find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Wah Kaun kaun se kam hai jisse Roja toot jata hai aur kin kin kamo se Roza (fast) nahi Toot ta hai

Kya Galati se khana kha lene ya Pani pi lene se roja toot jata hai?

Sawal: wah kaun kaun se kam hai jisse roja toot jata hai aur kin kamo se roja nahi toot ta hai..? Quran o hadees ki raushni me jawab dein.

 


"سلسلہ سوال و جواب نمبر-113"
سوال_کن کن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کن امور سے روزہ نہیں ٹوٹتا..؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں..!

Published Date: 25-5-2018

جواب..!
الحمدللہ..!

*اللہ پاک قرآن میں روزہ کی حدود کے بارے فرماتے ہیں..!*

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 187

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُحِلَّ لَـکُمۡ لَيۡلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمۡ‌ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّـكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّکُمۡ كُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ وَعَفَا عَنۡكُمۡۚ فَالۡــئٰنَ بَاشِرُوۡهُنَّ وَابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَـكُمُ الۡخَـيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَـيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ‌ؕ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَقۡرَبُوۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:
تمہارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کردیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بیشک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمہیں معاف کردیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہے اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمہارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہوجائے، پھر روزے کو رات تک پورا کرو اور ان سے مباشرت مت کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو ان کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ بچ جائیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو روزہ افطار کرنے سے لے کر صرف نماز عشاء تک کھانا پینا اور عورت سے صحبت جائز تھی، اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھ لی، یا وہ اس سے پہلے سو گیا تو اس کا روزہ شروع ہوجاتا تھا، پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کرسکے اور رات کو بیویوں سے صحبت کر بیٹھے۔
( تفسیر ابن کثیر )

تفصیل ان احادیث میں ملاحظہ فرمائیں:

 سنن ابوداؤد
کتاب: روزوں کا بیان
باب: روزہ کی فرضیت
حدیث نمبر: 2313
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ سورة البقرة آية 183، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّوْا الْعَتَمَةَ حَرُمَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَصَامُوا إِلَى الْقَابِلَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَاخْتَانَ رَجُلٌ نَفْسَهُ فَجَامَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَلَمْ يُفْطِرْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ يُسْرًا لِمَنْ بَقِيَ وَرُخْصَةً وَمَنْفَعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سُبْحَانَهُ:‏‏‏‏ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ سورة البقرة آية 187 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ هَذَا مِمَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهِ النَّاسَ وَرَخَّصَ لَهُمْ وَيَسَّرَ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ  یہ آیت کریمہ  يا أيها الذين آمنوا کتب عليكم الصيام کما كتب على الذين من قبلکم  اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے   (سورۃ البقرہ: ١٨٣)   نازل ہوئی تو نبی اکرم  ﷺ  کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہوجاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: علم الله أنكم کنتم تختانون أنفسکم  اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے   (سورۃ البقرہ: ١٨٧)   یہی وہ چیز تھی جس کا فائدہ اللہ نے لوگوں کو دیا اور جس کی انہیں رخصت اور آسانی دی۔  
تخریج دارالدعوہ:  تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٤) (حسن صحیح  )

 صحیح بخاری
کتاب: روزے کا بیان
باب: باب: اللہ عزوجل کا فرمانا کہ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے رمضان کا راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، اللہ نے معلوم کیا کہ تم چوری سے ایسا کرتے تھے، سو معاف کر دیا تم کو اور درگزر کی تم سے پس اب صحبت کرو ان سے اور ڈھونڈو جو لکھ دیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں (اولاد سے)۔
حدیث نمبر: 1915 
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا:‏‏‏‏ أَعِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَيْبَةً لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187، ‏‏‏‏‏‏فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187.
ترجمہ:
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء ؓ نے بیان کیا کہ  (شروع اسلام میں)  محمد  ﷺ  کے صحابہ ؓ جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہوجاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری ؓ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا  (اس وقت کچھ)  نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں  (سوتے ہوئے)  دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہوگئے جب اس کا ذکر نبی کریم  ﷺ  سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی   حلال کردیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا   اس پر صحابہ ؓ بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی   کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہوجائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری  (صبح صادق)  سیاہ دھاری  (صبح کاذب  )  سے۔
(سنن ابو داؤدٗد،حڈیث نمبر_2314)

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا ۭ )
یہ احکام یعنی صبح صادق تک مباشرت اور کھانے پینے کا جائز ہونا،
فجر سے سورج غروب ہونے تک ان چیزوں کی ممانعت اور اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت کی ممانعت، یہ کام اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کی سختی سے پابندی کرو۔
( ابن کثیر)
________&______

*جن جن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے*

1_ جان بوجھ کر کھانے پینے سے،
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَـكُمُ الۡخَـيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَـيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ‌ؕ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ‘‘
یعنی تم کھاتے پیتے رہو ، یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے پھر رات تک روزے کو پورا کروکرو،
(سورہ البقرہ-187)

2_بیوی سے جماع یعنی ہمبستری کرنے سے،
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔۔۔۔۔۔انتہی
(بخاری،1936)

3_جان بوجھ کر  قے (الٹی) کرنے سے،
سنن ابن ماجہ
کتاب: روزوں کا بیان
باب: روزہ دار کو قے آ جائے
حدیث نمبر: 1676

ترجمہ:

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ  نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:  جسے خود بہ خود قے آجائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے ۔  
تخریج دارالدعوہ: 
سنن ابی داود/الصوم ٣٢ (٢٣٨٠)، سنن الترمذی/الصوم ٢٥ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٩٨)، سنن الدارمی/الصوم ٢٥ (١٧٧٠) (صحیح  )

4_حیض و نفاس کا خون آنے سے,
فرمان نبویﷺ
عورتو صدقہ کیا کرو، میں نے جہنم میں تمہاری تعداد زیادہ دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔انتہی
تم لعن تعن بہت کرتی ہو، شوہروں کی نا شکری کرتی ہو، عقل اور دین میں ناقص ہو۔۔۔۔۔۔۔انتہی
پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_304)

5_(استمناء  )یعنی  ہاتھ یا کسی اور طرح شہوت سے منی خارج کرنے سے انسان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے،
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روزے دار کے بارے میں
ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے
وہ (روزے دار)کھانا ،پانی اور شہوت کو میرے لئے ترک کرتا ہے…
(صحیح بخاری؍حدیث نمبر_1894)
بلاشبہ استمناء شہوت کا حصہ ہے جسے ہر روزے دار پر چھوڑنا ضروری ہے۔

6_ان چیزوں کا استعمال جن پر کھانے یا پینے کا اطلاق ہوتا ہے یا جو کھانے پینے کے مفہوم میں ہوں:
 اس میں دو طرح کی چیزیں شامل ہیں
پہلی چیز یہ ہے کہ روزے دار کو خون چڑھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے،
اس وجہ سے کہ کھانے اور پینے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسان کے جسم میں خون ہو، جس سے کی اس کی توانائی میں اضافہ ہو اور وہ اچھے ڈھنگ سے چل پھر سکے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ غذائی یا آبی انجکشن کا استعمال جس کے استعمال سے انسان کوکھانے پینے کی ضرورت نہ پڑے۔اس وجہ سے کہ یہ کھانے اور پینے کے درجے ہی میں ہیں۔(مجالس شھر رمضان للشیخ ابن عثیمین ،ص؍70)

7_کسی دوسرے کی تھوک نگلنے سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا،یعنی بیوی کے ہونٹ یا زبان چوستے ہوئے اگر اسکی تھوک نگل لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا،
(المغنی جلد3، صفحہ-17)
(شیخ صالح المنجد، islamqa.info/سوال49005)

______&_____

*وہ امور جن سے روزہ نہیں ٹوٹ*

1_جب قے( الٹی) خود بخود آ جائے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جسے قے (خودبخود) آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں،
اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے“
(ابن خزیمہ،حدیث نمبر_1960)
( ترمذی،حدیث نمبر_720)

2_بھول کر کھانے پینے سے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1933)

3_سینگی لگوانے یعنی جسم سے خون نکلوانے سے ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنا (سینگی ) لگوائی،
(صحیح بخاری، حدیث نمبر_1939)

4_سرمہ لگانے سے،
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور وہ روزہ سے ہوتے تھے،
(ابو داؤد،حدیث نمبر_2378) حسن موقوف
اعمش کہتے ہیں ،
میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_2389) حسن

5_پیاس یا گرمی سے سر پر پانی ڈالنے سے،
ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_2365)

7_بیوی کو بوسہ دینے اور گلے لگانے سے،
اگر اپنے نفس پر قابو رکھ سکے تو،

عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ سے ہوتے اور اپنی ازواج کا بوسہ لے لیتے اور انکے ساتھ مباشرت(جسم سے جسم لگا لیتے) کر لیتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں سے سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے،
(صحیح بخاری،1927)
(صحیح مسلم،1106)

8_  مسواک کرنے سے:
روزے کی حالت میں مسواک کا استعمال جائز عمل ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا حد درجہ اہتمام کیا کرتے تھے،

بلکہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر یہ چیز میری امت کے لئے مشقت کا سبب نہ ہوتی تو میں ہر وضو کے وقت اپنی امت کو مسواک کا حکم دیتا(صحیح بخاری_887)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے ، جس میں روزے دار اور غیر روزے دار دونوں شامل ہیں، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں روزے دار یاغیر روزے دار کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

اور امام بخاری نے ان لوگوں کے رد کیلئے جو کہتے کہ روزے میں مسواک جائز نہیں ،

اپنی صحیح بخاری میں یوں باب قائم کیا..

(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الصَّوْمُ.  | بَابُ سِوَاكِ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ.  روزہ دار کے لیے خشک اور تازی مسواک کرنے کا باب)

اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا مندی ہے،

9_ غسل کرنے سے،
عائشہ رضی اللہ عنہا  نے خبر دی کہ ( بعض مرتبہ ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ (رات گزارنے کی وجہ سے) جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے،
( صحیح بخاری،1926)

10_ استحاضہ کا خون آنے سے،
وہ خون جو عورتوں کو حیض کے علاوہ دنوں میں بیماری سے آتا ہے،
 ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ ( کی وجہ سے بیماری ) ہے۔ پس ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
(بخاری حدیث-327)
یعنی استحاضہ کے خون سے نماز روزہ چھوڑنا جائز، نہیں اور نا استحاضہ کے خون سے روزہ ٹوٹے گا،

11_عورتوں کو حیض کے علاوہ زرد یا مٹیالے رنگ کا پانی آنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا،
نا ایسی صورت میں نماز، روزہ چھوڑنا جائز ہے، کیونکہ
ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،کہ ہم (حیض کے علاوہ دنوں میں) زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-326)

*ان کے علاوہ  بہت ساری ایسی چیزیں ہیں ، جن کے بارے میں اسلاف سے مروی ہے کہ ان کو کرنے سے انسان کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔۔۔!
جیسے!!*

12_تیل۔لگانے سے،
13_مہندی لگانے سے،
14_خوشبو لگانے سے،
15_کھانے کا ذائقہ چکھ کر تھوکنے سے..!
16_آنکھ ،کان ناک میں دوا کے قطرے ڈالنے سے،
17_ سانس میں دشواری کے لیے آکسیجن وغیرہ کا آلہ استعمال کرنے سے،
18_ضرورت کے تحت بیماری کے علاج کے لیے انسولین یا بنسولین انجکشن لگوانے سے چاہے وہ رگ میں یا عضلات میں یا  جسم کے کسی حصے پر لگوائیں، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،
19_نیند میں احتلام آنے سے،
20_برش کرنے سے,
21_زیرناف یا بغلوں کے بال مونڈنے سے،
22_ناخن کاٹنے سے،
23_اپنی تھوک یا بلغم وغیرہ نگلنے سے،
24_مذی وغیرہ کے قطرے نکلنے سے،
25_کلی کرتے وقت اگر غلطی سے پانی حلق سے نیچے چلا جائے تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ جان بوجھ کر نہیں کیا اس نے،
26_دانتوں سے خون بہنے یا نکسیر پھوٹنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا
27_گالی نکالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ روزہ کا اجر ضائع ہوسکتا ہے،
28_میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو ہاتھ وغیرہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر یہ کام رات کے وقت کرنا زیادہ بہتر ہے، قریب ہے کہ وہ صبر نا کر سکیں اور روزہ توڑ بیٹھیں۔۔۔۔۔!!

(فتاویٰ اسلامیہ جلد 2_صفحہ 173 سے 190 تک)
(شیخ صالح المنجد، islamqa.info)
(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء10 /252 )

*یہ تمام امور  اور دیگر ایسے اعمال جنکا کھانے پینے سے یا شہوت ساتھ کوئی تعلق نا ہو ان امور  کے کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا،
کیونکہ زیادہ تر روزہ ٹوٹنے کا جو تعلق ہے وہ کھانے پینے یا شرمگاہ والے معاملات سے ہے*

*ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روزے کے دوران ان تمام امور سے پرہیز کریں جن سے روزہ ٹوٹے یا ٹوٹنے کا امکان ہو،اور ہمارا روزہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مقبول ہوسکے،
اور اسی طرح سے جن چیزوں کو روزے کی حالت میں انجام دینے کی اجازت ہے ، ہم انہیں انجام دیں اور اپنی جانوں پر بے جا تشدد اور سختی نہ کریں کیونکہ دینی معاملات میں تشدد اور بے جا سختی اسلامی اسپرٹ اور مزاج کے خلاف ہے*

اللہ پاک ہمیں توفیق  عطا فرمائے، آمین

----------------------------------
((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج

//https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS