find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Ashre Zilhijja (ذی الحجہ ) Ke 10 Dino ki Fazilat.

Ashre Zilhijja Ki 10 Dino Fazilat Aur In dino Ki jane wale Amal.

عشرۃ ذی الحجۃ۔۔۔۔ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ۔
Kaise Janwer Ki Qurbani Hoti hai?
 یوں تو اللہ ذوالجلال والاکرام کی رحمت کی بارش ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں جب اللہ ارحم الراحمین کے رحم و کرم کے سمندر سے دیا سیراب نہ ہوتی ہو، مگر بعض ایام، بعض عشرے اور بعض ماہ ایسی خصوصیتیں رکھتے ہیں جو دوسرے دِنوں میں موجود نہیں۔
منجملہ ان کے عشرۂ ذی الحجہ ہے اس میں خدائے ذوالجلال والاکرام کے بحرِ رحمت کی امواج میں بے انتہا تلاطم پیدا ہو جاتا ہے اور رحمت کی فراوانی خشک وادیوں کو سیراب اور مردہ بیابانوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ قارئین کے فائدہ کے لئے قرآن و حدیث سے کچھ عرض کرتا ہوں۔ ممکن ہے کوئی تشنۂ ثواب اس سے فائدہ اُٹھائے اور میرے لئے باعثِ اجر و ثواب بن جائے۔
یہ وہ عشرہ ہے جس کی بزرگی اور فضیلت قرآن اور حدیث سےثابت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس عشرہ کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:۔
﴿وَالفَجرِ‌ ﴿١﴾ وَلَيالٍ عَشرٍ‌ ﴿٢﴾... سورة الفجر
قسم ہے صبح (یوم النحر) کی اور (ذی الحجہ) دس راتوں کی۔
جس چیز کی قسم کھائی جائے وہ مکرم و معظم ہوتی ہے۔ تو عشرہ ذی الحجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مکرم و معظم ہوا۔ لہٰذ ااس میں اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات سے مستفیض ہونا چاہئے، جیسا کہ ارشاد ہے:
﴿وَيَذكُرُ‌وا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومـٰتٍ...﴿٢٨﴾... سورة الالحج
یعنی یاد کریں اللہ تعالیٰ کا نام معلوم دنوں میں۔
معلوم دنوں سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے جیسا کہ بخاری میں ابن عباسؓ سے مروی ہے۔
پس قرآن مجید سے اس عشرہ کی عظمت اور بزرگی ثابت ہوئی اور اس میں کثرتِ ذکر و عبادت کی ترغیب بھی ثابت ہوئی۔
اور فریضہ حج جو ارکانِ خمسہ میں داخل ہے اور بے انتہائ محاسن و فضائل کا حامل ہے۔ یہ بھی اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بھی اس کی فضیلت پر دال ہے۔
اور قربانی جو حب خلیلؑ کی یادگار اور خالق پر مخلوق کے ایثار اور جاں فشانی کی بے مثال دلیل ہے۔ اسی عشرہ میں کی جاتی ہے۔ یہ بھی اس عشرہ کی فضیلت کی دلیل ہے۔
عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت احادیث سے
پہلی حدیث:۔
بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی اللہ علیه وسلم ما من أیام ۔۔۔۔ العمل الصالح فیهن أحب الی الله ۔۔۔۔ من هذہ الأیام العشرة، قالوا: یا رسول الله ولا الجهاد في سبیل اللہ؟ قال: ولا الجهاد في سبیل الله إلا رجل خرج بنفسه وما له فلم یرجع من ذلك بشيء (رواہ البخاری)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دس دنوں کے اعمال صالحہ جتنے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اتنے اور دِنوں کے نہیں یعنی ان دنوں کے اعمال نماز روزہ، تسبیح، تہلیل، تکبیر اور صدقہ خیرات وغیرہ اللہ عزوجل کو بہت ہی محبوب ہیں لہٰذا ان دنوں میں بندگی و عبادت میں زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔
صحابہ نے عرض کیا کہ جہاد بھی ان دنوں کے اعمال صالحہ کے برابر نہیں ہوتا؟ فرمایا: جہاد بھی برابر نہیں ہو سکتا۔ ہاں وہ مجاہد جو جان مال لے کر جہاد کے لئے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لائے یعنی خود بھی شہید ہو جائے اور مال بھی خرچ ہو جائے۔ ایسا جہاد ان دِنوں کے اعمال صالحہ کے برابر ہو سکتا ہے۔
اس صحیح حدیث میں اس عشرہ کی کتنی بزرگی اور عظمت ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ جو بندہ کی ایک ایک نیکی کو اتنا محبوب رکھتا ہے کہ ایک ایک نیکی پر اس کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ ہزاروں گا تک ثواب دیتا ہے۔ اس عشرہ کی نیکی کو بہت محبوب رکھتا ہے۔ یہ بحرِ رحمت کی موجیں ہیں جو عاجز بندہ کو اسکے بحرِ رحمت س خطِ وافر لینے کے لئے پکار رہی ہیں۔ کاش کہ انسان ایسے وقتوں کی قدر کرے اور کمربستہ ہو کر کچھ کما لے۔ خوش قسمت ہی وہ لوگ جو ایسے وقتوں میں بحرِ رحمت میں غوط لگاتے ہیں۔
دوسری حدیث:
عن ابن عمر قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ما من أیام أعظم عند الله ولا العمل فیهن أحب الی الله عزوجل من هذہ الأیام یعنی من العشر
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دِس دنوں سے بزرگ و برتر اور کوئی دن نہیں ہیں نہ ان دنوں کے عمل کے برابر کسی اور دنوں کا عمل اللہ کو محبوب ہے۔
تیسری حدیث:
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی الله علیه وسلم ما من أیام أعظم عند الله سبحانه ولا أحب إلیه العمل فیهن من هذه الأیام العشر فأکثروا فیهن من التهلیل والتکبیر والتحمید (رواہ احمد)
ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ سے بڑھ کر اللہ سبحانہٗ کے نزدیک اور کوئی دن نہیں ہیں اور ان دنوں کے اعمال جیسے اللہ کو پیارے ہیں اور کوئی عمل نہیں۔ لہٰذا ان دِنوں میں لا إلہ إلا اللہ، اللہ أکبر اور الحمد للہ کثرت سے پڑھنا چاہئے۔
چوتھی حدیث:
عن ابی هریرة قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ما من أیام أحب الی الله ان یتعبد له فیها من عشر ذی الحجة، یعدل صیام كل یوم منها بصیام سنة وقیام كل لیلة منها بقیام لیلة القدر، رواہ الترمذي وابن ماجۃ وقال الترمذي إسنادہ ضعیف
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ کی بندگی باقی ایام کی بندگی سے بہت محبوب ہے۔ عشرہ ذی الحجہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔ اگرچہ اس حدیث کو امام ترمذی نے ضعیف کہا ہے۔
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS