find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Wuzu ke bad Sharamgaah par pani dalne ki Sharai haisiyat, kya bagair Chhinte ke wuzu nahi hoga?

Wuzu karne ka sahi tarika kya hai?

Sawal: wuzu karne ke bad Sharamgaah ki taraf chhinte marne ki sharai haisiyat kya hai? Agar koi Shakhs chhinte nahi marta hai to kya uska wuzu mukammal hoga?

"سلسلہ سوال و جواب نمبر-373"
سوال- وضو کرنے کے بعد شرمگاہ کی طرف چھینٹے مارنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اگر کوئی شخص چھینٹے نہیں مارتا تو کیا اسکا وضو مکمل ہو گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں!

Published Date: 10-03- 2022

جواب!
الحمدللہ!

*وضو کے بعد شرمگاہ کی طرف (کپڑے کے اوپر سے یا کپڑے کے نیچے سے ) چھینٹے مارنا شرعی طور پر جائز اور درست ہے، یہ عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، اور اس عمل کے ذریعے شیطانی وسوسے دور ہوتے ہیں، عموماً لوگوں کو شیطان کیطرف سے ایک وسوسہ آتا رہتا ہے وضو کے بعد یا نماز کے دوران کہ انکی شرمگاہ سے پیشاب وغیرہ کا قطرہ نکل گیا۔۔۔یا وہ نمی محسوس کرتے ہیں۔۔۔ جسکی وجہ سے وہ نماز توڑ دیتے ہیں اور دوبارہ استنجاء اور وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔۔۔تو اس وسوسے سے بچنے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین تدبیر بتلائی ہے کہ وضو کے بعد شرمگاہ کیطرف چھینٹے مار لیے جائیں تا کہ وسوسہ آنے پر اسے یہ خیال ہو کہ یہ پیشاب وغیرہ کے قطرے نہیں بلکہ جو وضو کے بعد پانی کے چھینٹے مارے تھے یہ اسکی نمی ہے۔۔ اور وہ اپنی نماز توجہ سے پڑھ سکے۔۔!*

دلائل ملاحظہ فرمائیں!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پاکی کا بیان
باب: شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنْتَضِحُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَافَقَ سُفْيَانَ جَمَاعَةٌ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ الْحَكَمُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ابْنُ الْحَكَمِ.
ترجمہ:
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور  (وضو کے بعد)   شرمگاہ پر   (تھوڑا)   پانی چھڑک لیتے۔  
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الطھارة ١٠٢ (١٣٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٨ (٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٩) (صحیح  )  حاكم : 1/ 171]
↰ اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ اور امام ذھبی نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پاکی کا بیان
باب: شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ.
ترجمہ:
ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔  
تخریج دارالدعوہ:  انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٠) (صحیح  )

سنن نسائی میں بھی یہ روایت موجود ہے!

📚سنن نسائی
کتاب: پاکی کا بیان
باب: پانی کے چھڑکنے کا بیان
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَاأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ فَنَضَحَ فَرْجَهُ.
ترجمہ:
حکم بن سفیان ؓ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں و نضح فرجه کی جگہ فنضح فرجه ہے۔  
تخریج دارالدعوہ:  انظر ما قبلہ (صحیح  )  
وضاحت: ١ ؎: 
حکم بن سفیان  ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں عن أبيه ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے، (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ٣٤٢٠  ) لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر ؓ کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہوجاتی ہے۔  
قال الشيخ الألباني:  صحيح  
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 135

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: پاکی کا بیان
باب: وضو کے بعد (ستر کے مقابل رومالی پر) پانی چھڑ کنا۔
حدیث نمبر: 462
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيِه زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَّمَنِي جِبْرَائِيلُ الْوُضُوءَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِي لِمَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ. 
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التَّنِّيسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ:
زید بن حارثہ ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  جبرائیل  (علیہ السلام)  نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے  (شرمگاہ)  پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آگیا ہو  (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہوجائے) ١ ؎۔  
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦١) (حسن)
🚫(سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن وأمرني أن أنضح تحت ثوبي کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے،
ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی:  ١٣٤١ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:  ٨٤١ ، صحیح أبی داود:  ١٥٩  )

📚سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے تو "نضح فرجہ"یعنی شرمگاہ پر پانی چھڑکتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ١٦٧/١ حدیث1775،وسندہ صحیح)

📚سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ جسم اور کپڑے کے درمیان پانی چھڑکتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ١٦٧/١، حدیث 1774،وسندہ صحیح)

📚محمد بن سیرین رحمہ اللہ (تابعی)جب وضو سے فارغ ہوتے تو"قال بکف من ماء فی ازارہ ھکذا"اس طرح ایک چلو پانی ازار(تہبند)میں ڈالتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ١٦٧/١، حدیث1780،وسندہ صحیح)

📚حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے شکایت کی کہ میں جب نماز میں ہوتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ میرے ذکر پر تری ہے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
"قاتل الله الشيطان انه يمس ذكر الانسان فى صلاته ليريك انه قد احدث فاذ توضات فانضح فرجك بالماء فان وجدت قلت هو من الماء ففعل الرجل ذلك فذهب"
” اللہ شیطان کو غارت کرے وہ نماز میں انسان کی شرم گاہ کو چھوتا ہے تاکہ اسے یہ خیال دلائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے، جب تم وضو کرو تو اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لیا کرو۔ پس اگر تو ایسا خیال پائے تو یہ سمجھ لینا کہ یہ پانی ہے۔ تو اس آدمی نے ایسے ہی کیا تو یہ وسوسہ ختم ہوگیا۔ “
( عبد الرزاق 1/ : 1/ 151۔ 583۔)
(ابن ابي شيبة : 1/ 193۔ باب من كان اذا توضا نضح فرجه)

📚داؤد بن قیس فرماتے ہیں میں نے محمد بن کعب القرظی سے سوال کیا، (میں کیا کروں جب) میں جب وضو کرتا ہوں تو تری پاتا ہوں ؟“ انہوں نے کہا: ”جب تم وضو کر لو تو اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لیا کرو، جب تمہیں ایسا وسوسہ آئے تو سمجھنا کی یہ وہی پانی ہے جس کے میں نے چھینٹے مارے ہیں۔ شیطان تجھے نہیں چھوڑے گا حتٰی کہ تیرے پاس آئے گا اور تجھے تنگ کرے گا۔ “ (عبدالرزاق : 152/1 )

_____&_____

*مذکورہ بالا احادیث اور آثارسے ثابت ہوا کہ وضو کے بعد اگر کوئی آدمی اپنی شرمگاہ پر تہہ بند اور شلوار وغیرہ کے اندر یا اوپر،شیطانی وسوسہ سے ازالہ کے لئے پانی کے چھینٹے مارے تو یہ شرعی طور پر درست ہے,*

* بعض علماء کرام نے یہاں پر شلوار یا تہبند کے اندر ڈائریکٹ شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کی قید لگائی ہے جو بنا دلیل کے ہے، اصل مقصد شرمگاہ کو نمی پہنچانا ہے تا کہ وسوسہ ختم ہو۔۔  وہ کپڑے کے اوپر سے چھینٹے مار کر پہنچائیں یا کپڑے کے نیچے سے کوئی فرق نہیں،  اور ویسے بھی آجکل ازار یعنی تہبند وغیرہ بہت کم استعمال ہوتی ہے اور شلوار پہننے والے شخص کیلئے شلوار کے اندر پانی چھڑکنا مشکل کام ہے،*

*یہ ایک مسنون عمل ہے،جو وضو مکمل کرنے کے بعد کیا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کا ثواب ہے اور اس کے علاوہ یہ عمل شیطانی وسوسے سے چھٹکارے کا علاج بھی ہے، بعض نے اسکی حکمت یہ بھی بیان کی ہے کہ شرمگاہ پر پانی چھڑکنے سے پیشاب وغیرہ کے قطرے باہر نہیں نکلتے۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر پانی چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے*

*عموماً شرمگاہ سے قطرے نکلنے کا  یہ مسئلہ یا وہم مردوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے، اگر کسی عورت کو ایسا کوئی مسئلہ ہو تو وہ بھی اس پر عمل کر سکتی ہے،*

*لیکن یاد رہے یہ عمل فرض نہیں اور اسکے بغیر بھی وضو مکمل ہے،جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے نہ مارے تو بھی اس کا وضو مکمل ہے*

📚ایک دیہاتی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وضو کا طریقہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تین تین مرتبہ اعضائے وضو دھو کر دکھائے۔ پھر فرمایا وضو اس طرح ہے۔ اب جو شخص اضافہ کرے اس نے برا کیا حد سے تجاوز کیا اور ظلم کا ارتکاب کیا۔
[سنن نسائی حدیث نمبر-140)
قال الشيخ الألباني:  حسن صحيح  
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة ٥١ (١٣٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٨ (٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٩)، مسند احمد ٢/١٨٠ (حسن صحیح  )

📙 *واضح رہے اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی کو حقیقت میں پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری ہو یا اچانک کسی کا پیشاب وغیرہ نکل جائے تو وہ جانتے بوجھتے  اسے وسوسہ بنا دے اور ناپاکی میں ہی نماز پڑھ لے، تو یہ جائز نہیں ہے، ہاں بیمار شخص کیلئے الگ احکامات موجود ہیں، کہ وہ شرمگاہ وغیرہ والی جگہ دھو کر یا ہو سکے تو لباس وغیرہ تبدیل کر کے ایک وضو سے ایک نماز مکمل پڑھ لے۔۔ اس دوران چاہے اسے حقیقی قطرے آتے رہیں وہ اپنی نماز مکمل کرے گا، اور دوسری نماز کیلئے پھر طہارت حاصل کرے گا، اسکی تفصیل ہم ان شاءاللہ ایک الگ سلسلہ میں بیان کریں گے*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

ماخذ محدث فورم :
( احکام ومسائل از مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ )
کچھ اضافے کے ساتھ

________&_____

📚سوال- شیطانی وسوسوں کے بارے شریعت میں کیا حکم ہے؟
کیا گندے وسوسوں اور خیالوں کا بھی انسان کو گناہ ملتا ہے؟ اور اگر نماز کے دوران گندے خیالات آئیں تو کیا نماز باطل ہو جائے گی؟ نیز دوران نماز اور عام حالات میں ان وسوسوں کے پیدا ہونے کی وجوہات اور ان سے بچنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
((جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-295))

📚سوال_ کن کن امور سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔۔؟
((جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-15))

____&_______

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS