Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 39.

Junubi (South) Qabayel Ka Israar-E-Bagawat.

Rebellion of Southern Tribes During the Caliphate of Abu Bakr (RA)
When the Southern Tribes Defied Islam — Abu Bakr’s Courage Changed History.
During the caliphate of Abu Bakr (RA), Islam faced one of its most dangerous challenges — the rebellion of the southern tribes. These tribes refused to pay zakat and rejected the authority of the central caliphate, threatening the unity of the Muslim community. With unwavering faith and determination, Abu Bakr (RA) confronted this crisis head-on. His decisive leadership not only crushed the rebellion but also preserved the integrity of the Islamic state. This episode highlights how the foundations of the Rashidun Caliphate were built on courage, justice, and wisdom rather than mere power.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Southern Tribes Revolt, Khilafat-E-Siddique, Islamic history, Muslim Web,
Southern Tribes Revolt.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (39)
   جنوبی قبائل کا اصرار بغاوت:
شمالی عرب کے منکرین زکوٰۃ اور مرتد قبائل حضرت خالدؓ بن ولید کی فوج کشی کے نتیجے میں خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کر کے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے، ان قبائل کی حدود عرب کے شمال مشرقی حصے سے شروع ہو کر انتہائی مشرق میں خلیج فارس تک اور وہاں سے نیچے اتر کر مکہ کے جنوب مشرق تک پھیلی ہوئی تھیں، حالانکہ جب حضرت ابوبکرؓ نے زمام خلافت سنبھالی تھی تو ان کا دائرہ اقتدار مدینہ، مکہ اور طائف کے درمیان ایک چھوٹے سے مثلث نما خطے تک محدود تھا۔

جنوبی علاقے کے قبائل نے شمالی علاقے کے واقعات سے متعلق نصیحت حاصل نہ کی اور بدستور حضرت ابوبکرؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ اور ارتداد پر جمے رہے، اسی سبب سے جنوبی قبائل اور مسلمانوں کے درمیان مدت دراز تک جدال و قتال کا سلسلہ جاری رہا۔

جنوبی علاقہ جو نصف عرب پر مشتمل ہے، خلیج فارس سے یمن کے شمال میں بحیرہ احمر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں بحرین، عمان، مہرہ، حضر موت، کندہ اور یمن کے صوبے واقع ہیں، مشرقی علاقوں سے مغربی علاقوں تک اور مغربی علاقوں سے مشرقی علاقوں تک آنے جانے کے لیے مذکورہ بالا تمام صوبوں سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ تمام صوبے خلیج فارس، خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر واقع ہیں اور یمن کے سوا باقی تمام کی چوڑائی بہت کم ہے، اتنی کم کہ ان کی حدود اور ساحل بحر کا فاصلہ چند میل کا ہے، عرب کا سارا جنوبی علاقہ جو ان صوبوں کو گھیرے ہوئے ہے، ایک خوفناک لق ودق صحرا پر مشتمل ہے جسے عبور کرنا کسی صورت ممکن نہیں، اس صحرا کو دیکھ کر آج بھی اسی طرح دہشت طاری ہوجاتی ہے جس طرح پہلے زمانوں میں ہوتی تھی، اسے ربع الخالی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

  جنوبی عرب میں ایرانی اثر ونفوذ:
ان صوبوں کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالنے سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ ان میں ایرانی اثر و نفوذ بہت آسانی سے راہ پا سکتا تھا، شمالی اور جنوبی علاقوں کے مابین آمدورفت کا سلسلہ بے حد دشوار تھا، کیونکہ درمیان کے ہولناک اور ویران صحرا کو قطع کرنا مشکل بلکہ ناممکن تھا، حجاز سے عمان وبحرین تک پہنچنے اور عمان و بحرین سے حجاز تک جانے کے لیے طول وطویل ساحلی علاقہ اختیار کرنا پڑتا تھا، اس لحاظ سے بحرین، عمان، حضر موت اور یمن کے مشرقی وجنوبی صوبے حجاز کے شمالی علاقے سے تقریباً کٹ کر رہ گئے تھے، اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر ایرانی شہنشاہوں نے ان علاقوں پر توجہ مبذول کی اور یہاں اپنا اقتدار قائم کر لیا۔

ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ یمن ’’ بدھان‘‘ کے اسلام قبول کرنے تک ایرانی عمل داری میں شامل رہا، ’’ بدھان‘‘ ابتداء میں کسریٰ کی جانب سے اس علاقے کا عامل تھا، اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدستور یہاں کا حاکم مقرر کیے رکھا، بحرین اور عمان بھی ایرانی عمل داری میں شامل تھے اور کثیر التعداد ایرانیوں نے بحرین اور عمان میں سکونت اختیار کرکے انہیں اپنا وطن بنا لیا تھا، اس وجہ سے ایرانی اقتدار میں مزید اضافہ ہو گیاتھا، جب کبھی سلطنت ایران کو عربوں کی جانب سے بغاوت کا خطرہ ہوتا اور عرب ان کے اثر واقتدار کو زائل کرنے کی کوشش کرتے تو وہ ان ایرانی نژاد لوگوں سے کام لے کر اس بغاوت کو فرو کر دیتی اور آزادی کی جدوجہد کو ناکام بنا دیتی، 
 یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عرب کے جن علاقوں کو سب سے آخر میں اسلام لانے کی توفیق ملی وہ عمان اور بحرین کے علاقے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انہوں نے سب سے اول ارتداد اختیار کیا، مگر جب سخت جنگوں کے بعد فتنۂ ارتداد پاش پاش ہو گیا اور اہل عرب دوبارہ ایک دینی اور سیاسی وحدت پر جمع ہو گئے تو یہی لوگ تھے جو مجبور ہو کر سب سے آخر میں اسلام لائے۔

ان علاقوں میں جنگ ہائے ارتداد کے زمانہ وقوع کے متعلق مؤرخین میں خاصا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں یہ جنگیں11ھ میں وقوع پزیر ہوئیں اور بعض کہتے ہیں 12ھ میں، پھر بھی یہ اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ بہرحال یہ امر مسلم ہے کہ یہ جنگیں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے اوائل سے شروع ہوئیں اور اس وقت تک ختم نہ ہوئیں جب تک سارے عرب نے کاملاً ان کی اطاعت قبول نہ کرلی، ابتدا شمالی عرب سے ہوئی اور وہاں کے مرتدین کا قَلع قمع ہونے کے بعد جنگوں کا رخ جنوبی علاقے کی طرف پھر گیا۔

جغرافیائی محل و قوع کے پیش نظر مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ جنوبی علاقے میں سرگرمیوں کی ابتداء وہ یا تو بحرین سے کرتے اور عمان، مہرہ، حضرموت کے علاقوں کو زیر کرتے ہوئے یمن تک پہنچ جاتے یا اپنی کارروائیاں یمن سے شروع کرتے اور حضرموت مہرہ اور عمان کے لوگوں کی سرکوبی کرتے ہوئے ان کارروائیوں کا اختتام بحرین پر کرتے۔ تمام حالات کے پیش نظر مسلمانوں نے بحرین سے جنگی کارروائی کا آغاز کرنا مناسب خیال کیا، کیونکہ اول تو  بحرین یمامہ سے بالکل نزدیک تھا اور یمامہ میں عقرباء کے مقام پر وہ ابھی ابھی بنی حنفیہ کے مقابلے میں عظیم الشان فتح حاصل کر چکے تھے، جس کی وجہ سے ان کی دھاک تمام قبائل عرب میں بیٹھ چکی تھی، دوسرے یمن کے مقابلے میں یہاں سے کارروائی کا آغاز کرنا نسبتاً سہل بھی تھا، اگر یہاں کامیابی حاصل ہو جاتی تو اس کا اثر دوسرے قبائل پر پڑنا لازم تھا۔

9ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصد علاء بن حضرمی کو ان کے پاس بھیجا تو ان کا حاکم اسلام لے آیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدستور بحرین کا حاکم مقرر کیے رکھا، اسلام لانے کے بعد اس نے اپنی قوم کو بھی دین حق کی دعوت دینی شروع کی اور جارود بن معلی کو دینی تربیت حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا، جارود نے مدینہ پہنچ کر اسلامی تعلیمات اور احکام سے واقفیت حاصل کی اور اپنی قوم میں واپس جا کر لوگوں کو دین کی تبلیغ کرنے اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کا کام شروع کر دیا۔
=======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS