Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 38.

Military Leadership of Hazrat Khalid bin Walid (RA).

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-38/40.
Hazrat Khalid bin Walid (RA) – The Invincible Commander of Islam.
The Strategy and Bravery of “The Sword of Allah"
Hazrat Khalid bin Walid (RA) – Legendary Commander, Conqueror of Persia and Rome.
From desert sands to empires’ downfall — Khalid bin Walid (RA) rewrote history with his sword.
Hazrat Khalid bin Walid (RA), known as The Sword of Allah, was one of the greatest military commanders in Islamic history. His unmatched strategies and fearless leadership led to decisive victories against Persia, Rome, and Iraq etc, making him a symbol of courage and tactical brilliance.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Sword of Allah, Islamic military commander, Conqueror of Persia, Rome, Iraq, Islamic history heroes, Battle strategies of Khalid bin Walid
The Sword of Allah: How Khalid bin Walid (RA) Crushed Persia, Rome & Iraq in Record Time.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (38)
    حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری:

حضرت خالدؓ بن ولید کو حضرت ابوبکرؓ نے جس لشکر کی کمان سپرد کی تھی وہ تمام لشکروں سے زیادہ مضبوط تھا اور اس میں مہاجرین و انصار کے منتخب آدمی جمع تھے، جن کا انتخاب خود حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ آئندہ اقساط میں آپ پڑھیں گے کہ ان لوگوں نے جنگ ہائے ارتداد میں بے نظیر کارنامے انجام دئیے اور عراق و شام کی جنگوں میں تو انہوں نے وہ معرکے سر کیے جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

ان فوجوں کی کامیابی کا راز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں مضمر تھا، حضرت خالد کو جو جنگی مہارت حاصل تھی اس کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں، سکندر اعظم، چنگیز خاں، جولیس سیزر ہنی بال اور نپولین کی شخصیتیں (عسکری لحاظ سے) خواہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ نظر آتی ہوں، لیکن حق یہ ہے کہ حضرت خالدؓ کی شخصیت کے آگے وہ سب ہیچ ہیں، وہ اسلام کے بطل جلیل تھے اور ہر قسم کے خطرات و خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں دلیرانہ گھس جانا ان کا خاص شیوہ تھا، فنون جنگ سے گہری واقفیت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، دشمن کا ہر چال اور اس کا ہر منصوبہ ان کی نگاہ میں ہوتا تھا اور مخالف کی کوئی حرکت ان سے چھپی نہ رہ سکتی تھی، تمام مسلمانوں کو ان کی صلاحیتوں کا علم تھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ موتہ میں مسلمانوں کی قلیل التعداد فوج کو ہزارہا رومیوں کے نرغے سے نکال لانے کی بنا پر سیف اللہ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا، زندگی بھر انہوں نے کبھی شکست نہیں کھائی، ہمیشہ فتح یاب ہی ہوتے رہے اور اسی حالت میں وفات پائی۔

اسلام لانے سے قبل بھی حضرت خالد کا شمار قریش کے چوٹی کے بہادروں میں ہوتا تھا، جنگ احد اور خندق میں وہ کفار کے دوش بہ دوش مسلمانوں سے لڑے، سرتاپا فوجی ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت میں خشونت، تندی اور تیزی آ گئی تھی، دشمن کو سامنے دیکھ کر ان سے مطلق صبر نہ ہو سکتا اور چاہتے تھے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اس پر ٹوٹ پڑیں، اللہ کا فضل ہمیشہ ان کے شامل حال رہا، ورنہ ممکن تھا کہ اپنی جلد بازی کے باعث انہیں بھاری نقصان سے دو چار ہونا پڑتا، دشمن بڑی سے بڑی تعداد اور کثیر اسلحہ کے باوجود کبھی انہیں مرعوب نہ کر سکتا تھا، صلح حدیبیہ سے اگلے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے لیے مکہ تشریف لے گئے تو حضرت خالد مسلمانوں سے حد درجہ نفرت کے باعث مکہ چھوڑ کر ہی چلے گئے، لیکن اچانک اللہ نے ان کے دل پر پڑے ہوئے تاریک پردے ہٹا دئیے اور انہیں حق و صداقت سے آگاہی عطا فرمائی،
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ واپس تشریف لے جانے کے بعد خالد مکہ واپس آ گئے اور ایک روز انہوں نے قریش کے مجمع میں اعلانیہ کہہ دیا کہ اب ہر ذی عقل انسان پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ جادوگر ہیں نہ شاعر، ان کا کلام یقینا اللہ کی طرف سے ہے، اب قریش کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اختیار کئے بغیر چارہ نہیں۔

حضرت خالدؓ کی زبان سے یہ کلمات سن کر قریش کو سخت حیرت ہوئی، ان کے وہم میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ خالد کا میلان اسلام کی جانب ہو سکتا ہے، عکرمہ بن ابوجہل اور خالد کے مابین بحث بھی ہوئی، لیکن خلاف معمول اس نے تیزی اختیار نہ کی، ابو سفیان اس اجتماع میں موجود نہ تھا، جب اسے اس واقعے کا علم ہوا تو اس نے انہیں بلا کر پوچھا: کیا تمہارے اسلام لانے کی خبر سچ ہے؟ حضرت خالدؓ نے جواب دیا۔ ہاں! میں اسلام لے آیا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین رکھتا ہوں۔ یہ سن کر ابوسفیان کو بہت غصہ آیا اور اس نے کہا لات اور عزیٰ کی قسم! اگر یہی بات ہے تو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تم ہی سے نپٹ لیتا ہوں، حضرت خالدؓ نے جواب دیا: اسلام بہرحال سچا ہے خواہ کوئی شخص اس بات کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرے۔

اسلام لانے کے بعد خالد مدینہ چلے آئے، اپنی جنگی قابلیت کی وجہ سے مسلمانوں میں خاص قدر و منزلت حاصل کر لی اور اس امر کے باوجود کہ ان کی ساری عمر اسلام کی مخالفت میں گزری تھی، ہر شخص انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگا، اس عزت و توقیر میں گراں قدر اضافہ اس وقت ہوا جب جنگ موتہ کے بعد انہیں دربار نبوی سے سیف اللہ کا خطاب مرحمت ہوا، بعد میں انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اس خطاب کا پورا پورا مستحق ثابت کیا، عراق اور شام کی فتوحات انہیں کے ذریعے سے ہوئیں، فارس اور روم کی عظیم الشان سلطنتیں جو اس زمانے میں روئے زمین کی مالک تھیں، انہیں کے ہاتھوں نابود ہوئیں، ان ہی اوصاف کی بدولت انہیں مرتدین کے مقابلے میں سب سے بڑے لشکر کی سپہ سالاری نصیب ہوئی۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS