find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Do Mahine Ka Hamal Sakit Hone Par Aane wala Khoon Nafas Ka hoga to kya Roze Aur Namaj rakh sakti hai?

Do Mahine ka Hamal Sakit Hone Par Kya Aurat Namaj Aur Roze Rakh Sakti Hai?
دو ماہ کا حمل ساقط ہونے پر آنے والا خون نفاس ہوگا ؟
سوال : میں حاملہ تھی اور دو ماہ بعد حمل ساقط ہوگيا لھذا میں نے ایک محترمہ سے اس کے بارہ میں شرعی حکم پوچھا کہ آيا میں رمضان کے روزے رکھ سکتی اور نماز ادا کرسکتی ہوں ، تواس کا جواب تھا جی ہاں آپ روزے رکھیں اور نماز بھی ادا کریں ، اس لیے کہ ابھی بچے میں روح نہیں پھونکی گئي تھی ، لھذا اسے استحاضہ ہی شمار کیا جائے گا ، لھذا بالفعل میں نے روزے بھی رکھے اورنمازيں بھی ادا کیں۔
لیکن مجھے ایک اور ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کو روزوں کی قضاء کرنا ہوگي ، اب آپ بتائيں کہ صحیح حکم کیا ہے؟
جواب؛  سائلہ بہن آپ نے اس مسئلہ میں جو دو قول سنے ہیں اس کی وجہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے ، اس لیے اس میں اہل علم کا صحیح قول یہی ہے کہ جب عورت متخلق یعنی وہ بچہ جس کی تخلیق واضح ہوچکي ہو کا حمل ساقط کرے تو وہ نماز روزہ چھوڑے گي اور اسے نفاس کا خون شمار کیا جائے گا ۔
لیکن اگر وہ متخلق یعنی بچے کی شکل وصورت واضح نہ ہوئي ہو اور یہ حمل ساقط ہوجائے تو اسے نفاس شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ خون فاسد ہوگا اور عورت نماز روزہ کی ادائيگي کرے گي ، کم از کم مدت جس میں بچے کی تخلیق اور شکل و صورت واضح ہوتی ہے وہ اکیاسی ( 81 ) یوم ہیں ۔

اللجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) کے علماء کرام کہتے ہیں :
جب بچے کی تخلیق ہوچکی ہو اور اس کے ا‏عضاء ہاتھ پاؤں اورسر وغیرہ واضح ہو چکے ہوں ، تو اس حالت میں خون آتا رہے توچالیس یوم تک خون آنے کی حالت میں خاوند کے لیے بیوی سے جماع کرنا حرام ہے ، لیکن اگر چالیس یوم سے قبل ہی خون بند ہوجائے تو بیوی کے غسل کے بعد اس سےجماع کرنا جائز ہے ۔

لیکن اگر بچے کے اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہوں اور اس کی تخلیق واضح نہیں ہوئي تو اس حالت میں حمل ساقط ہونے خاوند اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے چاہے خون آتا بھی ہو کیونکہ یہ خون نفاس کا خون شمار نہیں ہوگا ، بلکہ یہ خون فاسد ہے اس حالت میں وہ نماز بھی ادا کرے گي اور روزے بھی رکھے گی ۔
دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 5 / 422 ) ۔

اورشيخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

جب عورت ایسا حمل ساقط کرے جس میں انسان کی تخلیق واضح ہوچکی ہو اور سر پا‎‎ؤں اور ہاتھ وغیرہ واضح ہوچکے ہوں تو اسے نفاس والی شمار کیا جائے گا ، اور اس کے احکام بھی نفاس والی عورت کے ہوں گے نہ تو وہ نماز ادا کرے گي اور نہ ہی روزہ رکھے گي ، اور نہ ہی اپنے خاوند سے جماع کے لیے حلال ہے لیکن جب چالیس یوم مکمل ہوجائيں یا پھر اس سے قبل ہی پاک ہوجائے تو اس پر غسل کرکے نماز ادا کرنی اور روزہ رکھنا واجب ہوگا ، اور اپنے خاوند کے لیے بھی حلال ہوجائے گی ۔۔۔

لیکن جب عورت کا ساقط کردہ صرف ایک گوشت کا لوتھڑا ہوجس میں شکل وصورت واضح نہ ہوئي ہو یا پھر جما ہوا خون ہو تو اس صورت میں حمل ساقط ہونے کے بعد آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا اسے نفاس کا حکم نہیں دیا جائے گا اورنہ ہی وہ حیض کے حکم میں ہوگا ۔

لھذا وہ عورت نماز بھی ادا کرے گي اور روزے بھی رکھے گی ، اور اپنے خاوند کے جماع کے لیے بھی حلال ہوگي ۔۔۔ اس لیے کہ وہ اہل علم کے ہاں استحاضہ کے حکم میں ہے ۔
دیکھیں : فتاوی الاسلامیۃ ( 1 / 243 ) ۔

اورشیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
اہل علم کا کہنا ہے : اگر تو انسان کی شکل وصورت واضح ہوچکی ہو تو اس حالت میں ساقط ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگا ، جس میں عورت نہ تو نماز ادا کرے گي اور نہ ہی روزہ رکھے گی ، اورخاوند بھی پاک صاف ہونے تک اس سے اجتناب کرے گا ۔

لیکن اگر ساقط ہونے میں تخلیق واضح نہ ہو تو اس حالت میں آنے والا خون نفاس شمار نہيں ہوگا بلکہ وہ خون فاسد ہے جس کی بنا پر نماز روزہ ترک نہیں کرے گی اور نہ ہی کچھ اور ۔

اہل علم کا کہنا ہے : بچے کی شکل وصورت واضح ہونے کی کم از کم مدت اکیاسی ( 81 ) یوم ہیں ۔۔۔۔
دیکھیں : فتاوی المراۃ المسلمۃ ( 1 / 304 – 305 )
واللہ اعلم .

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS