Muslema ke Khilaf Hazrat Khalid bin Walid Razi Allahu Anahu Ki Fauj.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-35/40.
Yamama: Where courage met destiny.
Khalid bin Walid vs Musaylimah.
Sword of Allah Islamic battles.
Khalid bin Walid Battle of Yamama.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| Islamic History. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (35)
جنگ یمامہ:
مسیلمہ کے خلاف حضرت خالد بن ولید ؓ کی چڑھائی:
بطاح سے حضرت خالدؓ بن ولید اپنے لشکر اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی بھیجی ہوئی کمک لے کر بنی حنفیہ کے متنبی مسیلمہ بن حبیب سے جنگ کرنے کے لیے یمامہ روانہ ہوئے، جو کمک حضرت ابوبکرؓ نے بھیجی تھی وہ تعداد اور قوت میں حضرت خالدؓ کے اصل لشکر سے کم نہ تھی، اس میں ان مہاجرین اور انصار کے علاوہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار سے لڑائیاں کی تھیں، ان قبائل کے لوگ بھی شامل تھے جن کا شمار عرب کے طاقتور اور جنگجو قبیلوں میں ہوتا تھا، انصار ثابت بن قیس اور براء بن مالک کے زیر سرکردگی تھے اور مہاجرین ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن خطاب کے ماتحت۔ دوسرے قبائل میں سے ہر قبیلے کا سردار علیحدہ تھا جسے حضرت ابوبکرؓ نے اس کی حسن کارکردگی کے باعث اس عہدے پر مقرر فرمایا تھا، وہ جانتے تھے کہ جنگ کے وقت چالیس ہزار بنو حنفیہ مسیلمہ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں گے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس لئے اس وقت مدینہ کی جانب سے بھی بہترین آدمیوں کو جو قیادت اور جنگ کا کامل تجربہ رکھتے ہوں، محاذ جنگ پر نہ بھیجا گیا تو ان مرتدین کا مقابلہ بے حد دشوار ہو جائے گا۔
ان لوگوں میں جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کی امداد کے لیے روانہ کیا تھا، قرآن مجید کے حافظوں اور قاریوں کی بھی بھاری تعداد شامل تھی، اسی طرح ایک خاص دستہ ان صحابہ کا تھا جنہوں نے جنگ بدرمیں حصہ لیا تھا، ایسا کرنا حضرت ابوبکرؓ کی اس پالیسی کے خلاف تھا جو انہوں نے اہل بدر کے متعلق وضع کی تھی، وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں جنگوں میں اہل بدر کو استعمال نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اعمال کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہو جائیں، لیکن اس موقع پر نازک صورتحال کے پیش نظر انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اہل بدر اور دوسرے صحابہ کو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی جنگوں میں حصہ لیا تھا، حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، کیونکہ یمامہ میں مسیلمہ کو خوب فروغ ہو چلا تھا اور وہ آسانی سے زیر ہونے والا نہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یمامہ میں مسلمانوں کی کامیابی حضرت خالدؓ کا معمولی کارنامہ نہیں، یمامہ کی حالت دوسرے قبائل سے بالکل مختلف تھی، مدینہ کے قریبی قبائل میں سے جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہا تھا، کوئی شخص نبوت کا مدعی نہ تھا اور زکوٰۃ کے معافی کے سوا انہیں اور کوئی خواہش نہ تھی۔ مزید برآں عدی بن حاتم اپنے قبیلے کو طلیحہ اسدی کی امداد سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس سے اس کے لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ جم کر مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکا، اس کے لشکر کے مفرورین ام زمل کے پاس جا کر اکٹھے ہوئے، لیکن ایک ہزیمت خوردہ فوج سے مقابلے کی توقع عبث تھی، اس لیے ام زمل کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
رہ گئے بنوتمیم تو ان میں خود تفرقہ پڑا ہوا تھا، مسلمانوں سے کیامقابلہ کر سکتے تھے؟ سجاح کے عزم اور ہمت کو مالک بن نویرہ نے متزلزل کر دیا اور اس نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، مالک بن نویرہ مسلمانوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ وہ حضرت خالدؓ کے مقابلے میں آنے کی جرأت ہی نہ کر سکا۔
ان لوگوں کے بالمقابل مسیلمہ اور یمامہ میں اس کے پیروؤں کو اصلاً اس بات ہی سے انکار تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش کی طرح نبوت و رسالت پر ان کا بھی حق ہے، انہیں بھی عرب میں وہی درجہ حاصل ہے جو قریش کا ہے، ان کا لشکر قریش کے لشکر سے کئی گنا بڑا ہے، اس کے علاوہ ان میں کامل اتحاد پایا جاتا ہے، آپس کی مخالفت اور شکر رنجی بالکل مفقود ہے، عقیدے اور قبیلے کا اختلاف ان میں بالکل نہیں، ان وجوہ کی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کی فوجوں سے بڑی کامیاب ٹکر لے سکتے ہیں۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی ہزیمت:
حضرت ابوبکرؓ کی نظر میں یہ تمام باتیں پہلے ہی سے موجود تھیں، اس لیے انہوں نے پوری کوشش کی کہ یمامہ کی جانب جو لشکر بھیجے جائیں وہ طاقتور ہوں، مرتدین سے لڑنے کے لیے انہوں نے گیارہ لشکر تیار کیے تھے اور ہر لشکر کو علیحدہ علیحدہ قبیلے کی طرف بھیجا تھا، لیکن مسیلمہ کے بارے میں ایسا نہ ہوا، بلکہ اس کی جانب انہوں نے حضرت عکرمہ بن ابوجہل کو بھیجا اور ان کے پیچھے پیچھے حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، حضرت عکرمہ یمامہ کی جانب بڑھتے چلے گئے اور شرحبیل کے پہنچنے کا انتظار نہ کیا، وہ چاہتے تھے کہ مسیلمہ پر فتح یاب ہونے کا فخر تنہا انہیں کے حصے میں آئے، حضرت عکرمہ ایک تجربہ کار ماہر جنگ اور دشمن کو خاطر میں نہ لانے والے شہسوار تھے، ان کی فوج میں بڑے بڑے بہادر شامل تھے جو پچھلی جنگوں میں لوگوں پر اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مسیلمہ کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور بنو حنفیہ نے انہیں شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا، حضرت عکرمہ نے اپنی ہزیمت کا سارا حال حضرت ابوبکرؓ کو لکھ بھیجا جسے پڑھ کر ان کے غصے کی انتہا نہ رہی، انہوں نے حضرت عکرمہ کو لکھا:
جنگ یمامہ:
مسیلمہ کے خلاف حضرت خالد بن ولید ؓ کی چڑھائی:
بطاح سے حضرت خالدؓ بن ولید اپنے لشکر اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی بھیجی ہوئی کمک لے کر بنی حنفیہ کے متنبی مسیلمہ بن حبیب سے جنگ کرنے کے لیے یمامہ روانہ ہوئے، جو کمک حضرت ابوبکرؓ نے بھیجی تھی وہ تعداد اور قوت میں حضرت خالدؓ کے اصل لشکر سے کم نہ تھی، اس میں ان مہاجرین اور انصار کے علاوہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار سے لڑائیاں کی تھیں، ان قبائل کے لوگ بھی شامل تھے جن کا شمار عرب کے طاقتور اور جنگجو قبیلوں میں ہوتا تھا، انصار ثابت بن قیس اور براء بن مالک کے زیر سرکردگی تھے اور مہاجرین ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن خطاب کے ماتحت۔ دوسرے قبائل میں سے ہر قبیلے کا سردار علیحدہ تھا جسے حضرت ابوبکرؓ نے اس کی حسن کارکردگی کے باعث اس عہدے پر مقرر فرمایا تھا، وہ جانتے تھے کہ جنگ کے وقت چالیس ہزار بنو حنفیہ مسیلمہ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں گے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس لئے اس وقت مدینہ کی جانب سے بھی بہترین آدمیوں کو جو قیادت اور جنگ کا کامل تجربہ رکھتے ہوں، محاذ جنگ پر نہ بھیجا گیا تو ان مرتدین کا مقابلہ بے حد دشوار ہو جائے گا۔
ان لوگوں میں جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کی امداد کے لیے روانہ کیا تھا، قرآن مجید کے حافظوں اور قاریوں کی بھی بھاری تعداد شامل تھی، اسی طرح ایک خاص دستہ ان صحابہ کا تھا جنہوں نے جنگ بدرمیں حصہ لیا تھا، ایسا کرنا حضرت ابوبکرؓ کی اس پالیسی کے خلاف تھا جو انہوں نے اہل بدر کے متعلق وضع کی تھی، وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں جنگوں میں اہل بدر کو استعمال نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اعمال کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہو جائیں، لیکن اس موقع پر نازک صورتحال کے پیش نظر انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اہل بدر اور دوسرے صحابہ کو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی جنگوں میں حصہ لیا تھا، حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، کیونکہ یمامہ میں مسیلمہ کو خوب فروغ ہو چلا تھا اور وہ آسانی سے زیر ہونے والا نہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یمامہ میں مسلمانوں کی کامیابی حضرت خالدؓ کا معمولی کارنامہ نہیں، یمامہ کی حالت دوسرے قبائل سے بالکل مختلف تھی، مدینہ کے قریبی قبائل میں سے جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہا تھا، کوئی شخص نبوت کا مدعی نہ تھا اور زکوٰۃ کے معافی کے سوا انہیں اور کوئی خواہش نہ تھی۔ مزید برآں عدی بن حاتم اپنے قبیلے کو طلیحہ اسدی کی امداد سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس سے اس کے لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ جم کر مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکا، اس کے لشکر کے مفرورین ام زمل کے پاس جا کر اکٹھے ہوئے، لیکن ایک ہزیمت خوردہ فوج سے مقابلے کی توقع عبث تھی، اس لیے ام زمل کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
رہ گئے بنوتمیم تو ان میں خود تفرقہ پڑا ہوا تھا، مسلمانوں سے کیامقابلہ کر سکتے تھے؟ سجاح کے عزم اور ہمت کو مالک بن نویرہ نے متزلزل کر دیا اور اس نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، مالک بن نویرہ مسلمانوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ وہ حضرت خالدؓ کے مقابلے میں آنے کی جرأت ہی نہ کر سکا۔
ان لوگوں کے بالمقابل مسیلمہ اور یمامہ میں اس کے پیروؤں کو اصلاً اس بات ہی سے انکار تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش کی طرح نبوت و رسالت پر ان کا بھی حق ہے، انہیں بھی عرب میں وہی درجہ حاصل ہے جو قریش کا ہے، ان کا لشکر قریش کے لشکر سے کئی گنا بڑا ہے، اس کے علاوہ ان میں کامل اتحاد پایا جاتا ہے، آپس کی مخالفت اور شکر رنجی بالکل مفقود ہے، عقیدے اور قبیلے کا اختلاف ان میں بالکل نہیں، ان وجوہ کی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کی فوجوں سے بڑی کامیاب ٹکر لے سکتے ہیں۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی ہزیمت:
حضرت ابوبکرؓ کی نظر میں یہ تمام باتیں پہلے ہی سے موجود تھیں، اس لیے انہوں نے پوری کوشش کی کہ یمامہ کی جانب جو لشکر بھیجے جائیں وہ طاقتور ہوں، مرتدین سے لڑنے کے لیے انہوں نے گیارہ لشکر تیار کیے تھے اور ہر لشکر کو علیحدہ علیحدہ قبیلے کی طرف بھیجا تھا، لیکن مسیلمہ کے بارے میں ایسا نہ ہوا، بلکہ اس کی جانب انہوں نے حضرت عکرمہ بن ابوجہل کو بھیجا اور ان کے پیچھے پیچھے حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، حضرت عکرمہ یمامہ کی جانب بڑھتے چلے گئے اور شرحبیل کے پہنچنے کا انتظار نہ کیا، وہ چاہتے تھے کہ مسیلمہ پر فتح یاب ہونے کا فخر تنہا انہیں کے حصے میں آئے، حضرت عکرمہ ایک تجربہ کار ماہر جنگ اور دشمن کو خاطر میں نہ لانے والے شہسوار تھے، ان کی فوج میں بڑے بڑے بہادر شامل تھے جو پچھلی جنگوں میں لوگوں پر اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مسیلمہ کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور بنو حنفیہ نے انہیں شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا، حضرت عکرمہ نے اپنی ہزیمت کا سارا حال حضرت ابوبکرؓ کو لکھ بھیجا جسے پڑھ کر ان کے غصے کی انتہا نہ رہی، انہوں نے حضرت عکرمہ کو لکھا:
" اے ابن ام عکرمہ! (عکرمہ کی ماں کے بیٹے) میں تمہاری صورت دیکھنے کا مطلق روادار نہیں، تم واپس آ کر لوگوں میں بد دلی پھیلانے کا باعث نہ ہو، بلکہ حذیفہ اور عرفجہ کے پاس جا کر اہل عمان اور مہرہ سے لڑو، اس کے بعد یمن اور حضرموت جا کر مہاجر بن ابی امیہ سے مل جاؤ اور ان کے دوش بہ دوش مرتدین سے جنگ میں حصہ لو۔"
اس خط میں جو غیظ و غضب پنہاں ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ام عکرمہ کا خطاب ہی اس غیظ و غضب کی صحیح کیفیت ظاہر کر رہا ہے۔
مسیلمہ کی قوت و طاقت بڑھ جانے اور اس کے مقابلے میں حضرت عکرمہ کے شکست کھانے کے باعث حضرت ابوبکرؓ کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ حضرت خالدؓ بن ولید کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کریں، چنانچہ انہوں نے شرحبیل بن حسنہ کو لکھا کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں، جب تک حضرت خالدؓ ان کے پاس نہ پہنچ جائیں، مسیلمہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد (شرحبیل) عمرو بن عاص کے پاس چلے جائیں اور شمالی حصے میں قضاعہ کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں۔
حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی شکست:
ابھی حضرت خالدؓ یمامہ کے راستے ہی پر تھے کہ مسیلمہ کی فوجوں نے شرحبیل کی فوج سے ٹکرلی اور اسے پیچھے ہٹا دیا، بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ شرحبیل نے بھی وہی کیا جو اس سے پہلے عکرمہ کر چکے تھے یعنی وہ مسیلمہ پر فتح یابی کا فخر خود حاصل کرنے کے شوق میں آگے بڑھے، لیکن انہیں بھی شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا، پھر بھی میرے خیال میں واقعہ اس طرح نہیں بلکہ خود یمامہ کے لشکر نے اس خیال سے کہ کہیں شرحبیل حضرت خالدؓ سے مل کر انہیں نقصان نہ پہنچائیں، اگے بڑھ کر لشکر پر حملہ کر دیا اور شکست دے کر اسے پیچھے ہٹا دیا، دونوں میں سے کوئی بات ہوئی ہو مگر واقعہ یہی ہوا کہ شرحبیل اپنا لشکر لے کر پیچھے ہٹ گئے۔
اب حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کے ہمراہ یمامہ کی جانب بڑھنا شروع کیا، مسیلمہ کو بھی ان کی نقل و حرکت کی تمام خبریں پہنچ رہی تھیں۔
=========> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment