Muslema Kazzab Ka Qatl aur Khalid Bin Walid R.Z.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-37/40.
Who Was Musaylimah the Liar?
Legacy: Lessons from His Fall.
How Musaylimah Was Finally Defeated?
The Shocking End of Musaylimah the Liar – A Turning Point.
Discover the dramatic downfall of Musaylimah al‑Kazzab, the self‑proclaimed prophet who challenged Islam’s foundations. His death at the Battle of Yamama not only ended his rebellion but also marked one of the bloodiest and most decisive moments in Islamic history. Find out how his defeat shaped the future of the Muslim community and why his story still fascinates readers today?
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| Islamic history turning points. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (37)
مسیلمہ کذاب کا قتل:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کی جوش دلانے والی آوازیں سنیں تو انہیں بھی یقین ہو گیا کہ بنی حنفیہ کی سخت مدافعت کے باوجو انجام کار فتح انہیں کے حصے میں آئے گی، لیکن وہ چاہتے تھے کہ فتح کا حصول حتیٰ الامکان جلد ہو جائے، اس لیے بہت غور سے ایک بار میدان کا جائزہ لیا، انہوں نے دیکھا کہ بنو حنفیہ مسیلمہ کے گرد کٹ کٹ کر گر رہے ہیں اور مسیلمہ کی حفاظت میں موت کی بھی پروا نہیں کرتے، یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ فتح کے جلد از جلد حصول کا طریق یہ ہے کہ کسی طرح مسیلمہ کو قتل کر دیا جائے،
مسیلمہ کذاب کا قتل:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کی جوش دلانے والی آوازیں سنیں تو انہیں بھی یقین ہو گیا کہ بنی حنفیہ کی سخت مدافعت کے باوجو انجام کار فتح انہیں کے حصے میں آئے گی، لیکن وہ چاہتے تھے کہ فتح کا حصول حتیٰ الامکان جلد ہو جائے، اس لیے بہت غور سے ایک بار میدان کا جائزہ لیا، انہوں نے دیکھا کہ بنو حنفیہ مسیلمہ کے گرد کٹ کٹ کر گر رہے ہیں اور مسیلمہ کی حفاظت میں موت کی بھی پروا نہیں کرتے، یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ فتح کے جلد از جلد حصول کا طریق یہ ہے کہ کسی طرح مسیلمہ کو قتل کر دیا جائے،
چنانچہ وہ اپنے آدمی لے کر آگے بڑھے اور مسیلمہ کے آدمیوں کے گرد گھیرا ڈال لیا، اس کے بعد کوشش کی کہ کسی طرح مسیلمہ ان کے سامنے آ جائے تاکہ اس کا کام تمام کیا جا سکے، لیکن قبل اس کے کہ مسیلمہ ان کے سامنے آتا، اس کے آدمیوں نے بڑھ چڑھ کر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ پر حملے کرنے شروع کیے، حضرت خالدؓ تو ان کے بس میں کیا آتے البتہ جو شخص ان کے مقابلے میں آتا زندہ واپس نہ جاتا، اس طرح بے شمار آدمی قتل ہو گئے۔
مسیلمہ کا تردد و اضطراب:
جب مسیلمہ نے دیکھا کہ اس کے حامیوں کی تعداد بہ سرعت کم ہوتی جا رہی ہے تو اس نے کود کر حضرت خالدؓ کے مقابلے پر آنے کا ارادہ کیا، لیکن اس خیال سے رک گیا کہ اگر وہ بھی حضرت خالدؓ کے مقابلے کے لیے نکلا تو لامحالہ مارا جائے گا، اب اس کے تردد و اضطراب کی انتہا نہ رہی، اس کے جاں نثار کٹ کٹ کر گر رہے تھے اور اسے خود بھی اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی، وہ اس اضطراب کی حالت میں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے، یکایک حضرت خالدؓ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس کے محافظین پر ایک بھرپور حملہ کر کے تلوار کے جوہر دکھانے شروع کیے، یہ دیکھ کر مسیلمہ کے ساتھیوں نے اس سے پکار کر پوچھا: آپ کے وہ وعدے جو اپنی فتح کے متعلق آپ نے ہم سے کیے تھے، کہاں گئے؟ اس وقت مسیلمہ کے حوصلے ختم ہو چکے اور اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا، چنانچہ اس نے پیٹھ پھیرتے ہوئے جواب دیا:
" اپنے حسب و نسب کی خاطر لڑتے رہو۔"
لیکن اب وہ کیا لڑتے جب ان کا سردار انہیں مسلمانوں کی تلواروں کے سپرد کر کے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر چکا تھا، بنی حنفیہ کے ایک سردار محکم بن طفیل نے جب لوگوں کو بھاگتے اور مسلمانوں کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا تو پکار پکار کر کہنے لگا: "اے بنو حنفیہ! باغ میں داخل ہو جاؤ۔ "
یہ باغ جسے حدیقۃ الرحمن کہا جاتا تھا میدان جنگ سے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت میں تھا، یہ بہت طویل و عریض تھا اور قلعے کی طرح اس کے چاروں بلند دیواریں کھڑی تھیں، محکم بن طفیل کی آواز سن کر لوگوں نے اس باغ کی طرف بھاگنا شروع کیا، (جس میں مسیلمہ پہلے ہی داخل ہو چکا تھا) لیکن محکم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں کو بنی حنفیہ کے تعاقب سے روکنے کے لیے میدان جنگ ہی میں رہ گیا تھا، اس نے بہت بہادری سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور آخر عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کے ایک تیر سے جو اس کے سینے میں لگا اس کا کام تمام ہو گیا۔
مسیلمہ اور اس کی قوم باغ میں پناہ گزین ہو چکی تھی، مسلمانوں کے لیے باغ کا محاصرہ کر لینے اور کامل فتح کے حصول تک وہاں سے نہ ٹلنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، باغ کے چاروں طرف مسلمانوں نے پڑاؤ ڈال دیا اور کسی ایسی کمزور جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں سے باغ میں گھس کر اس کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو سکیں، لیکن انتہائی تلاش کے باوجود انہیں ایسی کوئی جگہ نہ ملی، آخر براء بن مالک نے کہا:
’’مسلمانو! اب صرف یہ راستہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو۔ میں اندر جا کر دروازہ کھول دوں گا۔‘‘
لیکن مسلمان یہ کس طرح گوارا کر سکتے تھے کہ ان کا ایک بلند مرتبت ساتھی ہزاروں دشمنوں میں گھر کر اپنی جان گنوا دے، انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، لیکن براء نے اصرار کرنا شروع کیا اور کہا:
’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے باغ کے اندر پھینک دو۔‘‘
آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا، دیوار پر چڑھ کر جب براء نے دشمن کی زبردست جمعیت کی جانب نظر دوڑائی تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹکے، لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کود پڑے اور دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرتے، دائیں بائیں لوگوں کو قتل کرتے دروازے کی طرف بڑھنے لگے، آخر بیسیوں آدمیوں کے قتل کے بعد وہ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور آگے بڑھ کر بڑی پھرتی سے اسے کھول دیا، مسلمان باہر دروازہ کھلنے کے منتظر تھے ہی، جونہی دروازہ کھلا وہ باغ میں داخل ہو گئے اور تلواریں سونت کر دشمنوں کو بے دریغ قتل کرنے لگے، بنو حنفیہ مسلمانوں کے سامنے سے بھاگنے لگے لیکن باغ سے باہر وہ کس طرح نکل سکتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔
مسیلمہ کا تردد و اضطراب:
جب مسیلمہ نے دیکھا کہ اس کے حامیوں کی تعداد بہ سرعت کم ہوتی جا رہی ہے تو اس نے کود کر حضرت خالدؓ کے مقابلے پر آنے کا ارادہ کیا، لیکن اس خیال سے رک گیا کہ اگر وہ بھی حضرت خالدؓ کے مقابلے کے لیے نکلا تو لامحالہ مارا جائے گا، اب اس کے تردد و اضطراب کی انتہا نہ رہی، اس کے جاں نثار کٹ کٹ کر گر رہے تھے اور اسے خود بھی اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی، وہ اس اضطراب کی حالت میں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے، یکایک حضرت خالدؓ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس کے محافظین پر ایک بھرپور حملہ کر کے تلوار کے جوہر دکھانے شروع کیے، یہ دیکھ کر مسیلمہ کے ساتھیوں نے اس سے پکار کر پوچھا: آپ کے وہ وعدے جو اپنی فتح کے متعلق آپ نے ہم سے کیے تھے، کہاں گئے؟ اس وقت مسیلمہ کے حوصلے ختم ہو چکے اور اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا، چنانچہ اس نے پیٹھ پھیرتے ہوئے جواب دیا:
" اپنے حسب و نسب کی خاطر لڑتے رہو۔"
لیکن اب وہ کیا لڑتے جب ان کا سردار انہیں مسلمانوں کی تلواروں کے سپرد کر کے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر چکا تھا، بنی حنفیہ کے ایک سردار محکم بن طفیل نے جب لوگوں کو بھاگتے اور مسلمانوں کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا تو پکار پکار کر کہنے لگا: "اے بنو حنفیہ! باغ میں داخل ہو جاؤ۔ "
یہ باغ جسے حدیقۃ الرحمن کہا جاتا تھا میدان جنگ سے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت میں تھا، یہ بہت طویل و عریض تھا اور قلعے کی طرح اس کے چاروں بلند دیواریں کھڑی تھیں، محکم بن طفیل کی آواز سن کر لوگوں نے اس باغ کی طرف بھاگنا شروع کیا، (جس میں مسیلمہ پہلے ہی داخل ہو چکا تھا) لیکن محکم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں کو بنی حنفیہ کے تعاقب سے روکنے کے لیے میدان جنگ ہی میں رہ گیا تھا، اس نے بہت بہادری سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور آخر عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کے ایک تیر سے جو اس کے سینے میں لگا اس کا کام تمام ہو گیا۔
مسیلمہ اور اس کی قوم باغ میں پناہ گزین ہو چکی تھی، مسلمانوں کے لیے باغ کا محاصرہ کر لینے اور کامل فتح کے حصول تک وہاں سے نہ ٹلنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، باغ کے چاروں طرف مسلمانوں نے پڑاؤ ڈال دیا اور کسی ایسی کمزور جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں سے باغ میں گھس کر اس کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو سکیں، لیکن انتہائی تلاش کے باوجود انہیں ایسی کوئی جگہ نہ ملی، آخر براء بن مالک نے کہا:
’’مسلمانو! اب صرف یہ راستہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو۔ میں اندر جا کر دروازہ کھول دوں گا۔‘‘
لیکن مسلمان یہ کس طرح گوارا کر سکتے تھے کہ ان کا ایک بلند مرتبت ساتھی ہزاروں دشمنوں میں گھر کر اپنی جان گنوا دے، انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، لیکن براء نے اصرار کرنا شروع کیا اور کہا:
’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے باغ کے اندر پھینک دو۔‘‘
آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا، دیوار پر چڑھ کر جب براء نے دشمن کی زبردست جمعیت کی جانب نظر دوڑائی تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹکے، لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کود پڑے اور دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرتے، دائیں بائیں لوگوں کو قتل کرتے دروازے کی طرف بڑھنے لگے، آخر بیسیوں آدمیوں کے قتل کے بعد وہ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور آگے بڑھ کر بڑی پھرتی سے اسے کھول دیا، مسلمان باہر دروازہ کھلنے کے منتظر تھے ہی، جونہی دروازہ کھلا وہ باغ میں داخل ہو گئے اور تلواریں سونت کر دشمنوں کو بے دریغ قتل کرنے لگے، بنو حنفیہ مسلمانوں کے سامنے سے بھاگنے لگے لیکن باغ سے باہر وہ کس طرح نکل سکتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ صرف حضرت براء رضی اللہ عنہ نے نہیں بلکہ اور بھی کئی مسلمانوں نے دیواریں پھاند کر دروازے کا رخ کیا تھا، چونکہ حضرت براء نے دروازے کے بالکل قریب دیوار پھاندی تھی، اس لیے دروازے پر سب سے پہلے وہی پہنچے اور لڑتے بھڑتے دروازہ کھول دیا، بنو حنفیہ نے ان مٹھی بھر مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی، لیکن دیوار پر جو مسلمان متعین تھے انہوں نے تیر مار مار کر انہیں مسلمانوں سے دور رکھا۔
مسلمانوں نے اگرچہ باغ میں گھس کر بنو حنفیہ کو بے دریغ قتل کرنا شروع کر دیا تھا، مگر بنو حنفیہ نے بھی بڑی بہادری سے ان کا مقابلہ کیا، لیکن مسلمانوں کے سامنے ان کی پیش نہ گئی، طرفین کے کثیر آدمی اس معرکے میں قتل ہوئے، لیکن بنی حنفیہ کے مقتولوں کی تعداد مسلمانوں سے بیسیوں گنا تھی، حبشی غلام وحشی، جس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کو شہید کیا تھا اور جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگیا تھا، اس موقع پر موجود تھا، اس نے مسیلمہ کو باغ میں دیکھا اور اپنا چھوٹا سا نیزہ ترک کر مسیلمہ کے مارا جو سیدھا اسے جا کر لگا، اسی وقت ایک انصاری نے بھی مسیلمہ پر تلوارکا وار کیا، حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:
’’اللہ ہی جانتا ہے کہ ہم میں سے کس نے اسے قتل کیا، لیکن مسیلمہ اگر مرنے کے بعد زندہ ہوتا تو ہمیشہ ہی یہ کہتا کہ اسے اس سیاہ فام غلام نے قتل کیا ہے۔‘‘
جب بنو حنفیہ نے مسیلمہ کی موت کی خبر سنی تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ مسلمانوں نے انہیں بے تحاشا قتل کرنا شروع کیا، عرب میں اس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں، یمامہ سے بڑھ کر کسی بھی جنگ میں اتنی خونریزی نہ ہوئی تھی، اس لیے حدیقتہ الرحمٰن کا نام حدیقتہ الموت پڑ گیا اور آج تک تاریخ کی کتابوں میں یہی نام چلا آتا ہے۔
بنی حنفیہ کے مقتولین کی تعداد:
روایات سے پتا چلتا ہے کہ حدیقتہ الموت کی لڑائی میں سات ہزار بنی حنفیہ قتل ہوئے تھے، میدان جنگ میں بھی ان کے مقتولین کی تعداد سات ہزار تھی، اس کے بعد جب حضرت خالدبن ولید ؓ نے اپنے دستوں کو مفرورین کے تعاقب میں روانہ کیا تو بھی سات ہزار آدمی قتل ہوئے۔
مسلمان شہداء کی تعداد:
اس جنگ میں جہاں بنی حنفیہ کے مقتولین کی تعداد پچھلی تمام جنگوں سے زیادہ تھی وہاں مسلمان شہداء کی تعداد بھی پچھلی تمام جنگوں کو مات کر گئی تھی، اس جنگ میں مسلمان شہداء کی تعداد بارہ سو تھی، تین سو ستر مہاجرین، تین سو انصار اور باقی دیگر قبائل کے لوگ، ان شہداء میں تین سو ستھر صحابہ کبار اور قرآن کے حافظ بھی تھے جن کا مقام اور درجہ مسلمانوں میں بے حد بلند تھا، اگرچہ ان حافظوں کی شہادت سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا، لیکن بعض اوقات ایک نقصان دہ چیز بھی آخر فائدے کا موجب بن جاتی ہے، چنانچہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس ڈر سے کہ کہیں آئندہ جنگوں میں بقیہ حافظوں سے بھی مسلمانوں کو ہاتھ نہ دھونے پڑیں، قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح پہلی مرتبہ قرآن کریم ایک جلد میں مدون کیا گیا۔
مسلمانوں کا حزن و الم:
مسلمانوں کی بھاری تعداد کے شہید ہو جانے سے ان کے رشتہ داروں کو جس صدمے سے دو چار ہونا پڑا تھا اس کی تلافی صرف یہ چیز کر سکتی تھی کہ گو مسلمانوں کو کئی قیمتی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، پھر بھی فتح کا شرف انہیں کے حصے میں آیا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں بہادری کے عظیم کارنامے انجام دینے کے بعد مدینہ واپس آئے تو ان کے والد نے کہا:
’’ جب تمہارے چچا زید شہید ہو گئے تھے تو تم واپس کیوں آ گئے اور کیوں نہ اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لیا؟ ‘‘
صرف حضرت عمرؓ ہی کا یہ حال نہ تھا، بلکہ مکہ اور مدینہ کے سینکڑوں گھرانے اپنے بہادروں اور سپوتوں کی شہادت پر خون کے آنسو بہا رہے تھے۔
==========> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment