Hazrat Khalid bin Walid vs Musaylimah – Truth vs Lies.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-36/40.
When the Sword of Allah struck down falsehood.
How Khalid bin Walid (RA) Crushed Musaylimah the Liar – Untold Secrets of Yamama.
The Legendary Clash: Khalid bin Walid vs Musaylimah – The Battle That Changed History.
Epic Showdown: The Sword of Allah vs Musaylimah – A Turning Point in Islamic History.
The Battle of Yamama was a decisive conflict in early Islamic history where Hazrat Khalid bin Walid (RA), famously known as The Sword of Allah, led the Muslim army against Musaylimah the Liar, a false prophet who misled thousands. This battle not only showcased Khalid’s unmatched military genius but also secured the unity of the Muslim Ummah after the passing of Prophet Muhammad (ﷺ). The victory at Yamama became a cornerstone in preserving the faith and the Qur’an, as many companions who had memorized it were martyred during the fight.
Discover the epic Battle of Yamama where Hazrat Khalid bin Walid (RA), the fearless commander known as The Sword of Allah, defeated Musaylimah the Liar. This historic clash preserved the unity of Islam, safeguarded the Qur’an, and remains one of the most legendary battles in Islamic history. Learn how Khalid’s strategy, bravery, and faith changed the course of history forever.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| The battle that safeguarded Islam’s future. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (36)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مسیلمہ میں جنگ:
مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا تھا اور سارا مال اسباب لشکر کے پیچھے رکھا تھا، اس کا لشکر بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار اور بعض دوسری روایتوں کے رو سے ستر ہزار تھا، ایسے عظیم الشان لشکر کا ذکر عربوں نے اس سے پہلے بہت ہی کم سنا تھا۔
حضرت خالدبن ولید ؓ اسی روز مسیلمہ کی فوج کے مقابلے میں آ گئے، دونوں لشکر میدان جنگ میں کھڑے آخری اعلان کے منتظر تھے، ہر ایک کو یقین تھا کہ فتح مندی و کامرانی اسی کے حصے میں آئے گی اور وہ دوسرے لشکر کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ یمامہ کا دن اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلام میں ایک منفرد دن ہے، کیونکہ اس روز اسلام اور نبوت کاذبہ کا آخری مقابلہ ہونے والا تھا۔
مسیلمہ کی طرف یمن، عمان، مہرہ، بحرین، حضرموت اور عرب کی جنوبی جانب، مکہ اور طائف سے خلیج عدن تک کے تمام علاقوں کے لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں، ایرانی بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے، مسیلمہ کا لشکر اس پر کامل ایمان رکھتا تھا اور اس کی راہ میں کٹ مرنے کے لیے تیار تھا، علاوہ بریں حجاز اور عرب کے جنوبی علاقوں کی دیرینہ دشمنی بھی مسلمانوں کے خلاف اپنی ہیئت کے لحاظ سے کچھ کم طاقت ور نہ تھی، اس کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ تھے جو بلا شبہ اپنے زمانے کے سالار اعظم تھے، لشکر میں کلام اللہ کے حافظوں اور قاریوں کی بھی کمی نہ تھی، یہ تمام لوگ اس جذبے سے میدان جنگ میں آئے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اس کے دین کی مدافعت مومن کا فرض اولین ہے اور علم و بصیرت رکھنے والے کے لیے تو یہ فرض عین ہے، اس جذبے نے ان کے ولولوں اور امنگوں کو بہت بڑھا دیا تھا اور وہ تعداد میں مرتدین سے بہت کم ہونے کے باوجود عزم و ہمت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔
آغازِ جنگ میں مسلمان بنی حنفیہ کے مقابلے میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور پیچھے ہٹنے لگے، مسلمانوں نے پیچھے ہٹنے کے باوجود پہلے ہی ہلے میں بنی حنفیہ کے سینکڑوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا تھا، ان قتل ہونے والوں میں سب سے پہلا شخص نہار الرجال تھا، جو بنی حنفیہ کے مقدمہ پر مقرر تھا، اسے حضرت عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن خطاب نے قتل کیا تھا، اس کے قتل سے فتنہ مسیلمہ کے سب سے بڑے سرغنے کا خاتمہ ہو گیا۔
حضرت خالدبن ولید ؓ کی حکمت عملی:
لشکر اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود حضرت خالدؓ کے عزم و ثبات میں مطلق کمی نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کاخیال پیدا نہ ہوا، انہوں نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ لشکر کے پیچھے ہٹنے کا سبب فخر و مباہات کا وہ جذبہ تھا جو مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں پیدا ہو گیا تھا اور جس کے باعث ان میں کمزوری راہ پا گئی تھی، یہ خیال آتے ہی انہوں نے پکار کر اپنے لشکر سے کہا:
"اے لوگو! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ اور اسی حالت میں دشمن سے لڑو، تاکہ ہم دیکھ سکیں کس قبیلے نے لڑائی میں بہادری کا سب سے اچھا مظاہرہ کیا۔"
مجاہدین اسلام کا عزم و ثبات:
حضرت خالدؓ کے اس حکم کا خاطر خواہ اثر ہوا اور ہر قبیلے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا، آخر مسلمانوں کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے فخر و مباہات اور تعلی کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ نامناسب تھا، چنانچہ انصار کے ایک سردار ثابت بن قیس نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: " اے مسلمانو! تم نے بہت بری مثال قائم کی ہے۔ "
پھر اہل یمامہ کی طرف اشارہ کر کے کہا:
اے اللہ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں
اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے میں اس سے بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں،
اس کے بعد وہ تلوار سونت کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور بڑی بہادری سے لڑنے لگے، وہ لڑتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
" میری تلوار کا مزہ چکھو، میں تمہیں صبر و استقلال کا حقیقی نمونہ دکھاؤں گا۔"
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مسیلمہ میں جنگ:
مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا تھا اور سارا مال اسباب لشکر کے پیچھے رکھا تھا، اس کا لشکر بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار اور بعض دوسری روایتوں کے رو سے ستر ہزار تھا، ایسے عظیم الشان لشکر کا ذکر عربوں نے اس سے پہلے بہت ہی کم سنا تھا۔
حضرت خالدبن ولید ؓ اسی روز مسیلمہ کی فوج کے مقابلے میں آ گئے، دونوں لشکر میدان جنگ میں کھڑے آخری اعلان کے منتظر تھے، ہر ایک کو یقین تھا کہ فتح مندی و کامرانی اسی کے حصے میں آئے گی اور وہ دوسرے لشکر کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ یمامہ کا دن اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلام میں ایک منفرد دن ہے، کیونکہ اس روز اسلام اور نبوت کاذبہ کا آخری مقابلہ ہونے والا تھا۔
مسیلمہ کی طرف یمن، عمان، مہرہ، بحرین، حضرموت اور عرب کی جنوبی جانب، مکہ اور طائف سے خلیج عدن تک کے تمام علاقوں کے لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں، ایرانی بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے، مسیلمہ کا لشکر اس پر کامل ایمان رکھتا تھا اور اس کی راہ میں کٹ مرنے کے لیے تیار تھا، علاوہ بریں حجاز اور عرب کے جنوبی علاقوں کی دیرینہ دشمنی بھی مسلمانوں کے خلاف اپنی ہیئت کے لحاظ سے کچھ کم طاقت ور نہ تھی، اس کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ تھے جو بلا شبہ اپنے زمانے کے سالار اعظم تھے، لشکر میں کلام اللہ کے حافظوں اور قاریوں کی بھی کمی نہ تھی، یہ تمام لوگ اس جذبے سے میدان جنگ میں آئے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اس کے دین کی مدافعت مومن کا فرض اولین ہے اور علم و بصیرت رکھنے والے کے لیے تو یہ فرض عین ہے، اس جذبے نے ان کے ولولوں اور امنگوں کو بہت بڑھا دیا تھا اور وہ تعداد میں مرتدین سے بہت کم ہونے کے باوجود عزم و ہمت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔
آغازِ جنگ میں مسلمان بنی حنفیہ کے مقابلے میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور پیچھے ہٹنے لگے، مسلمانوں نے پیچھے ہٹنے کے باوجود پہلے ہی ہلے میں بنی حنفیہ کے سینکڑوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا تھا، ان قتل ہونے والوں میں سب سے پہلا شخص نہار الرجال تھا، جو بنی حنفیہ کے مقدمہ پر مقرر تھا، اسے حضرت عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن خطاب نے قتل کیا تھا، اس کے قتل سے فتنہ مسیلمہ کے سب سے بڑے سرغنے کا خاتمہ ہو گیا۔
حضرت خالدبن ولید ؓ کی حکمت عملی:
لشکر اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود حضرت خالدؓ کے عزم و ثبات میں مطلق کمی نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کاخیال پیدا نہ ہوا، انہوں نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ لشکر کے پیچھے ہٹنے کا سبب فخر و مباہات کا وہ جذبہ تھا جو مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں پیدا ہو گیا تھا اور جس کے باعث ان میں کمزوری راہ پا گئی تھی، یہ خیال آتے ہی انہوں نے پکار کر اپنے لشکر سے کہا:
"اے لوگو! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ اور اسی حالت میں دشمن سے لڑو، تاکہ ہم دیکھ سکیں کس قبیلے نے لڑائی میں بہادری کا سب سے اچھا مظاہرہ کیا۔"
مجاہدین اسلام کا عزم و ثبات:
حضرت خالدؓ کے اس حکم کا خاطر خواہ اثر ہوا اور ہر قبیلے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا، آخر مسلمانوں کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے فخر و مباہات اور تعلی کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ نامناسب تھا، چنانچہ انصار کے ایک سردار ثابت بن قیس نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: " اے مسلمانو! تم نے بہت بری مثال قائم کی ہے۔ "
پھر اہل یمامہ کی طرف اشارہ کر کے کہا:
اے اللہ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں
اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے میں اس سے بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں،
اس کے بعد وہ تلوار سونت کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور بڑی بہادری سے لڑنے لگے، وہ لڑتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
" میری تلوار کا مزہ چکھو، میں تمہیں صبر و استقلال کا حقیقی نمونہ دکھاؤں گا۔"
وہ اسی طرح بے جگری سے لڑتے رہے، ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخم نہ لگے ہوں، آخر اسی طرح لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ حضرت براء بن مالک ان صنادید عرب میں سے تھے جو پیٹھ دکھانا جانتے ہی نہ تھے، جب انہوں نے مسلمانوں کو بھاگتے دیکھا تو وہ تیزی سے کود کر ان کے سامنے آ گئے اور کہا: "اے مسلمانو! میں براء بن مالک ہوں، میری پیروی کرو۔" مسلمان ان کی بہادری اور شجاعت سے خوب واقف تھے، ان کی ایک جماعت براء کے ساتھ ہولی، وہ اسے لے کر دشمن کے مقابلے میں آ گئے اور اس بہادری سے لڑے کہ دشمن کو پیچھے ہٹتے ہی بن پڑی، عین لڑائی کے دوران میں یہ اتفاق ہوا کہ سخت آندھی آ گئی اور ریت اڑ اڑ کر مسلمانوں کے چہروں پر پڑنے لگی، چند لوگوں نے اس پریشانی کا ذکر زیدؓ بن خطاب سے کیا اور پوچھا کہ اب کیا کریں۔
انہوں نے جواب میں کہا: واللہ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا، جب تک دشمن کو شکست نہ دے لوں، یا اللہ مجھے شہادت عطا نہ فرمائے، اے لوگو! آندھی سے بچاؤ کی خاطر اپنی نظریں نیچی کر لو اور ثابت قدم رہ کر لڑو، یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور دشمن کی صفوں میں گھس کر بے جگری سے لڑنے لگے، ان کا دستہ بھی ان کے پیچھے ثابت قدمی سے لڑ رہا تھا، آخر ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پورے ہو گئے اور انہوں نے اسی طرح لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔
حضرت ابو حذیفہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے:
"اے اہل قرآن! اپنے افعال کے ذریعے سے قرآن کو عزت بخشو، پھر خود بھی دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے، ان کی شہادت کے بعد جھنڈا ان کے غلام سالم نے اٹھایا اور کہا: اگر آج ثابت قدم نہ رہوں تو میں بدترین حامل قرآن ہوں گا، چنانچہ وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
ان آوازوں نے جو ایمان و یقین سے بھرپور قلوب سے نکل رہی تھیں، مسلمانوں کے لشکر میں بہادری کی ایک نئی روح پھونک دی، زندگی ان کی نظروں میں حقیر بن کر رہ گئی اور شہادت کی تمنا ہر دل میں چٹکیاں لینے لگی، چنانچہ وہ بے جگری سے لڑے اور تھوڑی دیر میں مسیلمہ کے لشکر کو اس کی پہلی جگہ پر لا کھڑا کیا۔
جہاں مسلمان دین حق کی حفاظت اور حصول جنت کی خاطر لڑ رہے تھے، وہاں مسیلمہ کا لشکر اپنے وطن، حسب و نسب اور ایسے کمزور عقیدے کی خاطر لڑ رہا تھا جو ان کے نزدیک وطن اور حسب و نسب سے بھی بہت کم درجے کا تھا، اسی لیے مسلمانوں نے بنو حنفیہ سے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور انتہائی بے جگری سے لڑے۔
======> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment