Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Showing posts sorted by date for query Muharram. Sort by relevance Show all posts
Showing posts sorted by date for query Muharram. Sort by relevance Show all posts

Islamic Mahina Muharram par Majmoon kaise likhe | Urdu essay on Muharram Ul Haram

Islamic Mahina Muharram par Majmoon kaise likhe | Urdu essay on Muharram Ul Haram

short essay on Muharram | write essay on muharram in Urdu | importance of muharram | best speech on muharram in english | 10 lines on muharram in urdu | few lines about muharram

short essay on Muharram, write essay on muharram in Urdu ,importance of muharram ,best speech on muharram in english ,10 lines on muharram in urdu,few lines about muharram
Urdu essay on Muharram Ul Haram

دس محرم کا دین مسلمانوں کے لیے غم اور ماتم کا دین کیوں ہے؟
ہم مسلمانوں کو دس محرم کے دن کیا کرنا چاہیے؟
محرم الحرام پر مضمون
--------------------------------------------
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ نام ہی سے یہ مہینہ قابل احترام ہے۔ اس ماہ کے دسویں تاریخ کو عاشورا کہتے ہیں۔ اس دن کو روزہ رکھنا سنّت ہے۔ اس تاریخ کو بڑے بڑے واقعات ہوئے۔

آدم علیہ السلام اسی دسویں محرم کو اس دنیا سے جنت میں آئے تھے۔
اسی تاریخ کو زکریا علیہ السّلام کو آراء سے درخت میں چیرا گیا۔
اسی تاریخ کو یونس علیہ السّلام کو مچھلی نے نگلنے کے بعد ساحل ( کنارا ) پر اگل دیا۔

اسی تاریخ کو قیامت بھی ہوگی مگر اس تاریخ کو ہونے والا سب سے اہم واقعہ حضرت امام حسین کی شہادت ہے۔

حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد دسویں محرم کی اہمیت کچھ اور بڑھ گئی۔ اس تاریخ کو اب غم اور ماتم کا دین قرار دیا جانے لگا ۔

شہادت کے دردناک واقعہ کی اب یاد مختلف طریقوں سے منائی جاتی ہے۔

کہیں ماتم کی مجلس ہوتی ہے تو کہیں تعزیہ نکلا جاتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واقعہ کربلا کی پیشین گوئی اپنے حیات میں کئی بار کی تھی اور بار بار رویے بھی تھے۔

ہر جگہ تعزیہ نکا لے جاتے ہے اور جشن منایا جاتا ہے مگر نہ تو اسے امام حسین کی شہادت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور نہیں اسلامی طریقوں سے کوئی  مطابقت ظاہر ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عاشورا کو اسلامی طریقوں سے منایا جائے اور اس دین غمزدہ رہے۔

کچھ نام نہاد مسلمان اس دین کو خوشی اور مسرت کا دین سمجھ کر گانا بجانا کرکے جشن مناتے ہے جبکہ ایسے لوگو کو معلوم ہونا چاہیے اس دین ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے اور فاطمہ زہرا کے لخت جگر حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد دس محرم کو تاریخی حیثیت حاصل ہو گئی۔
کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین اور یزید کی فوج کے درمیان ہے جوڑ مقابلہ ہوا،  یزید کی فوج تقریباً 25000 تھی جبکہ حضرت امام حسین کے ساتھ صرف 72 آدمی تھے جو بے یار و مددگار  یزیدی فوج کے مقابلے میں تھے۔
ہفتوں سے بھوکے پیاسے رہ کر حضرت امام حسین اور انکے وفادار ساتھیوں نے یزیدی فوج کا مقابلہ کیا اور دس محرم جمعہ کے دن حضرت امام حسین اور انکے وفادار ساتھی بے بسی کی حالت میں شہید کر دیے گئے اس واقعہ کی یاد میں ساری دنیا کے مسلمان  دس محرم کو یوم غم  مناتے ہے۔

Share:

Kya Muharram ke mahine me Shadi nahi karna chahiye?

Kya Muharram ke mahine me Shadi nahi karni chahiye?

Khas kar Muharram ke mahine me Qabaristan jana kaisa hai?
Kya Muharram ke mahine me Shadi karne se islam mana karta hai?

Taziyadari karna Haram hai, 10 Muharram ko Julush nikalna aur Jashn manana haram hai.

محرم کے بعض مسائل:
تحریر: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
نمبر 1:
بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ’’محرم میں شادی نہیں کرنی چاہیے‘‘ اس بات کی شریعت ِ اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔

نمبر 2:
خاص طور پر محرم ہی کے مہینے میں قبرستان جانا اور قبروں کی زیارت کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے، یاد رہے کہ آخرت و موت کی یاد اور اموات کے لئے دعا کے لئے ہر وقت بغیر کسی تخصیص کے قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرکیہ اور بدعتی امور سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
نمبر 3:
عاشوراء (10 محرم) کے روزے کے بارے میں رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
’’وصیام یوم عاشوراء احتسب علی اللّٰہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ عاشوراء کے روزے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ گزشتہ سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
(صحیح مسلم: 2746، 196/1162)
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ
’’أفضل الصیام بعد رمضان شھر اللّٰہ المحرم‘‘
رمضان کے بعد سب سے بہترین روزے، اللّٰہ کے (حرام کردہ) مہینے محرم کے روزے ہیں۔
(صحیح مسلم: 2755، 20/1163)
سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں:
’’خالفوا الیھود وصوم التاسع والعاشر‘‘
یہودیوں کی مخالفت کرو اور نو اور دس (محرم) کا روزہ رکھو۔
(مصنف عبدالرزاق 4/287ح 7839 وسندہ صحیح، والسنن الکبریٰ للبیہقی 4/287)
نمبر 4:
محرم حرمت کے مہینوں میں سے ہے۔ اس میں جنگ وقتال کرنا حرام ہے اِلا یہ کہ مسلمانوں پر کافر حملہ کر دیں۔ حملے کی صورت میں مسلمان اپنا پورا دفاع کریں گے۔
نمبر 5:
محرم 6ھ میں غزوہ خیبر ہوا تھا (23مئی 627ء)۔ دیکھئے تقدیم تاریخی ص 2
نمبر 6:
10 محرم 61ھ کو سیدنا حسین رضی اللّٰہ عنہ کو کربلاء میں مظلومانہ شہید کیا گیا۔ ان کی شہادت پر شور مچا کر رونا، گریبان پھاڑنا اور منہ وغیرہ پیٹنا یہ سب حرام کا م ہیں۔ اسی طرح ’’امام زادے‘‘ وغیرہ کہہ کر افسوس کی مختلف رسومات انجام دینا اور سبیلیں وغیرہ لگانا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے مقالات للشیخ محدث العصر زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ (جلد 2 صفحہ 564)

نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو - شمارہ 21 صفحہ 7

Share:

Muharram ke dino me Sabil (سبیل) lagana sahi hai ya nahi?

Muharram-ul-Haram ke dino sabil lagana Jayez hai ya nahi?

سوال: محرم الحرام کے دنوں سبیل لگانا صیح ہے یا نہیں؟

*جواب تحریری
10 محرم عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر کشادگی کرنے کے تعلق سے ایک مختصر تحقیق*

از قلم :*
*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*

*🌺 ناشر :*
*البلاغ اسلامک سینٹر*
==========================
*الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین، اما بعد :*

محترم قارئین! جیسے ہی ماہِ محرم کا آغاز ہوتا ہے، ویسے ہی کہیں نا کہیں سے درج ذیل حدیث امیج وغیرہ کی صورت میں سامنے آجاتی ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ وَأَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَسَّعَ اللہُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ“
”جس نے یوم عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر فراخی کی تو اللہ اُس پر پورے سال فراخی کرتا ہے“۔
(شعب الایمان للبیہقی بتحقیق الدکتور عبد العلی :5/333،ح:3515 وغیرہ)

*🌸 اِس روایت کی بابت علماء کرام کے مابین اختلاف ہے:*
(1) اکثر و بیشتر علماء کرام اِس روایت کو سخت ضعیف اور ناقابل احتجاج قرار دیتے ہیں۔
(2) بعض علماء کرام اِس روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(3) بعض علماء کرام اِس روایت کو کئی طرق کی وجہ سے قوی قرار دیتے ہیں۔

راقم کہتا ہے کہ اِس روایت کے تعلق سے راجح بات یہ ہے کہ یہ سخت ضعیف اور منکر روایت ہے۔

اور اِس روایت کی تضعیف پر راقم نے ایک مفصل رسالہ بھی لکھا ہے جو کہ اِس نام سے ہے:
*حدیث :”مَنْ وَسَّعَ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَسَّعَ اللہُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ“ تحقیق کے میزان پر*
*{احسن المقال فی التوسعۃ یوم عاشوراء علی العیال}*

🌸 اِس رسالے کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر بحث روایت پانچ (5) صحابہ کرام سے مروی ہے:

*(1) ابو ہریرہ عبد الرحمن الدوسی رضی اللہ عنہ*
اِن سے یہ روایت دو طریق سے مروی ہے۔

*(2) عبد اللہ بن مسعود الہذلی رضی اللہ عنہ*
اِن سے صرف ایک طریق سے مروی ہے۔

*(3) سعد بن مالک ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ*
اِن سے دو طریق سے مروی ہے۔

*(4) عبد اللہ بن عمر القرشی المدنی رضی اللہ عنہ*
اِن سے بھی دو طریق سے مروی ہے۔

*(5) جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ*
اِن سےبھی دو طریق سے مروی ہے۔

راقم کہتا ہے کہ مذکورہ تمام سندیں سخت ضعیف ہیں سوائے دو سندوں کو چھوڑ کر، وہ دونوں سندیں راوی کا وہم اور منکر ہیں۔
اور جس روایت کی سندوں کا یہ حال ہو تو وہ روایت نا صحیح ہوتی ہے اور نا ہی کئی طریق کی وجہ سے قوی ہوتی ہے۔

اِس کے علاوہ یہ روایت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے موقوفا بھی مروی ہے لیکن اُس کی سند بھی ضعیف ہے۔

ہاں، یہ متن ابراہیم بن محمد بن المنتشر الکوفی رحمہ اللہ سے صیغہ تمریض کے ساتھ ثابت ہے۔

پھر بعد میں مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ زیر بحث حدیث کی تصحیح میں دو (2) کتابیں لکھی گئی ہیں:

*(1) ”التوسعۃ علی العیال“.*
اِس کتاب کے مصنف امام ابو الفضل عبد الرحیم بن الحسین العراقی رحمہ اللہ (المتوفی : 806ھ) ہیں۔

*(2) ”ہدیۃ الصغراء بتصحیح حدیث التوسعۃ یوم عاشوراء“.*
اِس کتاب کے مصنف علامہ احمد بن محمد الغماری رحمہ اللہ (المتوفی:1380ھ) ہیں۔

مذکورہ دونوں کتابوں میں الاستذکار لابن عبد البر والی سند کو صحیح قرار دیا گیاہے لیکن یہ سند بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے لیکن صحیح ہے نہیں۔
اِن شاء اللہ مذکورہ دونوں کتابوں کا جواب مذکورہ رسالے میں پیار محبت سے پیش کیا جائے گا۔

اللہ تعالی بندئہ ناچیز کو حق کہنے، لکھنے اور حق کو قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

*وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.*

*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*
*صدر البلاغ اسلامک سینٹر*
️ 09-محرم-1442ھ*
️ 29-اگست-2020ء*

Share:

Yaume Ashura ka roja kaun se din ko rakhna chahiye?

Ashura ka roja Kitne din rakhna chahiye?
Muharram ke mahine me kitne roje rakhne chahiye?
ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ.

नबी करीम ﷺ ने फरमाया: आशूरा का रोज़ा मैं समझता हूँ के इस के ज़रिये अल्लाह तआला पिछले एक साल के (सगीरा) गुनाह माफ़ कर देगा।

Nabi kareem ﷺ ne farmaya: aashora ka roza main samjhta hun ke iske zariye Allah taala pichhle ek saal ke (sagheera) gunah maaf kar dega.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: عاشوراء کا روزہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پچھلے ایک سال کے (صغیرہ) گناہ معاف کر دے گا ۔

Allah's Apostle ﷺ said: “Fasting the day of ‘Ashura’, I hope, will expiate for the (sagheera) sins of the previous year.”

📚 _*Sunan ibne majah: jild 1, kitab ul siyam 7, hadith no. 1738*_
*Grade sahih*

~•~•~•~•~•~•~•~•~•~•~•~•~
नबी करीम ﷺ ने आशूरा के दिन रोज़ा रखा और इस रोज़े का हुक्म फ़रमाया तो सहाबा र•अ ने अर्ज़ किया ए अल्लाह के रसूल ﷺ उस दिन तो यहूदी और नसारा ताज़ीम करते हैं तो रसूल अल्लाह ﷺ ने फ़रमाया की जब आइन्दा साल आएगा तो हम नौवीं (9) तारीख़ का भी रोज़ा रखेंगे रावी (हज़रत अब्बास र•अ) ने कहा की अभी आइन्दा साल नहीं आया था की रसूल अल्लाह ﷺ वफ़ात पा गए।

📚 Sahih muslim: jild 3, kitab al siyam 13, hadith no. 2666.

Share:

Bari Shin (ش) ka Choti Sin (س) se dosti ya dushmani?

Bari Shin aur choti sin ka Jhhagra.
Yah Muharram kyu manate hai kuchh muslim log?
تحریر ::احسن مدنی
🌹🌹سین اور شین کی کہانی 🌹🌹

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شین نے سین سے دوستی کرنے کاسوچا اور تمام تر ہمدردیاں بروے کار لایا
شین نے سین کو کچھ ہمدردی کے لولی پاپ بھی دئیے
🔥ہم دونوں بھای ہیں
🔥ہم میں اور آپ میں کوی فرق نہیں
🔥دونوں کی محبتوں کا محور ایک ہی ہستی ہے
🔥 ہم ایک ہو کرپوری دنیا میں  محبت کا پیغام عام کریں گے اور
🔥اتحاد امت
کے نعروں سے اپنے دامن تزویر میں پھانس لیا 
شین کی چرب زبانی نے سین کے سادہ لوگوں کو گھیر لیا
وقت کے گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ
سین کے دل پر شین کے تین نقطے نہیں بلکہ تین ایٹم بم ہیں
📌توہین انبیاء
📌 توہین صحابہ
📌توہین اولیاء

جب ایک ایک کر کے گرے تو سین کی آنکھیں کھلی لیکن
💐بہت دیر کی مہرباں  آتے آتے 💐
کے مصداق پانی سر سے گزر چکا تھا
اب اس بے یارو مددگار سین کو آپ لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے
اس کے باقی ماندہ افراد کو خالص عقیدے کے لباس کی اشد ضرورت ہے

فتنوں کی تند  تیز  سرد ہواہوں سے بچنے کیلے
محبت انبیاء و صحابہ و اولیاء  کے گرم مشروب کی حاجت ہے
اپ سے گزارش ہے آپ بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ شامل فرمائیں

Share:

Mujhe rona nahi aata to kya Jabardasti roye?

Muharram ke mahine me rona dhona karna kya Islam ka tarika hai?

Kya muharram ke mahine me rona aur matam karna Jayez hai?

Kya Muharram ka Mahina gam aur matam ka mahina hai?
Agar Hussain razillahu ka matam kiya ja sakta hai to Abu Bakar, umar, Ali razillahu ka kyu nahi?

ماہ محرم میں رونا دھونا

*سینے پر مُکے تھپڑ،پشت پر خنجر برسیں گے*
*اصحابِ رسول کے دشمن یونہی تا قیامت تڑپیں گے*

مجھے رونا نہیں آتا تو کیا کوئی زبردستی ہے؟
جی جی بالکل آپ کو رونا ہی پڑے گا، اگر نہیں روئے تو اس کا مطلب آپ کو اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ آپ نہیں رو سکتے تو ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسے قصے سنائیں گے جنھیں سننے کے بعد آپ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیں گے اور نہیں تو کچھ بھی کریں لیکن روئیں۔

ماہ محرم کو کچھ لوگوں نے ماہ ماتم سمجھ لیا ہے۔ رونا ضروری ہے، شادی نہیں کر سکتے، مبارک باد نہیں دینی ہے، گوشت نہیں کھانا ہے، فلاں نہیں جانا ہے اور فلاں نہیں چھونا ہے........، یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟

یہ زبردستی رونے دھونے کا ڈرامہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی پیارے کی وفات پر قطعی طور پر رونا آ جانا محبت اور رحم کے جذبے کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل درست اور جائز ہے لیکن ہر سال رونے رلانے کے لیے بیٹھ جانا ایک عجیب حرکت ہے۔

اس دنیا میں ہر کسی کے بہن بھائی، ماں باپ، اولاد اور رشتہ دار فوت ہوتے رہتے ہیں، مرشد و استاد فوت ہوتے رہتے ہیں، ان سب کے لیے ایصال ثواب کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے مگر سال کے سال رونے کا دھندا نہیں کیا جاتا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں شہید کیے گئے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی دنوں تک ان کے گھر میں محصور کر کے اور ان کا پانی بند کر کے پیاس کی حالت میں شہید کر دیا گیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے چھرا مار کر شہید کردیا گیا.....، ظلم کی یہ داستانیں ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے موقعے پر ہم سال کے سال نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ روتے ہیں۔

چلیں سب کچھ چھوڑ دیں، احادیث میں آتا ہے کہ دنیا کا سب سے تاریک دن وہ تھا جس دن رحمت عالم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے؛ اگر ہر سال غم منانا اور رونا رلانا جائز ہوتا تو اللہ کی عظمت کی قسم ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال پوری دنیا میں کہرام برپا ہو جایا کرتا۔ اب ہم ہر سال میلاد مصطفی کی خوشی تو ضرور مناتے ہیں مگر وصال کی وجہ سے نہ ماتم کرتے ہیں اور نہ تو صرف روتے ہیں۔

جو لوگ اہل سنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ امام حسین سے محبت نہیں کرتے، انھیں غور کرنا چاہیے کہ اہل سنت کی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کو تو کوئی مائی کا لال چیلنج نہیں کر سکتا، آخر حضور کے وصال کے موقعے پر ہم کیوں نہیں روتے؟
یہاں سے بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہر سال رونے دھونے بیٹھ جانا ایک غیر شرعی حرکت ہے اور جو لوگ سنی کہلانے کے باوجود ہر سال یہ دھندا کرتے ہیں انھیں روافض کا ٹیکا لگ چکا ہے۔

اللہ کے پیاروں کا طریقہ تو یہ ہے کہ پیاروں کی عین وفات کے دن بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں اور آنسوؤں پر بھی کنٹرول رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ہاں البتہ بے اختیار آنسو نکل آنا ایک الگ بات ہے۔

اگر کسی کو اتفاقیہ رونا آ جائے تو ایسے رونے میں کوئی قباحت نہیں لیکن تکلف کے ساتھ جان بوجھ کر رونے دھونے بیٹھ جانا اور اسے غم حسین میں رونا سمجھ کر ثواب کی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔

Share:

Muharram ke mahine me yah sab karna Jayez nahi.

Muharram ke mahine me Tajiya manana haram hai.
*Muharram ke mahine me ye sab karna Jayez Nahi.* ❌❌❌
----------------------------------------
❌ *Tazia banana*

❌ *Matam karna.*

❌ *Special koi Pakwan pakana*

❌ *logo me sharbat baatna* (Specially khaas din)

❌ *Kisi bhi din ya Ebadat ko makhsoos khud se kar lena jisko Rasoolullah ﷺ ya Sahaba ,Tabaee ne nahi kiya hoto wo Bidaat hai.*
➡ *Deen me koi bhi nayi cheez Shamil krna bidat hai*
📚 [Sahih al bukhari:2697]
( *हर बात दलील के साथ)*

Share:

10 Muharram ke mutalliq se jhoote aur mangharat bayanat.

Muharram ke Talluq se kuchh jhoote aur mangharat bayanat.
*10 MUHARRAM SE MUTALLIQ KUCH JHOOTE AUR MANGHADAT BAYAANAT*❌❌
-------------------------------------------
❌ Yahi woh din hai jisme Allah ne Adam A.s. ki tauba qubool ki.

❌ Yahi woh din hai jisme hazrat ibrahim A.s. ko aag se nijaat di gai.

❌ Jisne Ashoora (10 Muharram) ka roza rakha uske liye Allah ne un 60 saal ki ibadat likh di jisme namaz roze bhi hain.

❌ Jisne Ashoora ka roza rakha use Allah ne 1000 hajiyo aur umrah karne walo ka sawab diya.

❌ Ashoora ke din Allah ne jibreel, farishton, Adam A.s. aur ibrahim A.s. ko paida kiya.

❌ Ashoora ke din hi Allah ne dumba ki soorat me Hazrat ismail A.s. ka fidya diya.

❌ Ashoora ke din jisne ghusl kiya woh marz-e-maut ke siwaye kabhi bimar nahi hoga

❌ Jisne Ashoora ke din 4 rakaat is tarah padhi ki har rakat me surah Fatihah ek martaba aur surah ikhlaas 50 martaba tilawat ki to Allah ne uske maazi (past) wa mustaqbil (future) ke 50-50 saala gunah maaf kar diye.

Isi tarah Nabi ﷺ ne farmaya:-
-----------
*Jisne meri taraf jhooth mansoob kiya, wo jahannam me dakhil hoga*
📚(Muslim h# 1- 6 )

Share:

Kya Muharram ka mahina gam aur matam ka mahina hai?

Kya muharram gam aur matam ka mahina hai?
Muharram ke mahine me matam karna kaisa hai?

*BISMILLAHIR RAHMANIR RAHIM*
----------------------------------------------
*Kya Muharram Gam (गम) ka Maheena Hai?
----------------------------------------------
Allama Iqbal ne kaha:-
👉 *Keh Do Gham-E- Husain Manany Walon Ko*
*Momin Kabhi Shaheedo Ka Matam Nhi Krte.*

👉 *Hai Ishq Apni Jan Se Zyada Aal-E-Rasol Se*
*Yun Sar-E-Aam Hum Unka Tamasha Nai Krty*.❌

👉 *Phir bat yeh bhi qabile ghaur hai ki islami tarikh shahaadaton se bhari padi hai. koi din aisa nahi jisme kisi sahabi ki shahaadat na hui ho. jaise ki "Umar Farooq" (RaziAllahu anhu) ki shahadat ka waqiya. agar baad me hone wali in shahadaton ke manaane ki shar'an koi haisiyat hoti to hazrat Umar Farooq RaziAllahu anhu ki shahadat is laaiq thi ki ahle islam iska aitebar karte. Hazrat Usman RaziAllahu Anhu ki shahadat aisi thi ki iski yadgar manai jati. phir in shahadato ki bina par agar islam me maatam ki ijaazat hoti to yaqinan tarikh-e-islam ki yeh dono shahadaten aisi thi ki ahle islam in par jitna bhi maatam karte kam hota.*

👉*Hasan or Hussain (r) ki shahadat ka waqiya to Nabi Kareem ﷺ ki wafaat se 50 saal baad pesh aya*
-----------------------------------
👉 Yeh bhi khayal rahe ki is mahine ki hurmat sayyidina Hazrat Husain RaziAllahu anhu ke waqiya-e-shahadat se pehle hi sabit chali a rahi hai. jaisa ki upar wazahat guzri. Baaz log yeh samajhte hain ki yeh mahina isliye qabil-e-ahtraam hai ki isme hazrat Husain RaziAllahu anhu ki shahadat ka waqiya pesh aya tha. yeh khayal bilkul ghalat hai. Yeh shahadat ka waqiya to Nabi Kareem ﷺ ki wafaat se 50 saal baad pesh aya aur deen ki takmeel Nabi kareem ﷺ ki zindgi me kar di gai thi.
📚(Dekhiye Surah Mayda, Ayat No-3)

*Or Matam ko to Nabi ﷺ ne taqeed se mna Farmaya tha*
-----------------------------------------
*Mayyat ko is par Noha (matam) kiya jane ki wajah se bhi Qabar mai Azab hota hai* 😔😔
------------------------------------
👉Abdullah bin Umar radi allahu taaala anhu ne apne walid se rivayat kiya ki  Nabi Kareem sallallahu alaihi wasallam ne farmya ke Mayyat ko is par Noha (matam) kiya jane ki wajah se bhi Qabar mai azab hota hai.
📚 {Sahih al-Bukhari:,1292}

👉 Lekin ek to *islam me maatam ki ijazat nahi, dusre yeh tamaam waqiyaat takmeel deen ke baad pesh aye hain*, isliye inki yaad me majlisen aur mehfil-e-maatam qaaim karna deen me izaafa hai.

👉Rasool Allah  ﷺ  ne farmaya:-
👉 *Har bidat (deen me nyi cheez) gumrahi hai or har gumrahi ka thekana jahnnam hai.*
📚 [Sunan Nasaii 1579 Sahih - islam360]

*Allah ne farmaya:*
👈 *اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا*

👉 *Mai ne tumhare liye Deen ko mukammal (complete) kr diya hai*
(matlb deen ke tariqe me koi bhi cheez joda ya hataya nhi ja sakta hai.)
📚 [Quran Surah mayda ayt: 3]

*Muharram gam ka Maheena nahi Ibadat ka Maheena hai.*
----------------------------------------
👉 Muharram me kasrat se *nafli roze rakhne chahiye kyunki Nabi Kareem ﷺ ne farmaya- Ramzaan ke baad afzal tareen roze Allah ke mahine Muharram ke hain.*
📚( Abu Dawud-2429, Sahih Muslim-1163, 1123,)
( *हर बात दलील के साथ*)

Share:

Muharram ka mahina aur waqya Karbala, muharram ke mahine me hone wali biddat.

Muharram ke mahine me hone wali biddat.

Muharram ka mahina aur Karbala ka waqya.

Ahemad Raza Khan ka Fatwa Taziyadari karna haram hai?


سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  محترم و مکرم علمائے کرام امید ہیکہ تمام حضرات خیر وعافیت سے ہونگے عرض ہیکہ محرم الحرام اور واقعہ کربلا اور شھادت حسین کے بارے میں کچھ ارسال کریں؟

*جواب تحریری
*محرم الحرام کی رسومات و بدعات

یکم محرم الحرام کی ابتداء ہی سے بدعات و خرافات کی رسمیں شروع ہوجاتی ہیں ۔ کچھ رسمیں کھانے پکانے سے متعلق ہیں تو کچھ رسمیں ماتم و عزا سے متعلق ۔ اور کچھ رسمیں شرک و بدعات سے متعلق*

جیساکہ ہمیں معلوم ہے یہ مہینہ اشہرحرم میں سے ہے ۔اس لئے جہاں ایک طرف اس مہینے کی حرمت کو بچانا ہے وہیں اس مہینے کے افضل اعمال میں سے روزہ رکھنا ہے اس وجہ سے جس قدر ہوسکے روزہ رکھنا ہے،
کم از کم عاشوراء کا روزہ ۔
مگر افسوس صد افسوس بدعتی لوگوں نے شیعہ کی تقلید میں اس مہینے کو ایک طرف غم کا مہینہ قرار دے کر بدعات وخرافات کا ارتکاب کیا تو دوسری طرف سبیل حسین اور نذرنیاز کے نام پہ نوع بنوع کھانے کا اہتمام کیا۔
کجا حرمت محرم ،کجا صوم عاشوراء ؟
ایسے حالات میں ہمیں ان رسم و رواج کا جائزہ لینا ہے تاکہ اپنا ایمان و عمل سلامت رکھ سکیں۔

1 *ماتمی جلوس اور سوگ :
ایک سے دسویں محرم تک مجالس عزاداری قائم ہوتی ہیں جن میں ماتم کیا جاتا ہے خصوصا کربلاسے متعلق جھوٹی اور فرضی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں ۔ اس پس منظر میں امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر درپردہ حملے کئے جاتے ہیں ۔جیسے شیعہ کھلم کھلا صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اسی طرح یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح مسلمان بھی صحابی کو گالی دے کر اپنا ایمان ضائع کریں۔ بغیر ثبوت کے یزید کو سب وشتم کیا جاتاہے ۔یاد رہے ہم مسلمانوں کو اسلام نے ماتم سے منع کیا ہے جو ماتم کرے یا ماتم کی مجلس قائم کرے وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے ۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ
(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اسی طرح شہادت حسین اور ماتم کے پس منظر میں جس طرح صحابی رسول امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کا جو دروازہ کھولاجاتا ہے ایسے لوگ
پیارے نبی ﷺ کا یہ فرمان سن لیں ۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم :لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه۔
(صحيح البخاري:3673،صحيح مسلم:2541)
ترجمہ : جنابِ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا،

٭یہ الگ مسئلہ ہے کہ کسی کی وفات پہ تین دن سوگ مناسکتے ہیں، سوگ منانا تین دن جائز ہے مگر ماتم کرنا یعنی رونا، پیٹنا، گریبان چاک کرنا ، نوحہ کرنا کبھی بھی جائز نہیں ہے،

*یہاں لوگ من گھڑت دلیل دیتے ہیں کہ یعقوب علیہ السلام نے یوسف کے غم میں ماتم کیا*؟
یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے ایک نبی علیہ السلام پر،
اللہ انکو غارت کرے جو یہ جھوٹ باندھتے ہیں!!

سیدنا يعقوب عليہ السلام نے سينہ كوبى نہيں كى، اور نہ ہى اپنے چہرے كو زخمى كيا، اور نہ خون بہايا، اور نہ ہى اس دن كو جس ميں يوسف عليہ السلام گم ہوئے تھے تہوار بنايا اور نہ ہى اس روز كو ماتم كے ليے مختص كيا، بلكہ وہ تو اپنے پيارے اور عزيز بيٹے كو ياد كرتے اور اس كى دورى سے پريشان و غمزدہ ہوتے تھے، اور يہ ايسى چيز ہے جس كا كوئى بھى انكار نہيں كر سكتا اور كوئى بھى روك نہيں سكتا، بلكہ ممانعت و برائى تو اس ميں ہے جو جاہليت كے امور بطور وراثت لے كر اپنائے جائيں جن سے اسلام نے منع كر ديا ہو.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے ايسى كوئى چيز مشروع نہيں فرمائى اور نہ ہى اس ماتم كے قريب بھى كچھ مشروع كيا ہے كہ اگر كوئى عظيم مقام و رتبہ والا شخص فوت ہو جائے يا كوئى دوسرا شہيد ہو تو اس كے ماتم ميں ايسى خرافات كى جائيں،
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں كئى ايك كبار صحابہ كرام كى شہادت ہوئى اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم ان كى موت پر غمزدہ بھى ہوئے مثلا حمزہ بن عبد المطلب اور زيد بن حارثہ اور جعفر بن ابى طالب اور عبد اللہ بن رواحہ ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كوئى عمل نہيں كيا جو شيعہ حضرات كرتے ہيں، اور اگر يہ كام خير و بھلائى ہوتى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں ہم سے سبقت لے جاتے،

چنانچہ محرم کے دنوں میں شيعہ حضرات جو غلط كام كرتے ہيں اس كى دين اسلام ميں كوئى دليل نہيں ملتى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ ميں سے كسى ايك كو بھى اس كى تعليم نہيں دى، اور نہ ہى كسى صحابى يا كسى دوسرے كى موت پر ايسے اعمال كيے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت پر صحابہ كرام نے بھى ايسا نہيں کیا،

*حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كى مصيبت تو حسين رضى اللہ تعالى كى موت سے بھى زيادہ تھی*

٭٭٭حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” ہر مسلمان كو چاہيے كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے شہید ہونے پر غمزدہ ہونا چاہيے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ مسلمانوں كے سردار اور علماء صحابہ كرام ميں سے تھے اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے نواسے اور آپ كى اس بيٹى كى اولاد ميں سے جو سب بيٹيوں سے افضل تھى، اور پھر حسين رضى اللہ تعالى عنہ عابد و زاہد اور سخى و شجاعت و بہادرى كا وصف ركھتے تھے.
ليكن شيعہ حضرات جو كچھ كرتے ہيں اور جزع و فزع اور غم كا اظہار جس ميں اكثر طور پر تصنع و بناوٹ اور رياء ہوتى ہے ان كا يہ عمل اچھا نہيں،
حالانكہ جنابِ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد سیدناعلى رضى اللہ تعالى عنہ تو اپنے صاحبزادےحسين سے افضل تھے انہيں شہيد كيا گيا ليكن وہ اس كے شہید ہونے پر ماتم نہيں كرتے تھے جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے شہید ہونے والے دن ماتم كرتے ہيں.

كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ كو چاليس ہجرى سترہ رمضان المبارك جمعہ كے روز اس وقت شہید كيا گيا جب وہ نماز فجر كى ادائيگى كے ليے جا رہے تھے،

اور اسى طرح عثمان رضى اللہ تعالى عنہ على رضى اللہ تعالى عنہ سے افضل ہيں انہيں محاصرہ كر كے ان كے گھر ميں چھتيس ہجرى ماہ ذوالحجہ كے ايام تشريق ميں شہيد كيا گيا، اور انہيں رگ رگ كاٹ كر ذبح كيا گيا، ليكن لوگوں نے انکی شہادت كے دن كو ماتم نہيں بنايا.

اور اسى طرح عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ عثمان اور على رضى اللہ تعالى عنہما سے افضل ہيں انہيں نماز فجر پڑھاتے ہوئے محراب ميں قرآن مجيد كى تلاوت كرتے ہوئے شہيد كيا گيا ليكن لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم كا دن نہيں بنايا.

اور اسى طرح ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ ان سے افضل تھے اور لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم والا دن نہيں بنايا، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو دنيا و آخرت ميں اولاد آدم كے سردار ہيں آپ كو بھى اسى طرح قبض كيا گيا اور فوت كيا گيا جس طرح پہلے انبياء كو فوت كيا گيا، ليكن كسى ايك نے بھى ان كى موت كو ماتم نہيں بنايا، اور وہ ان رافضى جاہلوں كى طرح كريں جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے شہید ہونے كے دن خرافات كرتے ہيں…

*اس طرح كى مصيبتوں كے وقت سب سے بہتر وہى عمل ہے جو حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے انہوں نے اپنے نانا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا*

جس كسى مسلمان كو بھى كوئى مصيبت پہنچى ہو اور وہ مصيبت ياد آئے چاہے وہ پرانى ہى ہو چكى ہو تو وہ نئے سرے سے دوبارہ
انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھے تو اللہ تعالى اسے اس مصيبت كے پہنچنے والے دن جتنا ہى اجر و ثواب عطا كرتا ہے ”
اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے ” انتہى

(ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 221 )

اور ايك مقام پر لكھتے ہيں:
” چوتھى صدى ہجرى كے آس پاس بنو بويہ كے دور حكومت ميں رافضى شيعہ حضرات اسراف كا شكار ہوئے اور بغداد وغيرہ ميں يوم عاشوراء كے موقع پر ڈھول پيٹے جاتے اور راستوں اور بازاروں ميں ريت وغيرہ پھيلا دى جاتى اور دكانوں پر ٹاٹ لٹكا ديے جاتے، اور لوگ غم و حزن كا اظہار كرتے اور روتے، اور ان ميں سے اكثر لوگ اس رات پانى نہيں پيتے تھے تا كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى موافقت ہو؛ كيونكہ وہ پياسے شہید ہوئے تھے.

پھر عورتيں چہرے ننگے كر كے نكلتيں اور اپنے رخسار پيٹتيں اور سينہ كوبى كرتيں ہوئى بازاروں سے ننگے پاؤں گزرتيں اور اسكے علاوہ بھى كئى ايك قبيح قسم كى بدعات اور شنيع خواہشات اور اپنى جانب سے ايجاد كردہ تباہ كن اعمال كرتے، اور اس سے وہ حكومت بنو اميہ كو برا قرار ديتے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ ان كے دور حكومت ميں شہید ہوئے تھے.

ليكن اہل شام كے نواصب نے شيعہ و رافضيوں كے برعكس كام كيا، وہ يوم عاشوراء ميں دانے پكا كر تقسيم كرتے اور غسل كر كے خوشبو لگا كر بہترين قسم كا لباس زيب تن كرتے اور اس دن كو تہوار اور عيد بنا ليتے اور مختلف قسم كے كھانے تيار كر كے خوشى و سرور كا اظہار كرتے، ان كا مقصد رافضيوں كى مخالفت اور ان سے عناد ظاہر كرنا تھا ” انتہى
(ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 220 )

*جس طرح اس دن ماتم كرنا بدعت ہے اسى طرح اس دن خوشى و سرور ظاہر كرنا اور جشن منانا بھى بدعت ہے، اسى ليے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:*

٭” حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سبب ميں شيطان نے لوگوں ميں دو قسم كى بدعات ايجاد كروائيں ايك تو يوم عاشوراء كے دن ماتم كرنا اور غم و حزن كا اظہار اور سينہ كوبى كرنا اور مرثيے پڑھنا… اور دوسرى بدعت خوشى و سرور كا اظہار كرنا…
ان لوگوں نے غم و حزن اور ماتم ايجاد كيا اور دوسروں نے اس كے مقابلہ ميں خوشى و سرور كى ايجاد كى اور اس طرح وہ يوم عاشوراء كو سرمہ ڈالنا اور غسل كرنا اور اہل و عيال كو زيادہ كھلانا پلانا اور عادت سے ہٹ كر انواع و اقسام كے كھانا تياركرنا جيسى بدعت ايجاد كر لى، اور ہر بدعت گمراہى ہے آئمہ اربعہ وغيرہ دوسرے مسلمان علماء نے نہ تو اسے اور نہ ہى اس كو مستحب قرار ديا ہے ” انتہى
(ماخوذ از: منھاج السنۃ ( 4 / 554 ) مختصرا)

*يہاں اس پر متنبہ رہنا چاہيے كہ ان غلط قسم كے اعمال كى پشت پناہى دشمنان اسلام كرتے ہيں تا كہ وہ اپنے گندے مقاصد تك پہنچ سكيں اور اسلام اور مسلمانوں كى صورت كو مسخ كركے دنيا ميں پيش كريں*

اسى سلسلہ ميں موسى الموسوى اپنى كتاب ” الشيعۃ و التصحيح ” ميں لكھتے ہيں:
” ليكن اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سوگ ميں دس محرم كے دن سينہ كوبى كرنا اور سروں پر تلواريں مار كر سر زخمى كرنا اور زنجير زنى كرنا ہندوستان سے انگريز دور حكومت كے وقت ايران اور عراق ميں داخل ہوا، اور انگريزوں نے شيعہ كى جہالت اور امام حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے محبت كو موقع غنيمت جانتے ہوئے انہيں سروں پر بيرنگ مارنے كى تعليم دى، حتى كہ ابھى قريب تك طہران اور بغداد ميں برطانوى سفارت خانے ان حسينى قافلوں كى مالى مدد كيا كرتے تھے جو اس دن سڑكوں پر نكالنے جاتے، اس كے پيچھے غرض صرف سياسى اور انگريزى استعمار و غلبہ تھا تا كہ وہ اس كو بڑھا كر اس كى آبيارى كريں، اور اس سے بھى بڑھ كر يہ كہ وہ اپنے معاشرے اور آزاد ميڈيا كے سامنے ايك معقول بہانا مہيا كرنا چاہتے تھے جو برطانيہ كا ہندوستان اور دوسرے اسلامى ملكوں ميں قبضہ كى مخالفت كرتے تھے.
اور وہ يہ ظاہر كرنا چاہتے تھے كہ ان ممالك ميں بسنے والے وحشى ہيں جو تربيت كے محتاج ہيں كہ انہيں جہالت اور وحشيوں كى وادى سے نكال كر ترقى يافتہ معاشرہ بنايا جائے، اس طرح يورپى اور انگريزي روزناموں اور ميگزينوں ميں تصاوير شائع كى جاتيں كہ ہزاروں افراد كے قافلے عاشوراء كے موقع پر زنجير زنى سے ماتم كر كے بازاروں ميں گھوم رہے ہيں اور سروں پر تلوار اور بيرنگ سے خون نكالا گيا ہے.

2 *ماتمی ہیئت وکیفیت:*
سیاہ لباس پہنا، غسل چھوڑدینا، زیورات اتاردینا،چولہے اوندھے کردینا،نوبیاہی عورتوں کا میکہ میں قیام کرنا وغیرہ سارے ماتمی اعمال ہیں، اور میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ سوگ صرف تین دن جائز ، پھرکبھی اس میت كا دوسرے یا تیسرے سال سوگ نہیں منانا ہے۔اور ماتم کسی بھی قسم کی جائز نہیں ہے ۔ اور پھر سالہا سال ماتم منانا اسے سنت کا قائم مقام بناناہے،

٭٭٭ ایسے لوگوں کو نبی ﷺکا یہ فرمان سناتاہوں ۔
من سنَّ في الإسلامِ سُنَّةً حسنةً ، فعُمِل بها بعده ، كُتِبَ له مثلُ أجرِ مَن عمل بها . ولا ينقصُ من أجورِهم شيءٌ . ومن سنَّ في الإسلامِ سُنَّةً سيئةً ، فعُمِل بها بعدَه ، كُتب عليه مثلُ وِزرِ من عمل بها ، ولا ينقصُ من أوزارِهم شيء
ٌ(صحيح مسلم:1017)
ترجمہ : جس کسی نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس پر بعد میں عمل ہونے لگا تو اس کے لئے بھی اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر لکھا جائے گااور کسی کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ اور جس کسی نے اسلام میں برا طریقہ جاری کیا اور بعد میں اس پر عمل کیا جانے لگا تواس کے لئے اس پر عمل کرنے والے کے برابر گناہ لکھا جائے گا اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی،

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ماتم کی ساری رسمیں شیعہ کی ایجاد ہیں،
352 ہجری میں غالی شیعہ ابن بویہ نے دوکانیں بند کرنے ، ماتمی لباس لگانے ، چہرہ نوچنے، گریبان چاک کرنے ، عورتوں کو سیاہ لباس لگانے ، ماتم کرتے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیہ پڑھتی چھاتیاں پیٹتے نکلنے کا حکم دیا۔ شیعہ نے یہ حکم سنیوں پر بھی بالجبر نافذ کیا جو آج تک چلتا آرہاہے یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی شیعہ حکمرانوں کے دور میں رواج پاگیا۔

(3) *قبروقبرستان کی رونق*
محرم کی ابتداء ہی سے قبروں کی صفائی ، لپائی پتائی اور قبرستان کو بارونق بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دس محرم کو قبریں منور اور قبرستان بارونق ہوجاتا ہے ۔ پھر مردوعورت ، جوان بوڑھے ، چھوٹے بڑے تمام ہجوم کے ساتھ قبروستان پہنچتے ہیں جہاں میلہ لگاہوتا ہے ۔ پھول ، مالا، اگربتی ، موم بتی کاروبار ایک طرف اور عورت ومرد کا اختلاط دوسری طرف ۔ پھر قبروں پہ نذرونیاز، پھول مالے اور اگربتی وموم بتی کی رسمیں انجام دینا ،قل و فاتحہ سے مردوں کو ثواب بخشنا، اور ان سے استغاثہ کرنا ،

*قبروں کی زیارت مسنون عمل ہے مگر قبروں کو میلہ ٹھیلہ کی جگہ بنانا، اس کو سجدہ کرنا، اس سے مراد مانگنا، اس کے لئے نذر و نیاز کرنا، وہاں نماز پڑھنا یہ سب شرکیہ وبدعیہ اعمال ہیں ۔
ان چیزوں سے نبی ﷺ نے منع فرمایاہے :

اللهم لا تَجْعَلْ قبري وثنًا يُعْبَدُ، اشتد غضبُ اللهِ على قومٍ اتخذوا قبورَ أنبيائِهم مساجدَ
(تخريج مشكاة المصابيح للالبانی : 715، اسنادہ صحیح)
ترجمہ: یا اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا جسے لوگ پوجنا شروع کر دیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب اور قہر نازل ہوا جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔

*عورتوں کا وہاں اختلاط حرام ہے، قل وفاتحہ ، اگربتی وموم بتی کی رسم بدعت ہے اورقبروں کو لیپنا پوتنا،قبرستان کو بارونق بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ایسا آدمی قبر کا پجاری اور آخرت سے مغفل ہے ورنہ جس سے عبرت لینی ہے اسے چمکانا نہیں ہے وہاں آنسو بہانا ہے اور آخرت کی یاد تازہ کرنی ہے*

(4) *سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی نذرونیاز اورسبیل :
یہ مہینہ مکمل نذرونیاز کا ہی ہے ۔شروع دن سے خواتین گھروں میں نذرونیاز کا خوب اہتمام کرتی ہیں ۔کھچڑا، حلیم،بریانی ، مٹرپلاؤ،زردہ اور فرنی وغیرہ پکائے جاتے ہیں ۔اسے لوگوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے اور قبروں ودرگاہوں پر بطور نذر پیش کیا جاتا ہے خصوصاعلی ہجویری المعروف داتا گنج بخش،حضرت میاں میر،حضرت پیر مکی،حضرت مادھو لال حسین،حضرت خواجہ طاہر بندگی،حضرت عنایت حسین قادری،حضرت موج دریا اور دیگر درگاہوں پر۔ امام حسین کی نذرونیاز بھی بطور خاص پیش کی جاتی ہے ۔
غیراللہ کے نام کے چڑھاوے ، نذر، قربانی، ذبیحہ سب شرک کے قبیل سے ہیں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :
إِنَّمَا حَرَّ‌مَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ‌ اللَّهِ (البقرة: 173)
ترجمہ : تم پر مردہ اور (بہاہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہروہ چیز جس پراللہ کے سوا دوسروں کا نام پکاراگیاہوحرام ہے،

اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی سبیلیں لگائی جاتی ہے ۔
دلیل میں کبھی کہتے ہیں کہ ان پر پانی بند کیا گیاتھا تو کبھی کہتے ہیں :” جس شخص نے عاشوراء کے روز اپنے اہل و عیال (کے رزق کے معاملہ) پر فراخی وکشادگی کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہیں گے۔”

*اولا پانی بند کرنے والی بات ہی غلط ہے،*
*اگرمان بھی لیا جائے تو دس محرم جو کہ عاشوراء کا دن ہے آج پانی کی سبیل نہیں لگنی چاہئے ۔ آل بیت اور محمد ﷺ سے محبت کرنے والو ں کو عاشوراء کا روزہ رکھنا چاہئے*

*صحابہ سمیت نبی ﷺ کو شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور کرکے دانا پانی بند کیا گیا کیا ہم صحابہ اور نبی ﷺ کی یاد میں اپنے اوپر تین سال تک دانہ پانی بند کرتے ہیں ؟*

پیٹ کے پجاری کبھی ایسا نہیں کرسکتے انہیں بہانہ بنا بنا کر اچھا اچھا کھانے کی لت پڑی ہے ۔ اس کام کے لئے جو حدیث پیش کی جاتی ہے موضوع ومن گھڑت ہے ۔ اس لئے اس کام سے ہمیں کلیۃ باز رہنا ہے ۔

(5) *دوپر والے گھوڑوں کا جلوس:*
یہ گھوڑا جس کا نام ذوالجناحین ہوتا ہے شکلا ہندؤں کی مورتی سے ملتا ہے ۔ اسے جلوس کی شکل میں سڑکوں پر نکالاجاتا ہے اور اس میں شرکت باعث ثواب سمجھاجاتاہے ۔ یہ منظر دیکھ کر ہندوقوم اور مسلم قوم کا فرق مٹ سا جاتاہے ۔اسلام میں مورتی کا تصور ہی نہیں ہے ، اس پر مستزاد اس کے جلوس میں شرکت باعث اجر سمجھنا یہ اللہ کی عبادت میں شامل کرنا ہے۔ اسی طرح سے غیراللہ کی عبادت کا دروازہ کھلتا ہے ۔ بے جان شئ کسی نفع ونقصان کا مالک نہیں مگر اسے اس قدر درجہ دینا اپنی دیگر عبادتوں کو ضائع کرنا ہے ۔ الحفظ والامان

(6) *رسم تعزیہ :
تعزیہ کی وہی ایجاد ہے جو اوپر ماتم کی ایجاد میں دو نمبر شق کے تحت مذکور ہے ۔ یعنی یہ شیعہ کی ایجاد ہے ۔ پھرواقعہ کربلا کو کافی رنگ وروغن دے کر بیان کیاگیا تاکہ اس کی ایک عجیب وغریب تاریخ شہادت بن سکے ۔ اس کے لئے مبالغہ آمیز جھوٹے قصے کہانیاں وضع کئے گئے ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کربلا سے متعلق یہ سب عجیب وغریب قصے، جھوٹے افسانے، بناوٹی کہانیاں شیعہ حضرات کے توسط سے پھیلائے گئے ہیں جن میں ابومخنف لوط بن یحی،محمد بن سائب کلبی اور ہشام بن سائب کلبی وغیرہ شامل ہیں۔
تعزیہ جو کہ امام حسین کی قبر کی نقل ہے جسے کاغذوں ، بانس اور کمچیوں سے تیار کیا گیاہوتا ہے ۔ یہ ماتم کی حد وانتہاہے ۔ اس میں انسانی جسم کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ایسے اعمال وعقائد پائے جاتے ہیں جن سے ایمان دل سے نکل جاتا ہے ۔

٭ تعزیہ میں موجودقبر امام کو زندہ تصور کیا جاتا ہے اور انہیں عالم الغیب سمجھاجاتاہے ، ان کی تعظیم بجالائی جاتی ہے یہاں تک کہ انہیں مدد کے لئے بھی پکارا جاتا ہے ۔

٭ جب تعزیہ اٹھایا جاتا ہے تو چھوٹے بچے اس کے نیچے سے گذارے جاتے ہیں اس عقیدے سے کہ امام صاحب کی پناہ میں آجائیں گے۔

٭ جس طرح مزار پہ قبرپرست سجدہ کرتاہے ،قیام کرتاہے ، نذرمانتاہے، استغاثہ کرتاہےہوبہو وہی عقیدہ اور وہی عمل یہاں بھی انجام دیا جاتا ہے ۔

٭ تعزیہ کے جلوس میں شرکیہ مرثیہ ڈھول وطبلے کی آواز پر گائے جاتے ہیں ۔ اور اسلام کے نام پر شرمناک کرتب وکھیل کا مظاہرہ ہوتاہے ۔ بدن کو آگ وتلوار سے نقصان پہنچایاجاتاہے ۔

٭ اس جلوس میں مسلمان عورتوں کا ہجوم مردوں کے شانہ بشانہ ہوتا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں نیم برہنہ ، بال کھولے دھمال ڈال رہی ہوتی ہیں ۔

٭ بڑے چھوٹے سب مل کر ایک ساتھ ناچتے گاتے اور حیاسوز حرکتیں کرتے ہیں ۔
ان کے علاوہ نہ جانے کیا کیا کام انجام دئے جاتے ہیں ؟ ، بھلا ان کاموں کا کربلا سے، شہادت سے اور امام حسین رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ ؟
ان کاموں کا واقعہ کربلا سے تو کیا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ اکثر شرک میں داخل ہیں اور شرک کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔

اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا(النساء : 116)
ترجمہ : بے شک اللہ یہ گناہ ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور وہ اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، تو وہ یقینا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ تاریخ اسلامی کا ایک دلخراش واقعہ ہے اس سے کسی کو انکار نہیں مگر لوگوں نے اس واقعہ کی وجہ سے اسلامی تاریخ کی ساری شہادتوں کے واقعات بھلادئے ۔ خلفاء اربعہ میں سے تین کی شہادت ہوئی کسی کا ماتم، تعزیہ اور غم نہیں منایا جاتا، نہ ہی تذکرہ کیا جاتا ہے صرف واقعہ کربلا کی کیوں اس قدر تشہیر کی جاتی ہے ؟
جب اس کی حقیقت جانیں گے تو پتہ چلے یہ سب شیعہ کی کارستانی ہے وہ کربلا کی آڑ میں اسلام کا چہرہ مسخ کررہا ہے ، اس بہانے مسلمانوں میں شرک وبدعات پھیلاتاجارہاہے ، صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے ، ایک مسلمان کو دوسرے کے خلاف ورغلایاجاتا ہے تاکہ مسلمان کی طاقت کبھی مجتمع نہ ہوسکے ۔ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں سوچنے سمجھنے کا موقع ہی کب ملا ؟

*خلاصہ کلام یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفلی روزوں کے علاوہ اور کسی قسم کی عبادت یا کارخیر قرآن وسنت سے ثابت نہیں اس کے باوجود آج ہمارے مسلم معاشرے میں ترقی زمانہ کے ساتھ ساتھ نت نئی بدعات نے رواج پالیا ہے ، میں یہاں ماہِ محرم سے متعلق چندمشہور بدعات مروجہ کا ذکر قارئین کرام کو متنبہ کرنے کی غرض سے کر کررہا ہوں :

(١) شیعوں کی طرح واقعہ کربلا کو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا .

(٢) حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرام (خاص کر حضرت معاویہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہما )کو ہدف طعن وتشنیع بنانے میں بھی تأمل نہ کرنا .

(٣) ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادی بیاہ نہ کرنا .

(٤) دس محرم کو تعزیے نکالنا ،انہیں قابل تعظیم وپرستش سمجھنا ، ان سے مرادیں اور منتیں مانگنا.

(٥) کھیچڑا پکانا ،حلیم پکانا اور پانی کی سبیلیں لگانا ، اپنے بال بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انہیں حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بنانا.

(٦) دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوس میں ذوق وشوق کے ساتھ شرکت کرنا اور کھیل وکود سے ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا .

(٧) ذوالجناحین (دو پر والے گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا .

(٨) دس محرم کو مرثیہ خوانی اور سینہ کوبی کرنا ، ماتم اور نوحہ میں شرکیہ کلمات ادا کرنا.

(٩) دس محرم کو اظہار غم کی خاطر زیب و زینت اور عمدہ لباس کو چھوڑ کر ننگے سر ،ننگے پاؤں اور ننگے بدن رہنا .

(١٠) دس محرم کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر فاتحہ اور نذر و نیاز دینا .

بطور مثال میں نے مذکورہ چند مروجہ بدعات کا ذکر کیاہے ورنہ یہ اور اس جیسی بے شمار واہیات اعمال ماہ محرم میں آج مسلمانوں کا ایک طبقہ کارخیر اور ثواب سمجھ کر انجام دے رہاہے حالانکہ انہیں اس بات پر غوروفکر کرنا چاہئے کہ ہر وہ عمل جس کی قرآن وسنت اور خلفاء راشدین نیز خیر القرون میں کوئی دلیل نہ ہو وہ عمل لایعنی اور بے کار ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ ماہ محرم میں نفلی روزوں کے علاوہ اور کوئی عبادت ثابت نہیں پس روزہ کے علاوہ ہرعمل قابل رد ہوگا جیسا

کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہورد،،٫٫جس نے کار خیر سمجھ کر کوئی کام کیااور اس کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ،،.
(مسلم حدیث نمبر :1718)

ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:،٫٫مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے ،،
(سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4607)
(سنن نسائی، حدیث نمبر :1576)

*اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کی توفیق دے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

Share:

Muharram ke mahine Me Tajiya Nikalna Islam Nahi Sikhata?

Muharram Ke Mahine Me Julus Aur Tajiya Lekar Ghumna Kya Islam Sikhata Hai?
BismillahirRahmanNirRaheem
Muharram ke mahine me ye sab karna bidaat hai. ❌❌❌
----------------------------------------------------
❌ *Tazia banana*
❌ *Matam karna.*
❌ *Special koi Pakwan pakana
❌ *logo me sharbat baatna* (Specially khaas din)
❌ *Kisi bhi din ya Ebadat ko makhsoos khud se kar lena jisko Rasoolullah ﷺ ya Sahaba ,Tabaee ne nahi kiya hoto wo Bidaat hai.*
➡ *Deen me koi bhi nayi cheez Shamil krna bidat hai*
🔰 *[Sahih al bukhari:2697]
___________________

Share:

Muharram me Kaun se Din ko Roza Rakhni chahiye?

Musalman ko Muharram me kin kin Dino Roze Rakhne Chahiye?

BismillahirRahmanNirRaheem

10 Muharram ko Taziyadari karna haram hai: Ahemad raza khan

___________________
Yahoodiyo (Jews) [ jo ki sirf 10 Muharram ko roza rakhte hain ] se Ikhtelaaf karne ke liye Rasool Allah (ﷺ) ne 9 Muharram ka bhi roza rakhne ka hukm dia hai.

♦ *Rasool Allah (ﷺ) ne farmaya:
 *"Jab agla saal aayega to In sha Allāh hum 9 tareekh ka roza rakhenge."*
*Muslim 1134*

♦ *"Agar mai agle saal zinda raha to muharram ke nawi tareek ko bhi roza rakhunga."Ibn Majah 1736 | Sahih

NOTE: SO EK MUSALMAN KO DO DIN ROZA RAKHNE HAI. EK 9 OR EK 10 MUHARRAM KO. In sha Allāh

Share:

Muharram me Roze Rakhne ki Fazilat.

Muharram ke mahine Me Hme kaun kaun si ibadat karni chahiye?
🍃🍃🌹Nabi kareem ﷺ ne farmaya: ramzan ke mahine ke baad sab se afzal roze Allah ke mahine Moharram ke roze hain, aur farz namaz ke baad sab se afzal namaz qiyam al lail  ( tahajjud ) hai.

Sunan Nasa'i: jild 2, kitab qiyam al lail wa tuwae al nahr 20, hadith no. 1633
___________________

Share:

Muharram Ke Mahine Ki khush khabri Dena Aur New Year Mnana.

Muharram Ka Mahina Aur Ashura Ka Din

 ماہ محرم اور یوم عاشورہ ایک نظر میں:
ماہ محرم اسلامی وہجری سال کا پہلا مہینہ ہے۔
یہ حرمت وادب والا مہینہ ہے۔
اس مہینے میں اپنی جان پر ظلم کرنا یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنا سخت منع ہے۔
اس ماہ میں نیکی کی عظمت اور گناہ کی سنگینیت بڑھ جاتی ہے۔
یہ اللہ کا مہینہ ہے یعنی بڑی عظمت اور شرف وفضیلت والا مہینہ ہے۔
اس ماہ میں بکثرت روزہ رکھنا مسنون ہے۔
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اسی ماہ کے روزے ہیں۔
اس ماہ کی 10 تاریخ یوم عاشورہ کے نام سے مشہور ومعروف ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزوں میں یوم عاشورہ کے روزے کا سب سے زیادہ اہتمام کرتے تھے۔
یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اس ماہ میں یوم عاشورہ کے ساتھ 9 یا 11 تاریخ کا بھی روزہ رکھنا چاہئے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے۔
یوم عاشورہ کو فرعون اور اس کے لشکر غرق آب ہوئے اور حضرت موسی علیہ السلام اور آپ کی قوم کو ان کے ظلم واستبداد سے نجات ملی۔
یوم عاشورہ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔
یہ مہینہ یا اس کا پہلا عشرہ یا یوم عاشورہ یا کوئی اور دن یا رات منحوس نہیں ہے اور نہ ہی اس میں نکاح یا کوئی اور خوشی کی تقریب منعقد کرنا یا نیا کوئی کاروبار یا پروجیکٹ وغیرہ شروع کرنا مکروہ ومعیوب یا خسارے کا باعث ہے۔
اس ماہ میں ماتم یا تعزیہ منانے کی رسم وروایت سرار بدعت اور عمل جاہلیت ہے اور اس میں کسی قسم کا تعاون یا شرکت باعث گناہ ہے۔
یا علی اور یا حسین وغیرہ کا نعرہ لگانا شرک ہے۔
عاشورہ کے دن اہل وعیال پر کھانے پینے میں کشادگی کرنے سے پورے سال کے رزق میں برکت حاصل ہونے والی بات درست نہیں ہے۔
عاشورہ کے دن پانی یا شربت یا دودھ وغیرہ کی سبیلیں لگانے، حلوہ یا مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنے، کھچڑا یا بریانی یا دیگر خصوصی ڈشیں تیار کرنے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روح کو ایصال ثواب کرنے یا ان کے نام سے نذر ونیاز کرنے کی رسمیں بدعات وخرافات میں سے ہیں۔
یوم عاشورہ کو عید یا خوشی یا جشن کے طور پر منانا بھی بدعت اور باعث گناہ ہے۔
اس ماہ کی حرمت اور عظمت روز اول سے قائم ہے اور اس کا شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ماتمی مجالس منعقد کرنا یا تعزیتی جلوس نکالنا حب علی اور عقیدت آل بیت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ بغض معاویہ اور نفرت صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی علامت ہے۔   یزید کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل مان کر کافر وفاسق قرار دینا، یا ملعون مطعون کرنا یا جہنم رسید کرنا ایمان، تقوی اور حسن اخلاق کے منافی ہے۔
یہ شعر قطعا درست نہیں ہے کہ:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد 
ماہ محرم کی رسومات سے اسلام کی شان وشوکت میں کوئی اضافہ تو نہیں ہوتا البتہ مسلمانوں کی بدنامی اور جگ ہنسائی ضرور ہوتی ہے۔
Naye Saal Ke Mauke Pe Khushi Mnana Kaisa Hai
نہ غم اور سوگ منائے، اسی طرح نہ تو نئے سال کی مبارکباد پیش کرے اور نہ ہی کسی خاص دعا کا اہتمام کرے کہ اس میں سے کچھ بھی کتاب و سنت اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے۔
اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ قیامت کے دن ہمارے عمل کا حساب آسان ہو جائے۔
نئے سال کی آمد پر خوشی یا جشن منانا کسی بھی عقلمند انسان کو زیب نہیں دیتا کیونکہ ایک سال گزر گیا مطلب اس کی عمر اور گھٹ گئی، زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا اور موت اور قریب آ گئی، تو پھر خوشی کس بات کی اور جشن کس خوشی میں؟
پچھلا سال آپ کے حق میں چاہے جیسا بھی رہا ہو اور اس میں جتنی بھی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوئی ہوں یا مشکلوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو، برائے کرم اس کو برا بھلا نہ کہیں اور لعن طعن نہ کریں، کیونکہ از روئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم دن یا رات، ماہ یا سال اور وقت یا زمانے کو گالی دینا گویا اللہ رب العالمین کو گالی دینا ہے، جو کہ اسلام میں سخت منع ہے اور کفر تک لے جانے والا عمل ہے، نیز یہ صبر وایمان کے بھی منافی ہے اور اس میں اہل جاہلیت کی مشابہت بھی پائی جاتی ہے، لہذا احتیاط سے کام لیں اور ساودھانی برتیں۔ 
جیسے سن 1438ہجری آیا اور چلا گیا ویسے ایک دن ہم بھی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو کیا جہاں ہمیں جانا ہے وہاں کے لئے کچھ تیاری بھی کر رہے ہیں؟؟؟
دنوں اور راتوں کے مجموعہ کو سال کہتے ہے اور دن ورات حکم الہی کے پابند ہوتے ہیں، کیا ہم انسان بھی احکام الہی کے پابند ہیں؟
ویسے تو اسلام میں سال نو کی آمد کے موقع پر کوئی خاص عمل کرنا یا رسم ورواج ادا کرنا یا خوشی اور غم منانا مشروع نہیں ہے، البتہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہر مسلمان دینی واخروی اعتبار سے اپنا محاسبہ کرے اور ماہ وسال کی آمد ورفت اور شب وروز کی گردش سے عبرت ونصیحت حاصل کرے، کیونکہ یہ ایک ایسا عمل جو اہل ایمان سے ہمیشہ اور ہر حال میں مطلوب ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد...}*(سورة الحشر:18)
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو غور وفکر کرنا چاہئے کہ اس نے کل(قیامت) کے لئے کیا کچھ بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔"
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{يقلب الله اليل والنهار إن في ذلك لعبرة لأولي الأبصار}    (سورة النور:44)
"اللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے یقینا اس میں (بڑی) عبرت ہے اہل نظر کے لئے۔"
اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا"
"تم (آج دنیا میں ہی) اپنے نفس کا محاسبہ کر لو اس سے پہلے کہ (کل قیامت کے دن) تمہارا محاسبہ کیا جائے"
معلوم ہوا کہ دینی واخروی لحاظ سے اپنا محاسبہ کرتے رہنا اور عبرت ونصیحت کا دامن پکڑے رہنا ایمان وپرہیزگاری کا تقاضا اور اہل فکر ونظر کی پہچان ہے۔
لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ:
وہ اپنے ایمان کا محاسبہ کرے کہ اس کا ایمان کس معیار کا اور کس معیار کا ہونا چاہئے، کہیں ایسا تو نہیں کہ آزمائش میں اس کا ایمان کمزور پڑ جاتا ہو، یا کسی شک اور تردد کا شکار ہو جاتا ہو۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ جلد سے جلد اپنے ایمان کا جائزہ لے اور اس کو مضبوط تر اور پاکیزہ ترین بنانے کی سنجیدہ فکر اور سعی پیہم کرے۔
وہ اپنے عقیدے کا جائزہ لے کہ اس کا عقیدہ توحید خالص کا عقیدہ ہے یا نہیں، اس کا عقیدہ کسی قسم کے شرک اور بد عقیدگی سے آلودہ تو نہیں ہے، خوشی یا غم کے موقع پر اہل شرک کے شکوک وشبہات سے متاثر تو نہیں ہو جاتا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ فورا اپنا عقیدہ درست کرے، شرک سے توبہ کرے اور توحید خالص کو اپنا لے۔
وہ اپنے عمل کا محاسبہ کرے کہ اس کے پاس نیک عمل ہے کہ نہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ کل قیامت کے دن بے دین اور بے عمل لوگوں کی طرح اس کا نامہ اعمال بھی نیکیوں سے خالی اور برائیوں سے پر ہو۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ فوری طور سے اپنے گناہوں سے توبہ اور نیکی کا عزم کرے اور دینی وعملی کوتاہیوں سے باز آ جائے۔
وہ فرائض وواجبات کی ادائیگی کا جائزہ لے جن میں سب سے اہم فریضہ پنجوقتہ نماز ہے جس کا قیامت کے دن سب سے پہلے حساب ہوگا۔ پھر اس کے بعد زکاة ہے جو اللہ کی طرف سے امیروں کے مال میں غریبوں کا مقرر کردہ واجبی حق ہے۔
وہ اپنے منھج کا جائزہ لے کہ اس کا منھج فہم وعمل سلف صالحین کے منھج پر ہے یا نہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ فتنے کے وقت اس کا منھج ڈگمگا جاتا ہو،  یا جذبات کی رو میں بہ کر حیرانی وپریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہو۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اسے چاہئے کہ جتنا جلد ہو سکے اہل علم سے رابطہ کرے اور اپنے منھج کی اصلاح کرے اور منھج سلف پر قائم ہو جائے۔
وہ حقوق کی ادائیگی کا جائزہ لے، پہلے جانے اور پہچانے کہ کیا ہیں اس پر اس کے رب تعالی کے حقوق، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق، قرآن مجید کے حقوق، دین اسلام کے حقوق۔۔۔اسی طرح اپنے نفس کے حقوق، والدین کے حقوق، اہل وعیال کے حقوق، رشتے دارو کے حقوق، ہمسایوں کے حقوق، امت مسلمہ کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، سماج ومعاشرہ اور  ملک وقوم کے حقوق۔۔۔پھر ان سارے حقوق کی معرفت حاصل کرنے کے بعد ان سب کو حسب استطاعت ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
وہ اپنے اخلاق وسلوک اور سیرت وکردار کا جائزہ لے کہ کیا وہ اسلامی معیار پر اترتے ہیں، کیا وہ اتنے عظیم ہیں کہ جس سے رب بھی راضی ہو، نیک وشریف لوگ بھی خوش ہوں اور غیر مسلمین بھی متاثر ہوں یا کم از کم خود اپنا ضمیر ہی مطمئن ہو۔
وہ خود احتسابی کرے کہ اس نے دینی اور اخروی اعتبار سے کیا کھویا اور کیا پایا، کیا کمایا اور کیا گنوایا، اور وہ اس کا کاروبار ایمان وعمل کتنے فائدے میں رہا اور کتنے خسارے میں گیا، اب تک کی اس کی زندگی کس کی مرضی کے مطابق گزری، رب کی یا خود کی؟؟؟
وہ ایک کامیاب تاجر کی طرح اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے حال کی اصلاح  اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرے۔
وہ انسان اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے مقصد زندگی اور فرض منصبی کا جائزہ لے کہ کیا وہ کما حقہ اپنے رب کی عبادت اور دین کی دعوت کا کام کر رہا ہے؟
وہ عبرت اور نصیحت حاصل کرے گردش لیل و نہار سے، گرد و پیش کے احوال سے، روز مرہ کے واقعات سے، ناگہانی حادثات سے، کثرت اموات سے،  نت نئے امراض سے، اور قدرتی آفات سے۔۔۔
وہ نئے سال کے استقبال میں گمراہ قوموں کی مشابہت سے بچے، نہ خوشی اور جشن منائے،
Share:

Hm Sb Nabi Ke Laye Hue Deen Pe Chal Rahe Hai ya Apne Baap-Dada Ke Deen Pe Hai?

Topic :- Kya hum sab ko baap- dada k Raaste par (Deen k mamle me) Chalna Chahiye...
ya phir ALLAH K RAASTE PAR CHALNA CHAHIYE?

Aaiye dekhe Quran Me ALLAH NE KYA FARMAYA HAI.
🌹 “Aur jab unse kaha jata hai ki, ALLAH ne jo kuch utara hai uski ita’at karo, to kehte hain
Nahi, balki ham to uski ita’at karenge jis par hamne apne baap-dada ko paya. Kya us haal me bhi jabki unke baap-dada kuch akl/dimag se kaam na lete rahe ho aur na seedhey raah par rahe ho ?”
Quran(Sura Baqra 2/170)

🌹“aur jab unse kaha jata hai ki us cheez ki aur aao jo ALLAH ne naazil ki hai, aur Rasool ki aur, to wo kehte hain
Hamare liye to wo hi kaafi hai jis par hamne apne baap-dada ko paya hai. Kya agar unke baap-dada kuch bhi na jaante ho aur na seedhey raah par ho ?”
Quran (Sura Muhmmad 47/21)

👥Note:- Baap-Dada ka Deen kya hai..?

👥 Deen ka woh kaam jo log sawab or nek aamal samajh kar karte hai, jo Na ALLAH NE KAHA HAI or Na hi Nabi sallallaho walewasallam ne kiya hai or na hi karne ko kaha hai...
🌿For Example:-

❌1.Rajjab k Kunde..(Kheer Puri)
❌2.Shabe Barat (Raat bhar ibadat,Roza or halwa roti)
❌3.Eid Miladun Nabi (12 wafat, Nabi sallallaho wale wasallam ka Birthday manana)
❌4.Girywi Shareef (Abdul Qadir Jilani RA ke yaad me Murga Katna)
❌5.Jasne Shab e Meeraj Manana
❌6.Hazari Roza Rakhana
❌7. Muharram me Taaziaa Dhol,Tasha, Akhara, Matam Manana...
Phir usske Roze Rakhna..
❌8.Tija or Chahalum karna
❌9. 10 wa,20wa, 40wa karna...
❌10. Barsi karna...
❌11.  Jasne khatam Taravi
❌12. Rajjab k Mahine me Khaja ky naam pe khichra or jasn manana..
List to lamba hai...
Par samjhne k liye Ye sab Example hai...
🌷Quran me Allah ne Kah diya hai...
Shirk ko ALLAH kabhi maaf nahi karega, isske alawa jis gunah ko Allah Chahe to maaf karde.
📖 QURAN (Surah Nisa 4/48)
Baap- Dada k jo Raaste hain Deen k mamale mein (zayadatar), woh Shirk aur Biddat ki Taraf le jaata hain....
Hum sabko sahih Deen samjh kar us par am'al karna chahiye...
Beshak Shirk ki Maafi  Nahi.

Share:

Rajab Ke Mahine Me Hone Wale Biddat.

Rajab Ka Mahina Kitni khas Hai?

بسم الله الرحمن الرحيم

"Rajab Ka Mahina Aur Usme Hone Wali Bid'aat Ki Tahqeeq"


Arabic Maah "Rajab" Hai, Rajab Ke Maah Me Hone Wali Bid'aatou Se Pehle Aaiye Hum Ye Bata De K Quran o Hadees Me Rajab Ke Talluq Se Kya Cheez Saabit Hai

Allah {ﷻ} Ne Farmaya:

"Maheenon Ki Ginti Allah {ﷻ} Ke l Nazdeek Kitab Allah Me Bara (12) Ki Hai Usi Din Se Jab Se Aasman o Zameen Ko Us Ne Paida Kiya Hai In Me Se Char Hurmat o Adab Ke Hain. Yehi durust Deen Hai Tum In Mahinou Me Apni Janou Per Zulm Na Karo Aur Tum Tamam Mushrikon Se Jihad Karo Jaise Ke Wo Tum Sab Se Ladtay Hain Aur Jaan Rakho Ke Allah {ﷻ} Muttaqiyou Ke Sath Hai.
(Surah At-Taubah Surah No.9 Ayat No.36)

(Hurmat Wale Mahine Yaani Izzat Aur Ehtaraam Wale Mahine)

Hurmat Wale Ye 4 Mahine Kon Se Hain ? Is Ki Wazahat Quran Me Nahi Hai Balke Is Ki Wazahat Hadees Me Hai.

Nabi {ﷺ} Ne Farmaya:-

"Zamana Ghoom Phir Kar Usi Halat Per Aagaya Hai Jaise Us Din Tha Jis Din Allah {ﷻ} Ne Asmaan Aur Zameen Paida Ki Thi, Saal 12 Mahinou Ka Hota Hai, 4 Mahiney Usme Hurmat k hai 3 To Pe dar pe hai *1.* Zul-Qada, *2.* Zul-Hijja , *3.* Muharram Aur *4.* Rajab Jo Jamadi ul Aaqir Aur Shabaan k Bich Me Padta Hai".

(Sahih Al Bukhari Jild No.4 Hadees 3197)
Rajab Ke Talluq Se Quran Aur Sahih Hadees Se Sirf Aur Sirf Itna Hi Pata Chalta Hai K Ye Izzat, Ehtaraam Aur Hurmat Wale 4 Maheeno Me Se Ek Maheena Hai. Is Ke Alawa Rajab Ki Kisi Khaas Fazeelat Nahi Hai.

Ab Aaiye Dekhein Ke Ilm Ki Kami Ki Waja Se Is Mahiney Me Musalmano Ne Kin Kin Bid'aatou Par Amal Karna Shuru Kar Diya
1. Salat Ul Raghaaib:-

Rajab Ke First Friday Ya Thursday Ko Maghrib Aur Esha Ke Darmiyaan Kuch Log "Salatul Raghaaib" Ke Naam Se Ek Namaz Padhte Hain, Jis Me 12 Rakat Padhte Hain.

Khayaal Rahe Ke Kisi Bhi Sahi Hadees Se Rajab Ke Mahiney Me "Salat ul Raghaaib" Naam Se Koi Namaz Saabit Nahi Lihaaza Hame Is Bidat Se Zaroor Bachna Chahiye.

2.Rajab Ke Koonde:-

Is Mahiney Me Kuch Musalman Imam Jafar Sadiq [رحمه الله] Ke Naam Se Koonde Bhi Banate Hain Us Par Niyaz Dilwate Hain Aur Ye Aqeeda Rakhte Hain Ke Koonde Bharne Ke Baad Hum Jo Muraad Mangenge Wo Poori Hogi Ye Bhi Biddat Hai Is Talluq Se Imam Jafar Sadiq [رحمه الله] Aur Ek Lakkad Haare Ka Jo Qissa Bayaan Kiya Jaata Hai Wo ManGhadat Hai.
Doosri Baat Ye Ke Imam Jafar Sadiq [رحمه الله] Ho Ya Koi Aur Insaan, Wali Peer, Kisi Ko Bhi Shariyat Banane Ka Haq Haasil Nahi Shariyat Wahi Hai Jis Ka Hukum Allah {ﷻ} Aur Rasool {ﷺ} Ne Diya Hai (But Khayaal Rahe Ke Imam Jafar Sadiq [رحمه الله] Ki Taraf Mansoob Qissa Bhi ManGhadat Hai). Lihaaza Is Mahiney Me Koonde Ki Biddat Se Bhi Hame Bachna Chahiye.

Balke Haqiqat Ye Hai Ke Rafiziyou (Shia) Ke Yahan 22 Rajab Ko Kaatib Wahi Ameer Muawiyah (رضي الله عنه) KI Tareekh e Wafaat par Khushiyan Manayi Jaati Hai.

Jissey Ghafil Hone Ki Wajah Se Bahut Se Musalmaan Rafiziyou (Shia) Ke Saath Kisi Na Kisi Tarah Tyohar Me Shareeq Ho Jaate Hain.

3. Jashn e Meraaj (Jaagne Ki Raat):-

27 Rajab Ko Bahut Se Musalmaan Rasool {ﷺ} Ki Isra Aur Meraj Ki Tareekh Mutaiyyan Maan Kar Bahut Se Bid'aat Aur Khurafaat Anjaam Dete Hai Jabki Tareekh e Isra Wo Meraj Me Bada Ikhtilaaf Hai Aur Yaqeen Ke Saath Kuch Nahi Kaha Jaa Sakta Hai, Kam Se Kam Musalmaan Meraj Ke Tafsilaat Per Gaur Kar Lein To Bahut Se Kabeera Gunahou Se Bach Jaane Ke Imkaan Hai.

Ye Ek Biddat Hai Kyu Ke Pehli Baat To Ye K Ye Cheez Hi Saabit Nahi Hai Ke Rasool {ﷺ} Ko Jo Meraj Hua Tha Wo Rajab Ke Mahiney Me Hua Tha.

Meraj Hua Ye Quran o Hadees Se Saabit Hai, Lekin Kis Mahiney Me Hua Ye Kisi Sahih Hadees Se Saabit Nahi.

Lehaaza Is Tarah Ka Jashn Manane Se Bhi Hame Bachna Chahiye.

4.Rozey:

Isi Tarah Khaas Rajab Ke Mahiney Me Kuch Dino Ko Khaas Kar Ke Roza Rakhne Ki Bhi Koi Daleel Nahi Hai.

Deeni Aitabar Se Har Woh Kaam Biddat Hoga Jiska Saboot Quran Aur Hadees Main Nahin Milta Jaisa Ke

Nabi {ﷺ} Ne Farmaya:-

"Jisne Hamare is Deen Me Kuch Aisi Baat Shaamil Ki Jo Usme Nahi Thi To Wo Rad(Mardood) Hai".

(Sahih Bukhari Jild No.4 Hadees No.2697)

(Sahih Muslim Jild No.4 Hadees No.4492)

Koi Bhi Kaam Neki Samaj Kar Sawaab Ki Niyyat Se Kiya Jaye, Jiske Karne Ka Hukm, Na Allah {ﷻ} Ke Kalaam Yani Quran e Kareem Me Maujood Ho, Aur Naa hi Nabi {ﷺ} Ki Sunnat Yani Hadees e Mubaraka Me Maujood Ho Aur Naa hi Sahaba (رضوان الله علیہم اجمعین) Ke Tarikhe Me Maujood Ho, Usko Biddat Kehte Hai.

(Jo log Biddat ko Taqseem karke Gumrahi Pahla rahe Hain Jaise Biddat e Sayya, Biddat e Hasna un logou Ke  Liye Ye Do Qoul Se Behtareen Aur Koyi Islah Nahi)
Abdullah Ibn Umar (رضي الله عنه) Farmate Hain.

"Tamam Biddatein Gumrahi Hai Agarche “Ba Zaahir Wo logou Ko Achi lage"

(Sunan Kubra Bayhaqi Hadees No.138)
Imam Malik [رحمه الله] Farmate Hain

"Jisne Islam Me Koi Biddat Ijaad ki Aur Isey Hasna(Acha) Samjha To Usne Ye Gumaan Kiya k Nabi {ﷺ} Ne Risalat me Khiyanat ki(Maaz Allah) is liye k Allah {ﷻ} Ne Farmaya Aaj Maine Tumhare liye Tumhara Deen Mukammil Kardiya Hai. (Surah Al-Maida Surah No.5 Ayat No.3) Pas Jo Cheez Us Din Deen Na thi Wo Aaj bhi Deen Nahi Ban Sakti".

(Al-Itesaam Lil Shaatibi Jild No.1 Pg No.64-65)
"Rajjab Ke Baare Me Baaz Zaif Wo Mauzoo Riwayaat"

Rajab Ke Mahiney Ke Talluq Se Imam Ibne Rajab [رحمه الله] Farmate Hain:-

"Rajab Maheene K Pahle Juma Me Padhi Jaane Waali Namaz (Salat e Ragaib ) K Mutaalliq Marwi Saari Riwayaat Maozu Hai Aur Rajab ke Mahiney Mein koi makhsus Namaz Sabit nahi".
(Lata'if al-Ma'arif fima li Mawasim al-Aam min al-Wadha'if 173)

Imam Ibne Qayyim [رحمه الله] Farmate Hain:
Rajab Ke Raato Mein Padhi Jaane wali Makhsus Namaz Ki Daleel Mein Saari Riwayatein Jhuti Aur Gadhi Hui Hai".
(Al-Manar Al-Munif 170)

"Rajab Ke Pahle Juma Ki Raat Se Gafil Mat Ho Kyun Ke farishte is Raat Ko Umeed Ki Raat Kahte hain".

Imam Ibne Taimiya [رحمه الله] Farmate Hai:-

Tamam Muhaddisin ka ittefaq Hai K ye Riwayaat Mauzo Hai.
(Al-Iqtida' As-Sirat al-Mustaqim 331)

"Jo Rajab ke Mahiney ki Pahli Maghrib ke bad 20 rakat Namaz padhe wo pul serat se begair hisab o kitab ke guzar jaiga".

(Imam Ibne Qayyim [رحمه الله] ne Al-manar Al-Munif 170 aur Imam Shaokani [رحمه الله] Ne Al-Fawaid al-Majmu'ah Fil Ahadith ul Mau'zoo'ah 67 Mein is Riwayat ko mauzo kaha Hai).

"Jo Rajab Mein Raato Mein Ibadat Aur Din Mein Roza Rakhe ALLAH Usko Jannat Ka Phal khilayega".

(Imam Shaukani [رحمه الله] ne Al-Fawaid al-Majmu'ah Fil Ahadith ul Mau'zoo'ah 117 mein isko mauzu kaha hai)

"Jo Rajab Mein 3 din Roza Rakhe usko poore Mahina Roza ka Sawab Milega".

(Imam Shaukani [رحمه الله] ne Al-Fawaid al-Majmu'ah Fil Ahadith ul Mau'zoo'ah 116 mein isko mauzo kaha hai).

"Rajab ALLAH {ﷻ} ka Mahina Hai Jo ismein 2 Din Roza Rakhe Usko dohra ajr milega aur dunya ke pahadon se duble Sawab hasil hoga".

(Imam Shaukani [رحمه الله] ne Al-Fawaid al-Majmu'ah Fil Ahadith ul Mau'zoo'ah 116 mein isko mauzu kaha hai).

"Jannat Mein Ek Nahar ka Nam Rajab Hai"
(Allama Albani [رحمه الله] ne Zaif Al Jame 1902 mein isko mauzo kaha hai).

Rajab Hurmat wala Mahina Hai Is Mahiney Me Apni Jaanou Per Zulm Karne se Bache Aur Bid'aat Aur Khurafaat Se Bachiye.

Share:

Allah Tala Ke Nazdeek Saal me kitne Mahine Hai. | Islam Me Kitne Mahine Hain

🍃 *Bismillahirrahmanirrahim* 🍃

🍀 *ALLAH TA"ALA KE NAZDEEK SAAL MEIN KITNE MAHINE HAI ?* 🍀

🌴 *Arabic* 🌴

  اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ  کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ  اَرۡبَعَۃٌ  حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ  ۬ ۙ  فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ  اللّٰہَ  مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ۔

🌴 *Roman Urdu* 🌴

  Maheeno ki ginti Allah ta"ala ke nazdeek kitab Allah mein baarah (12) ki hai usi din se jab se aasman-o-zamin ko uss ne paida kiya hai inn mein se char (4) hurmat o adab ke hain ( Dhul-Qa'da, Dhul-Hijjah Muharram, aur Rajab ). Yehi seedha deen hai tum inn maheeno mein apni jaano par zulm na karo aur tum tamam mushriko se jung karo jaise ke woh tum sab se jung karte hain aur jaan rakho ke Allah Ta"alaa parhezgaaron ke sath hai.

🌴 *Urdu* 🌴

  مہینوں کی گنتی اللہ تعالی کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں ( ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ) یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جنگ کرو جیسے کہ وہ تم سب سے جنگ کرتے  ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے ۔

🌴 *Hindi* 🌴

  निस्संदेह महीनों की संख्या - अल्लाह तआला के अध्यादेश में उस दिन से जब उस ने आकाशों और धरती को पैदा किया - अल्लाह तआला की दृष्टि में बारह महीने हैं। उन में चार आदर के हैं, यही सीधा दीन (धर्म) है। अतः तुम उन (महीनों) में अपने ऊपर अत्याचार न करो। और मुशरिकों से तुम सबके सब लड़ो, जिस प्रकार वे सब मिलकर तुम से लड़ते हैं। और जान लो कि अल्लाह तआला डर रखने वालों के साथ है।

🌴 *English* 🌴

  Indeed, the number of months with Allah ta"ala is twelve [lunar] months in the register of Allah ta"ala [from] the day He created the heavens and the earth; of these, four are sacred ( Dhul-Qa'da, Dhul-Hijjah, Muharram, and Rajab ). That is the correct religion, so do not wrong yourselves during them. And fight against the disbelievers collectively as they fight against you collectively. And know that Allah ta"ala is with the righteous [who fear Him].

💐 *Surah : Taubah* 💐
💐 *Aayat : 36* 💐

🌹 *Please share with your family's & friends* 🌹

🌹 *Jazakallah khair* 🌹

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS