जहाँ उसका विशाल अनुयायी आधार एक महत्वपूर्ण "वोट बैंक" है। उसे अगस्त 2025 में 40 दिन की एक और पैरोल मिली। यह पैटर्न एक "लेन-देन" का सुझाव देता है, जहां एक दोषी की स्वतंत्रता का कथित तौर पर राजनीतिक समर्थन के लिए सौदा किया जाता है, जो उमर खालिद की पांच साल की बिना मुकदमे की हिरासत के बिल्कुल विपरीत है।

आसाराम-चिन्मयानंद: 'बीमारी' के नाम पर जमानत का खेल

यह पैटर्न अन्य शक्तिशाली हस्तियों के साथ भी जारी है। 2018 में एक नाबालिग से बलात्कार के लिए दोषी ठहराए गए आसाराम बापू को "स्वास्थ्य कारणों" पर बार-बार जमानत या फरलो मिली है, जिसमें मार्च से सितंबर 2025 तक एक लंबी रिहाई भी शामिल है। उसका बेटा, नारायण साई, जो भी बलात्कार का दोषी है, इसी तरह के लाभों का आनंद लेता है। इसी तरह, पूर्व भाजपा केंद्रीय मंत्री स्वामी चिन्मयानंद को एक कानून की छात्रा से बलात्कार का आरोप लगने के कुछ ही महीनों बाद फरवरी 2020 में इलाहाबाद उच्च न्यायालय ने जमानत दे दी थी। चौंकाने वाली बात यह है कि जिस पीड़िता ने मामला दर्ज किया था, उस पर बाद में जबरन वसूली का आरोप लगाया गया। शक्तिशाली लोगों के लिए "स्वास्थ्य कारणों" पर यह बिजली-तेज रिहाई, उमर खालिद मामले में पांच साल की प्रक्रियात्मक बाधा के बिल्कुल विपरीत है।

बिलकिस बानो: जब बलात्कारियों की रिहाई का जश्न मना

शायद सबसे चौंकाने वाला उदाहरण 2002 के गुजरात दंगों की उत्तरजीवी बिलकिस बानो का मामला था। अगस्त 2022 में, उनके सामूहिक बलात्कार और उनके परिवार के सदस्यों की हत्या के दोषी 11 लोगों को गुजरात राज्य सरकार द्वारा "छूट" (समय से पहले रिहाई) दे दी गई। रिहा होने पर उन्हें माला पहनाई गई और उनका जश्न मनाया गया। इस फैसले को न्याय की एक गहरी विफलता के रूप में देखा गया।

बिलकिस बानो द्वारा एक लंबी कानूनी लड़ाई के बाद ही सुप्रीम कोर्ट ने जनवरी 2024 में एक ऐतिहासिक फैसले में, इस छूट को "धोखाधड़ी" और "सत्ता का दुरुपयोग" कहते हुए रद्द कर दिया। उन लोगों को वापस जेल जाने का आदेश दिया गया। यह मामला एक राज्य सरकार की दोषी बलात्कारियों और हत्यारों को रिहा करने की इच्छा को उजागर करता है, जबकि वही राज्य मशीनरी (दिल्ली के मामले में) एक बिना-मुकदमे वाले कार्यकर्ता की *जमानत* का विरोध करती है। अधिक संदर्भ के लिए, Scroll.in की कवरेज देखें।

सोशल मीडिया पर गुस्सा: "प्रक्रिया ही सजा बन चुकी है"

कपिल सिब्बल द्वारा इस्तेमाल किया गया वाक्यांश "प्रक्रिया ही सजा है," सोशल मीडिया पर एक नारा बन गया है। आज की सुनवाई के बाद, एक्स (पूर्व में ट्विटर) पर प्रतिक्रियाओं की बाढ़ आ गई। "#UmarKhalidBail" और "#DelhiRiots" ट्रेंड करने लगे, और उपयोगकर्ताओं ने आक्रोश व्यक्त किया। एक यूजर ने ट्वीट किया, "पांच साल बिना मुकदमे के न्याय नहीं है, यह राज्य द्वारा किया गया अपहरण है।" एक अन्य ने पोस्ट किया, "याद दिला दें: बलात्कारियों को चुनाव के लिए पैरोल, छात्रों को भाषणों के लिए जेल। यह है नया भारत।"

मीडिया संपादकीय भी अधिक महत्वपूर्ण हो गए हैं। प्रख्यात पत्रकार राजदीप सरदेसाई ने ट्वीट किया: "तारीख पे तारीख, सुनवाई पे सुनवाई। SC को आखिरकार इस पर रोक लगानी चाहिए। न्याय में देरी न्याय से इनकार है।" जनता का गुस्सा सिर्फ उमर खालिद को लेकर नहीं है; यह एक ऐसी व्यवस्था में विश्वास के क्षरण के बारे में है जो असहमति के खिलाफ एक हथियार के रूप में इस्तेमाल होती दिख रही है।

न्याय के इंतजार का दर्द: परिवारों की अनकही पीड़ा

कानूनी तर्कों और राजनीतिक बहसों के पीछे एक गहरा मानवीय मूल्य है। पांच साल से, आरोपियों के परिवार एक दर्दनाक यात्रा पर हैं। उमर खालिद के पिता, एस.क्यू.आर. हुसैन, हर सुनवाई में एक दृढ़ उपस्थिति रहे हैं, जो एक परिवार की अटूट आशा का प्रतीक है। शरजील इमाम की मां तिहाड़ में घर का बना खाना भेजने, यादों से चिपके रहने की बात करती हैं। एक विनम्र पृष्ठभूमि से आने वाले गुलफिशा फातिमा के परिवार ने एक जटिल कानूनी दुनिया को झेला है, जिसका वे कभी हिस्सा बनने की उम्मीद नहीं करते थे।

मीरन हैदर की पत्नी ने अपने बच्चे की परवरिश करने के बारे में बात की है, उन अनुत्तरित सवालों का जवाब देते हुए कि "पापा" घर कब आएंगे। इन परिवारों ने पांच साल के मील के पत्थर खो दिए हैं—जन्मदिन, सालगिरह, और साधारण दैनिक क्षण। उनकी खामोश पीड़ा देरी में फंसी एक न्याय प्रणाली द्वारा पहुंचाई गई वास्तविक दुनिया की क्षति का एक वसीयतनामा है।

सुधार की तत्काल आवश्यकता: क्या बदलेगा यह 'सिस्टम'?

सुप्रीम कोर्ट की आज की टिप्पणियां एक स्वागत योग्य कदम हैं, लेकिन कानूनी विशेषज्ञों का तर्क है कि प्रणालीगत सुधार ही एकमात्र दीर्घकालिक समाधान है। भारत की न्यायपालिका 50 मिलियन से अधिक मामलों के बैकलॉग के नीचे दबी हुई है। उमर खालिद का मामला तत्काल आवश्यकता को उजागर करता है:

  • UAPA सुधार: धारा 43D(5) की पूर्ण समीक्षा या निरस्तीकरण, ताकि इसे "निर्दोष जब तक दोषी साबित न हो" सिद्धांत के अनुरूप लाया जा सके।
  • समयबद्ध मुकदमे: अनिवार्य, समयबद्ध मुकदमों को कानून बनाना, खासकर उन मामलों के लिए जहां कड़े कानूनों के तहत जमानत से इनकार किया जाता है।
  • न्यायिक जवाबदेही: जांच एजेंसियों को जानबूझकर की गई देरी और "फिशिंग एक्सपीडिशन" के लिए जवाबदेह ठहराने के लिए एक तंत्र।

इन मूलभूत परिवर्तनों के बिना, कार्यकर्ता और असंतुष्ट जेलों में सड़ते रहेंगे, और "प्रक्रिया" ही "सजा" बनी रहेगी।

वैश्विक निंदा: भारत के लोकतंत्र पर उठते सवाल

उमर खालिद का मामला अंतरराष्ट्रीय समुदाय की नजरों से ओझल नहीं हुआ है। उनकी लंबी हिरासत को कई वैश्विक मानवाधिकार संगठनों द्वारा चिह्नित किया गया है। मनमानी हिरासत पर संयुक्त राष्ट्र कार्य समूह ने अक्टूबर 2025 के एक बयान में, उनकी हिरासत को "अंतरराष्ट्रीय मानदंडों का उल्लंघन" कहा और उनकी तत्काल रिहाई या निष्पक्ष मुकदमे का आग्रह किया। ह्यूमन राइट्स वॉच और एमनेस्टी इंटरनेशनल ने बार-बार उनके मामले को भारत में "असहमति को दबाने" और "अल्पसंख्यकों को लक्षित करने" के एक व्यापक, खतरनाक पैटर्न के हिस्से के रूप में उद्धृत किया है।

यह वैश्विक जांच भारत की लोकतांत्रिक और न्यायिक साख को एक माइक्रोस्कोप के नीचे रखती है। जैसा कि अल जज़ीरा की रिपोर्ट है, 31 अक्टूबर की सुनवाई के नतीजे पर न केवल खालिद का परिवार, बल्कि दुनिया के सबसे बड़े लोकतंत्र में नागरिक स्वतंत्रता की स्थिति के बारे में चिंतित एक वैश्विक दर्शक भी बारीकी से नजर रख रहा है। सवाल बना हुआ है: क्या सुप्रीम कोर्ट आखिरकार देरी की इस गांठ को काटेगा, या न्याय का इंतजार जारी रहेगा?

मामले के मुख्य बिंदु

  • 27 अक्टूबर, 2025 को, सुप्रीम कोर्ट ने उमर खालिद की जमानत की सुनवाई में 5 साल की देरी के लिए दिल्ली पुलिस को फटकार लगाई।
  • अदालत ने पुलिस के और समय मांगने के अनुरोध को अस्वीकार कर दिया और अगली सुनवाई 31 अक्टूबर, 2025 के लिए निर्धारित की।
  • उमर खालिद सितंबर 2020 से दिल्ली दंगों के पीछे एक कथित "साजिश" के लिए UAPA के तहत जेल में है, और अभी तक मुकदमा शुरू नहीं हुआ है।
  • उनका मामला UAPA की धारा 43D(5) की कठोरता को उजागर करता है, जो जमानत को लगभग असंभव बना देती है।
  • इसकी तुलना गुरमीत राम रहीम जैसे दोषी बलात्कारियों से की जाती है, जिन्हें कथित तौर पर राजनीतिक कारणों से अक्सर पैरोल मिल जाती है।
  • यह मामला शरजील इमाम और गुलफिशा फातिमा सहित CAA प्रदर्शनकारियों पर एक व्यापक कार्रवाई का हिस्सा है।
  • अंतरराष्ट्रीय मानवाधिकार समूहों ने इस देरी की लोकतांत्रिक मानदंडों के उल्लंघन के रूप में निंदा की है।

सुप्रीम कोर्ट ने जमानत नहीं दी। इसके बजाय, उसने 5 साल की देरी के लिए दिल्ली पुलिस की कड़ी आलोचना की, और समय के लिए उनके अनुरोध को अस्वीकार कर दिया, और अंतिम जमानत सुनवाई 31 अक्टूबर, 2025 के लिए निर्धारित की।

उन्हें सितंबर 2020 में 2020 के दिल्ली दंगों को भड़काने की कथित "साजिश" के लिए UAPA (एक आतंक-रोधी कानून) के तहत गिरफ्तार किया गया था। UAPA की सख्त जमानत शर्तों और प्रक्रियात्मक देरी ने उन्हें बिना मुकदमे के जेल में रखा है।

UAPA गैरकानूनी गतिविधियां (रोकथाम) अधिनियम है। यह विवादास्पद है क्योंकि इसकी जमानत की धारा (धारा 43D(5)) कहती है कि यदि पुलिस के आरोप "प्रथम दृष्टया सही" लगते हैं तो जज जमानत *नहीं* दे सकता। यह जमानत मिलना लगभग असंभव बना देता है, भले ही सबूत कमजोर हों।

यह तुलना एक कथित "दोहरे मानक" को उजागर करती है। जबकि खालिद (एक बिना-मुकदमे वाला कार्यकर्ता) को 5 साल से जमानत नहीं मिली है, राम रहीम (जो राजनीतिक प्रभाव रखते हैं) जैसे दोषी बलात्कारियों और हत्यारों को अक्सर चुनावों के आसपास पैरोल पर रिहा कर दिया जाता है।

वह कई अन्य छात्र कार्यकर्ताओं के साथ सह-आरोपी है, जिनमें शरजील इमाम, गुलफिशा फातिमा और मीरन हैदर शामिल हैं, जिन्हें CAA-विरोधी प्रदर्शनों और दिल्ली दंगों से संबंधित उसी UAPA साजिश मामले में गिरफ्तार किया गया था।

फरवरी 2020 में उत्तर पूर्वी दिल्ली में सांप्रदायिक हिंसा की एक लहर थी। यह नागरिकता संशोधन अधिनियम (CAA) के खिलाफ व्यापक विरोध प्रदर्शनों के दौरान भड़की, जिसे आलोचकों का कहना है कि यह मुसलमानों के खिलाफ भेदभावपूर्ण है। हिंसा में 53 लोग मारे गए और सैकड़ों घायल हुए।

खालिद के वकील कपिल सिब्बल द्वारा दिया गया यह तर्क है कि UAPA जैसे सख्त कानून और अंतहीन देरी का उपयोग करके, राज्य किसी व्यक्ति को मुकदमा चलाने से *पहले* ही वर्षों की कैद की सजा दे सकता है। लंबी, खिंचने वाली कानूनी प्रक्रिया ही दंड बन जाती है, भले ही व्यक्ति अंततः निर्दोष पाया जाए।

Share:

Islamic Tarikh: Islam Ke Dusre Khalifa Hazrat Umar Farooq Razi Allahu Anahu (Part-14). Hayat-E-Sahaba Series-2.

Islamic Tarikh: Islam Ke Dusre Khalifa Hazrat Umar Farooq Razi Allahu Anahu (Part-14). Hayat-E-Sahaba Series-2.

Hayat-E-Sahaba: Hazrat Umar Farooque Razi Allahu Anahu. Part 14
Hayat-E-Sahaba, taraweeh ki Namaj ki shuruwat, Tarawih ki namah ki rakat, taraweeh aur Second Khalifa, Seerat-E-Sahaba, Umar Farooque, Islamic rulers,
Hayat-E-Sahaba: Social Mandate.

حیات صحابہ کرام:
خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: قسط نمبر 14
اسلامی اعمال اور سماجی مینڈیٹ
تراویح
رمضان المبارک کے مہینے میں حضورؐ کا یہ معمول تھا کہ آپ عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں قیام فرماتے اور اضافی نمازیں ادا کرتے۔  ایک رات جب مومنین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اضافی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز ادا کی۔
  اگلی رات مزید مسلمانوں نے رات کی نماز کے بعد اضافی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں قیام کیا۔ 
تیسری رات اضافی نماز ادا کرنے کے لیے مسلمانوں کا ایک اور بھی بڑا مجمع تھا۔
چوتھی رات جب مومنین کی ایک بڑی تعداد اضافی نماز پڑھنے کے لیے جمع ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی نماز نہیں پڑھی اور عشاء کی نماز کے فوراً بعد اپنے گھر تشریف لے گئے۔  اگلی راتوں کے لیے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ شب کے فوراً بعد اعتکاف فرمایا اور بتدریج اضافی نماز پڑھنے والے مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ 
پھر ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اضافی نماز پڑھی۔  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ راتوں کے لیے اضافی نمازوں میں وقفے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا کہ میں نے ان نمازوں کو اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ مسلمان انہیں شریعت کے مطابق فرض نہ سمجھ لیں اور یہ مسلمانوں کے لیے بوجھ بن جائے۔ 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ ایسی نمازیں واجب نہیں ہیں لیکن اگر کوئی اپنی مرضی سے پڑھے گا تو اس پر اللہ کی رحمت ہوگی۔
اس کے بعد یہ رواج بن گیا کہ بعض مسلمانوں نے رمضان کے مہینے میں اپنی طرف سے اضافی نمازیں ادا کیں، جب کہ بعض نے نہیں کی اور رات کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے۔
جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو دیکھا کہ بہت سے مسلمان رات کی نماز کے بعد اضافی نماز پڑھنے کے لیے مسجد نبوی میں جمع ہیں۔  ہر شخص نے اپنی مرضی کے مطابق نماز پڑھی، اور رکعتوں کی تعداد کے بارے میں کوئی تصریح نہیں تھی۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اگر نماز باجماعت ادا کی جائے اور رکعتوں کی تعداد مقرر کر دی جائے تو یہ صحیح سمت میں اصلاح ہو گی۔ 
صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 635ء میں یہ ہدایات جاری کیں کہ ایسی اضافی نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنے والے قرآن پڑھنے والے کی امامت میں ادا کی جائیں جو ہر رات قرآن مجید کا کافی حصہ پڑھے، تاکہ پورا قرآن ایک ہفتہ میں مکمل ہو جائے یا  تو  یہ طے کیا گیا کہ ان نمازوں میں دس دس تسلیمات ہوں جن میں سے ہر دو دو رکعتیں ہوں اور ہر چار رکعت کے بعد ایک روضہ یا وقفہ ہو۔  اس طرح کے وقفوں کی وجہ سے یہ اضافی نمازیں تراویح کے نام سے مشہور ہوئیں۔
یہ ہدایات تمام مسلم سلطنتوں میں پھیلائی گئیں۔  بعض ایسے بھی تھے جن کا خیال تھا کہ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نمازیں فرض نہیں کی تھیں، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسی نمازیں پڑھنا ناجائز ہے۔
حضرت  عمر رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی کہ وہ ان نمازوں کو واجب نہیں کہہ رہے تھے۔  ان نمازوں کو اپنی صوابدید پر پڑھنا یا نہ پڑھنا کسی کے لیے کھلا تھا۔  اگر کوئی ان نمازوں کو پڑھے تو اس کا کریڈٹ جائے گا، لیکن اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس کی کوئی بدنامی نہیں ہوگی۔  انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی ہدایات صرف مشاورتی کردار کی ہیں کسی بھی طرح سے اسلام کے منافی نہیں ہیں۔  اگر وہ مسلمانوں کو وہ کام کرنے کی ہدایت کرتا جس سے اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا تو وہ اسلام کے خلاف ہوتا، اگر وہ چاہتا کہ مسلمان ان کے اختیار میں کوئی ایسا کام کریں جو اندرونی طور پر اچھا ہو اور اس سے منع نہ کیا گیا ہو، تو یہ منافی نہیں تھا۔  اسلام کی طرف، لیکن دوسری طرف اسلام کی روح کے مطابق تھا۔
گورنر کے طور پر تقرری کے لیے حضرت عمر رضی اللہ علیہ کا معیار:
سیاسی اور حکومتی اقدامات
انتظامیہ کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر کے طور پر تقرری کے لیے امیدواروں کے انتخاب کے لیے انتہائی مشکل معیارات طے کیے تھے۔  کچھ ایسے واقعات ہمارے سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کے انتخاب میں کس قدر محتاط تھے۔
روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے گورنر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔  نامزد گورنر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی تقرری کے احکامات لینے آئے۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سیکرٹری سے آرڈر کا مسودہ تیار کرنے کو کہا۔  جب حکم جاری ہو رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا بیٹا آیا اور ان کی گود میں بیٹھ گیا۔  عمر نے بچے کو پیار کیا۔  اس پر صحابی نے کہا کہ امیر المومنین آپ کے بچے آپ کے پاس بے فکر آتے ہیں لیکن میرے بچے میرے قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے۔

اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ کے اپنے بچے آپ سے ڈریں گے تو لوگ آپ سے مزید ڈریں گے، مظلوم آپ کے پاس اپنی شکایتیں پہنچانے سے کترائیں گے، اس لیے آپ گورنر بننے کے لائق نہیں ہیں، اور حکم  گورنر کی حیثیت سے آپ کی تقرری کے بارے میں اسٹینڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔"
ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک صحابی کو گورنر بنانے کا سوچا۔  تقرری کے احکامات جاری ہونے سے پہلے صحابیؓ نے حضرت عمرؓ سے ملاقات کی اور گورنر کی حیثیت سے تقرری کی درخواست کی۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
"میں آپ کو اپنے اکاؤنٹ سے گورنر مقرر کرنے جا رہا تھا، لیکن اب جب کہ آپ نے خود ہی اس تقرری کے لیے کہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ جیسا کہ آپ نے دفتر کے لیے کہا ہے، مجھے ڈر ہے کہ آپ اسے بطور گورنر استعمال کریں گے۔  ایک منفعت کا عہدہ ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ میں صرف ایسے آدمیوں کو مقرر کروں گا جو اس عہدے کو بوجھ سمجھیں جو اللہ کے نام پر اس نے ان کے سپرد کیا ہے۔"
کوفہ کے لیے گورنر کا تقرر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے درد سر کا مسئلہ بن گیا۔  اگر اس نے کسی ایسے آدمی کو مقرر کیا جو سخت گیر اور سخت تھا تو لوگوں نے اس کے خلاف شکایت کی۔
آپ نے نرم دل آدمی مقرر کیا تو لوگوں نے اس کی نرمی کا فائدہ اٹھایا۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کے ساتھی اسے کوفہ کے گورنر کے عہدے کے لیے کسی صحیح آدمی کے انتخاب کے بارے میں مشورہ دیں۔  ایک آدمی نے کہا کہ میں کسی ایسے آدمی کو تجویز کر سکتا ہوں جو اس کام کے لیے سب سے موزوں شخص ہو، عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے، اس شخص نے کہا، عبداللہ بن عمر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تم پر لعنت کرے۔  کہ میں خود کو اس تنقید کے سامنے لاؤں کہ میں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اردگرد عثمان، علی، زبیر، طلحہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جیسے نامور لوگ تھے۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی دفتر پیش نہیں کیا۔  کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے اتنے بڑے لوگوں کو گورنر کیوں نہیں بنایا؟

حضرت  عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، "یہ معززین اپنی خوبیوں اور دیگر خوبیوں کی وجہ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ میں ان کو گورنر نہیں بناتا تاکہ کسی کوتاہی کی وجہ سے وہ اس مقام سے محروم ہو جائیں جو اس وقت ان کو حاصل ہے۔"
ایک دفعہ ہیمس کے گورنر کا عہدہ خالی ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پیش کرنے کا سوچا۔  عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس کو بلایا اور کہا کہ میں آپ کو حمص کا گورنر مقرر کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے ایک غلط فہمی ہے۔ 
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ کیا ہے؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کسی وقت تم یہ سمجھو گے کہ آپ کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور آپ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں گے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب آپ کو ایسی بدگمانی ہے تو میں نوکری قبول نہیں کروں گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر کہا کہ مجھے مشورہ دیں کہ میں کس قسم کا آدمی مقرر کروں؟
  ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایسے آدمی کو مقرر کرو جو نیک ہو اور جس کے بارے میں تمہیں کوئی شکوہ نہ ہو۔
کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ گورنر کی تقرری کے لیے آپ کا معیار کیا ہے؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ آدمیوں کے درمیان ہو تو سردار جیسا نظر آئے اگرچہ وہ سردار نہ ہو اور جب وہ سردار ہو تو ایسا ہو جیسے وہ ان میں سے ہو۔
  ان شاءاللہ جاری رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS