Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Kya Mehram ke Samane Aurat bagair Parda ke Dupatta kiye Bagair rah sakti hai?

Kya Aurat ghar me Apne Baap ya Bhai ke Samne Bagair Parde ke rah sakti hai?

Kya Na Mehram Ke samane Parda karna jaruri hai?
Kya Apne Ghar me Mehram ke Samne Bagair Dupatta ke Aurat samane aa sakti hai?
خاتون محمدی

الســـلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سسٹر اس بات کو واضح کر دیجئے میں ایک اہل حدیث عالم کی تقریر میں سنی ہوں گھر میں اگر غیر محرم کا آنا جانا نہ ہو تو عورت گھر میں بغیر دوپٹہ کے رہ سکتی ہے .

گھر میں تو باپ بھائی تو ہوتے ہیں اگر کوئی نہیں ہوگا تب بنا دوپٹہ کے رہ سکتے ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے سسٹر رہنمائی کر دیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَعَلَيْكُمُ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

ان صاحبِ علم حضرت نے درست فرمایا سسٹر !!

عورتوں کے لئے محارم کے سامنے زینت کے اعضاء (سر، بال، گردن، سینہ، کان، بازو، کلائی، پنڈلی، چہرہ) وغیرہ کھلا رکھنے کی ممانعت نہیں ہے ، عورت اپنے گھر میں اپنے محارم کی موجودگی یا غیر موجودگی میں بغیر دوپٹہ لیے یا بغیر سر ڈھانپے رہ سکتی ہے ، تاہم مستحسن بات یہ ہے کہ بتقاضہ حیا ، باپ یا بھائی کے سامنے اپنے سینے کو ڈھانپ لے ، البتہ سر کھلا رہنے کی اجازت ہے ۔ اسی طرح یہ بات مشہور ہے کہ عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے میں مانع ہے ، ایسا نہیں ہے ، ذخیرہ احادیث میں جہاں اس طرح کی بات یعنی رحمت کے فرشتوں کا گھروں میں داخل نہ ہونا مذکور ہے ، وہاں تصویر کا ہونا ، یا کتے کا گھر میں ہونا تو وارد ہے ، لیکن عورت کے ننگے سر ہونے کی بات نہیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

Share:

Musalamaan Auraton ke liye Parde ke kya mayne hai? Hijab, Naqab aur Abaya kaisa hona chahiye?

Musalman khawateen ke liye Parda aur Abaya kaisa hona chahiye?

Kya Muslim Khawateen Aaj ke New Design Hijab aur Burqe pahan sakti hai?
Parda kaisa hona chahiye aur Nakab kis tarah ka hona chahiye?

Ghar me Mehram ho to kisse Parda kare? 

مسلمان عورت کے ایمان اور حیا کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایسی عبایا پہنے جس میں مذکورہ ذیل شرائط پائی جاتی ہوں :

  - عبایا انتہائی سادہ ہو، اس میں نقش و نگار اور زیب وزینت نہ ہو، اور نہ ہی ایسا رنگ ہو جو جاذبِ نظر ہونے کی وجہ سے مردوں کی توجہ کا سبب بنے۔

- عبایا چست نہ ہو کہ اس سے جسم کی ہیئت اور نشیب و فراز ظاہر ہو، بلکہ ڈھیلا ڈھالا ہو، جس سے جسم نمایاں نہ ہوتا ہو۔
- عبایا باریک نہ ہو جس سے جسم یا جسم کا لباس ظاہر ہوتا ہو، بلکہ وہ اس قدر موٹا ہو جس سے جسم اور اس کا لباس نظر نہ آئے۔

- عبایا اس قدر بڑا ہو جس میں جسم اچھی طرح چھپ جائے۔

- عبایا مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو، اسی طرح کافروں یا دین بیزار عورتوں کے فیشنی برقعہ کے مشابہ بھی نہ ہو، کیوں کہ ان لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

- عبایا پر مہکنے والی خوشبو بھی نہ لگائی جائے، جو کہ مردوں کے لیے فتنے کا سبب بنے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
️: مسز ارشد انصاری
۔

Share:

Kya Israel Arabo se Zamin Kharid kar Qayem hua hai... Ek Propganda.

Kya Israel Zamin kharid kar Bana hai?

Kya Arabo ne Yahudiyo ke hatho Palestine ki zamin farokht ki thi?
Israeli and European Propaganda ke Arabo se Zamin kharid kar israel bana hai?

इंकलाब वहा आते है जहाँ मजलुम मुतहिद हो ज़ालिम के खिलाफ, मगर जहाँ मजलुम अपने अपने पसंदीदा ज़ालिम के लिए आपस मे लड़े वहाँ कभी अमन नही बल्कि अज़ाब आता है,कहत आता है। 
 56 मुस्लिम रियासत इसलिए फौज रखी के अमेरिकी निजाम की हीफाजत की जाए, उसके डेमोक्रेसी और सेकुलरिज्म जैसी दज्जाली निजाम की हीफाजत की जाए न की अपने रियासत और क़ौम की जान, माल व आबरू की हीफाजत की जाए। वे सब मगरीबि निजाम और नज़रियात् के गुलाम है उनकी हीफाजत की जिम्मेदारी मिली है इसलिए फिलिसतीन अभी तक यूरोप के निजाम का गुलाम है जिसपर इस्राएल को कब्ज़ा करने के लिए बैठाया गया है, जो यूरोप की चौकीदारी करता है, यूरोप से उसे रशुख व रशद् मिलता है।  

فلسطینیوں نے   اپنی زمینیں فروخت کی ایک منظم پروپیگنڈہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیسویں صدی میں ریاستی دہشتگردی کی اس سے بڑی مثال اور نہیں ملتی ، اعلان بالفور کے مطابق در بدر بھٹکتے ہوئے یہودیوں کے لیے جس سرزمین کا انتخاب کیا گیا وہ عرب دنیا کے عین قلب میں واقع ہے ۔۔ یعنی ہلال زرخیز ، فلسطینی علاقوں میں ایک ایسی جگہ یہودیوں کو دینا طے کیا گیا جہاں دو سمندر یعنی بحیرہ روم اور خلیج عقبہ حاصل ہیں ۔۔
.
یہ وہ تنگ بحری راستہ ہے جس کے ذریعہ بحیرہ احمر تک پہنچا جاسکتا ہے ۔۔ نیز اسکے چاروں طرف عرب دنیا پھیلی ہوئی ہے ۔۔ یہودیوں کو اس تنگ پٹی کے قریب جگہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ اور مغرب یہاں کا کنٹرول آسانی اپنے ہاتھ میں مستقبل میں لے سکیں گے جہاں سے تجارتی بحری جہازوں کا گزر ہوتا ہے ۔۔

پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد اعلان بالفور کے سائے تلے اور بیس سالہ عملی جد و جہد کے ذریعہ صیہونیوں نے برطانیہ اور اسکے ساتھیوں کی مبینہ مدد و اعانت سے عربوں کے علاقے فلسطین پر قبضہ جما لیا ۔۔ عالمگیر حمایت یا ہمدردی international sympathy  حاصل کرنے کے لیے برطانیہ مسلہ فلسطین کو 2 اگست 1947 ء کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردیا ۔۔ مجلس اقوامِ متحدہ نے کثرتِ رائے سے تقسیم فلسطین کی سفارش کی اور یوں فلسطینی علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنا منظور ہوا ۔۔

4500 مربع میل کا علاقہ عربوں کے لیے ۔
5338 مربع میل کا علاقہ یہودیوں کے لیے ۔۔
جبکہ یروشلم بین الاقوامی علاقہ اور حیفہ کی بندرگاہ اور اردگرد کے علاقے برطانوی تحویل میں دیئے گئے ۔۔

راتوں رات فلسطین کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا ڈیوڈ بن گوریان کو اسرائیل کا پہلا صدر تسلیم کیا گیا اور دوسرے رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو بلا تامل منظور کرلیا ۔ جبکہ عرب دنیا کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ۔ جس روز اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا اسی روز عرب ممالک کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کر دیا ۔ مصر ، شام لبنان عراق اور مشرقی اردن نے فلسطینی اپنی اپنی فوج اتار دیں ۔۔ عرب اور یہودی فوجوں کے مابین تقریبا چھ ماہ دسمبر 1947 ء سے مئی 1948 ء تک جنگ جاری رہی ۔۔

اس جنگ میں عرب افواج اسرائیل کو ختم تو نہ کرسکیں لیکن جنگ کے نتیجے میں اسرائیل یروشلم پر اپنا قبضہ قائم نہ رکھ سکا ۔۔ نیز اس جنگ کے نتیجے میں اردن نے مغربی کنارے پر مصر نے غزہ پر قبضہ کرلیا۔ اپریل 1949ء کو اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی عمل میں آئی ۔۔ اگلے ہی مہینے یعنی 13 مئی 1949ء کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بن گیا ۔۔ گویا اقوام متحدہ نے جس غیر قانونی قرارداد کے ذریعے اسرائیل  کو ریاست کا درجہ دیا تھا اس پر مہر ثبت کردی گئی ۔۔

اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل فلسطین کے 27000 مربع کلومیٹر علاقے تقریباً بیس ہزار قبضے میں آچکا تھا اور دس لاکھ سے زائد فلسطینی اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔

عربوں نے اپنی جائیدادیں یہودیوں کو بیچ دی تھی یہ سب یہودیوں کا پروپیگنڈہ ہے بلکہ وہ تو اس زمین کو اپنے آبا و اجداد کی زمین سمجھ کر یہاں سے عربوں کو نکالنے کا منصوبہ پہلے ہی بنا چکے تھے ۔۔
محمد رفیق مینگل ۔۔

Share:

Ghar baithe Biwi dikhar kar Reels jaise Short videos Se paise kaise kamate hai? घर बैठे पैसे कमाये.

Ghar baithe Biwi dikha kar paise kaise kamaye?

Aaj apni roji roti ka Zariya Ki talash me social media Par reels banane me Pure family lage hue hai?

Share Islamic reminders, Quranic verses, and motivational Reels that uplift hearts and spread positivity across social media platforms.

Create Viral Islamic Posts: Faith-Filled Content That Inspires and Engages.

#IslamicReels, #QuranVerses, #DailyDua, #Hijabparda, #IslamicQuotes, #SunnahLifestyle, #DeenOverDunya, #RamadanMoments, #EidVibes, #HalalContent, #FaithOverFear, #MuslimahVibes, #IslamicMotivation, #JummahReminder, #PrayerTime, #Alhamdulillah, #SubhanAllah, #IslamicShorts, #TafseerSnippets, #ProphetSunnah, #DailyHadees, #DailyHadeeth, #Islamicpostsurdu #Islamicromanurduposts.

#IslamicReels  #QuranVerses  #DailyDua  #HijabStyle  #IslamicQuotes  #SunnahLifestyle  #MuslimahVibes  #DeenOverDunya  #RamadanMoments, EidVibes  #HalalContent  #FaithOverFear  #IslamicMotivation  #JummahReminder  #PrayerTime  #Alhamdulillah


پیسہ کمانے کے جتنے ناجائز طریقے ہیں ان میں سے سب سے گندہ طریقہ اپنی سگی بیوی نچوا کر اور بہن کے ٹھمکے دکھا کر لونڈے لپاڑوں کے منورنجن سے پیسہ بنانا ہے -

ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ایسے دیوث مسلمان ٹک ٹاکرز پائے جاتے ہیں جو اپنی بیوی کے ایک ایک لمحے اور نزاکت و نسوانیت کو مارکیٹ میں سیل کر رہے ہوتے ہیں، بیوی کچن میں کیا کرتی ہے ،بیوی بیڈروم میں کیا کرتی ہے یہاں تک کہ بیوی کے واش روم کی مصروفیات بھی یہ ریکارڈ کرکے قوم کو دکھا رہے ہوتے ہیں-

بیوی کب ہنستی ہے کب روتی ہے کب سیڑھیاں چڑھتی ہے کب اترتی ہے، کب جاگتی سوتی ہے، کس پہلو سوتی ہے،کب رومینس کے موڑ میں ہوتی ہے، کب حاملہ ہوتی ہے کب بچہ دیتی ہے،ان سب اہم “قومی مسائل “سے یہ قوم کو باخبر رکھ رہے ہوتے ہیں -

اس سب کے باوجود بھی اگر وویورشب میں اضافہ نہ ہوا تو یہ رات سونے سے پہلے بیوی کا ایک آدھ ٹوٹا لیک کرتے ہیں صبح فجر پڑھ کر مومنین کا جم غفیر لنک کے لئے لائن میں کھڑا ہوتا ہے اس طرح یوٹیوب کی دکانوں پر نیا مال پہنچ جاتا ہے -

یہ کل دس سے پندرہ جوڑے ہیں جو نئی نسل کو بے شرمی اور بے غیرتی کے راستے دکھا رہے ہیں -

حکومتی سطح پر سائبر کرائم کو چاہئے کہ ان کے تمام اکاؤنٹس کو بینڈ کیا جائے،
ورنہ ان بے شرموں سے متاثر نئی نسل گھر بیٹھے بیوی دکھا کر پیسہ کمانے کے شارٹ راستے پر چل پڑیگی -

بقلم فردوس جمال !!!

Share:

Queen Daro Ka Talaq kyo hua aur Usne Reels banane kyo band kar diye? Aashiyana-E-Haqeeqat

Tik toker Queen Daro ke sath kya hua ke Wah Rone lagi aur Talaq ho gaya?

Share Islamic reminders, Quranic verses, and motivational Quotes that uplift hearts and spread positivity across social media platforms.

IslamicReels, QuranVerses, Queen Daro Profiles, HijabStyle.
"Biwi dikhao paise kamao" GHAR BAITHE KAM KARE.

ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپٹے
کے بغیر بنائی ہو ! اپنے شوہر اور دو معصوم بچوں کیساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھی
مگر غیر مردوں کے سامنے لائیو آنے کا چسکے نے اسکے بچےکچھے کردار کو بھی مسل دیا مادیت پرستی دولت کی ہوس شیروں کے لالچ نے اسکی خوشگوار ازدواجی زندگی میں زیر گھول دیا اور یوں وہ اپنے محبوب شوھر کو چھوڑ چھاڑ کر ایک گفٹر کی گود میں جا بیٹھی۔۔ اور بلآخر اس گفٹر نے بھی طلاق دے دی.
ہنستی بستی مسکراتی زندگی برباد ہوگئی ۔۔ تعلیم یافتہ عورتوں میں شرح طلاق زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔۔۔ کہ وہ ڈگری ہولڈر تو ہوتی ہیں مگر تربیت میں دیمک.
زدہ لکڑی کی طرح اور آفاقی تعلیمات سے بالکل نابلد ، کیونکہ جس لڑکی کا ایمان مضبوط دل میں خوف خدا اور حيا شرم پردے کا حقیقی تصور موجود ہوتا ہے ۔ وہ ویلکم پارٹیوں میں نہ ہوٹنگ کرتی ہیں نہ یونیورسٹیز میں ہونے
والے مجروں میں رنگ برنگے عبایا پہن کر اچھل اچھل کر داد دیتی ہیں اور نہ غیر محرم لڑکوں سے یار یار کرتی ہیں آج دارو کوئین کی لائف ان لڑکیوں کے لئے ایک سبق ہے جو

اپنے شوھر کے چند کڑوے کسیلے جملوں سے تنگ آکر یہ سمجھتی ہیں کہ باھر کے مرد بہت با اخلاق اور ریسپکیٹ ایبل ہیں لیکن انہیں نہیں پتہ کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے
ہیں جب نزدیک جائیں تو ڈھم ڈھم ہی ہے.

Share:

REFRENCE Ke Nam par Khud ko Haque par Samajhna. Bagair tahqeeq kiye hue hadees ko dusro ke nam se Share karna.

Kya kisi ke Refrence De dene se Hi koi Hadees sahi sabit ho jati hai?

Bagair Tahqeeq kiye Hadees Bayan karna kya Deen hai?

 



"ریفرنس" کے نام پر خود کو حق پر سمجھنا!

آج کل کچھ لوگ دینی علم کے بنیادی اصولوں سے نابلد ہوتے ہوئے بھی محض "ریفرنس" کے نام پر خود کو حق پر سمجھنے لگے ہیں۔ دین کا صحیح فہم صرف یہ نہیں کہ کسی ویب سائٹ سے حدیث پڑھ لی اور اسے قطعی دلیل بنا لیا، بلکہ اس کے لیے اصولِ حدیث، اصولِ فقہ، اجماع، قیاس، اسبابِ ورود، ناسخ و منسوخ، اور دیگر کئی علوم کی مہارت ضروری ہے۔

ائمہ اربعہ اور دیگر اکابرین نے صدیوں کی محنت سے جو علمی ورثہ چھوڑا ہے، وہ کسی ایک دو حدیثیں پڑھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ علماء ہمیشہ یہ سکھاتے آئے ہیں کہ دین کو سند اور تسلسل کے ساتھ اہلِ علم سے سیکھا جائے، نہ کہ محض ترجمے اور سرچ انجنز پر انحصار کیا جائے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض افراد محض شہرت کے لیے یا کسی خاص ایجنڈے کے تحت ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جو امت میں فتنہ و انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ لوگ اہلِ علم کی صحبت اختیار کریں، علم کو اس کے اصولوں کے مطابق سیکھیں، اور دینی معاملات میں جذباتیت کے بجائے حکمت، بصیرت اور دیانت داری کو اپنائیں۔

اللّٰہ ہمیں صحیح علم، فہم اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
#نقل

Share:

Jhut, afwah aur Misinformation failane ke Gunah.

Koi Shakhs Ek baat bolta hai magar yah nahi sochta hai ke wah kitna failega aur kya anjaam hoga uska?

Suni Hui bato, afwaho aur jhuthi khabre failane ka Gunah.

 


سنی سنائی باتیں،افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا گناہ . 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
️: مسز ارشد انصاری
آج کے وقت میں جبکہ ہماری زندگیوں کا بہت بڑا حصہ ابلاغی پلیٹ فارم کا محتاج ہوگیا ہے، اس احتیاج کو پورا کرنے کے لیے ہم اور آپ جہاں اس پلیٹ فارم کے مثبت اور مستند مواد سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہاں اس پلیٹ فارم میں موجود جھوٹے اور دھوکہ باز طبیعت کے حامل لوگوں کی منفی سرگرمیوں سے ہمارے معاشرے میں بدامنی اور فتنہ و فساد بھی پیدا ہوتا ہے، سوشل میڈیا اور واٹس اپ کے اس دور میں لوگوں کو چٹپٹی غیر مصدقہ خبریں اڑانے میں بہت خوشی اور دلچسپی محسوس ہوتی ہے ، لیکن افواہوں اور جھوٹی خبروں کا یہ سلسلہ چنگاری کو آگ بنا دیتا ہے ، شعلے کو آتش فشاں بنا دیتا ہے اور لوگ اس گھناؤنے کھیل سے لذت حاصل کرتے ہیں ، سماج و معاشرے کو ذہنی طور پر الجھاکر ان میں اضطراب پیدا کیا جاتا ہے جس کا تجربہ آجکل کے کچھ ایشوز پر بھرپور دیکھنے میں آرہا ہے جو نہایت افسوسناک تجربات ہیں، افواہوں کا بازار گرم ہے، اور ان افواہوں کو ہوا دینے والا ایک عنصر یہ ہے کہ ایک شخص اگر اکچھ سنتا ہے تو بجائے اس کی تصدیق کرنے کے اسے فورًا آگے پھیلا دیتا ہے ، اور جب ان کم ظرف اشخاص کی سرزنش کی جائے تو کہتے ہیں کہ یہ بات ہمیں سوشل میڈیا سے ملی ہے یا فلاں فلاں واٹس ایپ گروپ پرآئی تو ہم نے شیئر کردی، یا فلاں فلاں شخص سے سن کر ہم نے شئیر کردی ، واللہ یہ انداز فکر انتہائی گھناونا ہےکیونکہ جھوٹ‘ جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے جو ہرگز اسلام کی تعلیم نہیں ، جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلم سماج اور معاشرے میں اضطراب، بےچینی اور فساد پیدا ہوجائے ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے :

لَوْخَرَجُوْافِیْکُمْ مَّازَادُوْکُمْ اِلَّاخَبَالًاوَّلَااَوْضَعُوْاخِلٰٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْْنَۃَ وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ  بِاظّٰلِمِیْنَ

’’اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں ر ہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے‘‘۔( توبہ:47 )

سنی سنائی باتیں ، جھوٹی خبریں اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور و فکر کرناچاہئے :

اِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ  بِالْکَلِمَۃِ مَایَتَبَیَّنُ فِیْہَایَزِلُّ بِھَافِیْ النَّارِأَبْعَدَ مِمَّا بَیْنَ المَشْرِقِ.

’’ آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کہ وہ بات کتنی پھیلے گی کتنا کفر و و فساد اور بے حیائی کی طرف لے جائیگی ،قوم و ملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا )جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڈھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا پچھّم سے پورپ کا فاصلہ ہے‘‘
( مسلم:8892 )

عمومًا لوگ مخلوط طبیعتوں کے مالک ہوتے ہیں، کچھ جھوٹ اور افتراء بازی میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں، اور کچھ سچائی کو پسند کرتے ہیں، اسی لیے ملی جلی طبیعتوں کے باعث جھوٹی سچی ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں، اور اگر انسان ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرے گا تو وہ ظاہر سی بات ہے لازمی جھوٹ بولے گا، اسی لیے بلا تحقیق و تدبر کے ہر کسی کی بات نقل کر دینا درست نہیں ہے۔

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع
”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے “۔
( صحیح مسلم : 7 )​

مسلمان کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا یہ اصول اپنی زندگی پر منطبق کرنا چاہئیے کہ وہ ہر وقت احتیاط اور تحقیق سے کام لے ، کسی بھی خبر کی تصدیق سے پہلے مصدقہ ذرائع سے تحقیق کرے،
کتاب و سنت کی اِن تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بغیر سوچے سمجھے کسی بھی خبر یا پیغام ( خواہ وہ قرآن یا حدیث کا نام لے کر کہی گئی ہو) کو کلک کرکے شیئر کرنے کی جلد بازی سے بچنا چاہئے‘ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور سچے لوگوں میں شامل رہنا چاہئے کیونکہ یہی اللہ کا حکم ہے:

’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہمیشہ سچے لوگوں کے ساتھ رہو ‘‘۔(التوبة : 119)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔

Share:

Deen ka ilm hasil karna aur Dusro tak Pahuchana Har Musalman par Farj hai?

Kya Ilm Hasil Karna aur Dusro tak Pahuchana Har Musalman par Farj hai?

السَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه

دین اسلام علم و عمل کی بلندی کا نام ہے ، قرآن حکیم فرقانِ مجید ، سنتِ رسولﷺ اور سلف صالحین کی تعلیمات کی رفعت و عظمت کا نام ہے ۔ اس دین میں علم سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے کا عظیم اجر ہے ۔ اسی لیے دین اسلام میں عالم کو عابد پر فضیلت دی گئی

ابو امامہ باہلی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا تذکرہ کیا گیا جن میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم- آپﷺنے فرمایا

فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَوَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِيجُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِالْخَيْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌغَرِيبٌ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍالْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يَقُولُ عَالِمٌعَامِلٌ مُعَلِّمٌ يُدْعَى كَبِيرًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ ‏.
عالم کی فضیلت عابد پر اسطرح ہے جسطرح میری تمہارے ادنی ترین آدمی پر - پھر فرمایا کہ یقیناّ الله، فرشتے اور تمام اہل زمین ؤ آسماں یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں بھی، اس شخص کی لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رحمت بھیجتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھاتا ہے-
[جامع ترمذی :٢٦٨٥]

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِيفِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِطَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّالْمَلاَئِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَارِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّالْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْفِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِحَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِوَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِكَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِالْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَوَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ إِنَّالأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًاوَلاَ دِرْهَمًا إِنَّمَاوَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَبِحَظٍّ وَافِرٍ
" اگر کوئی شخص علم کا راستہ اختیار کرے گا تو الله اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دے گا اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے (اسکے پاؤں کے نیچے) اپنے پر بچھاتے ہیں – عالم کے لئے آسماں ؤ زمین میں موجود ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے- یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں اس کے لئے استغفار کرتی ہیں- پھر عالم کی عابد پر اسطرح فضیلت ہے جیسے چاند کی فضیلت ستاروں پر- علماء انبیاء کے وارث ہیں  اور بےشک انبیاء کی وراثت درہم ؤ دینار نہیں ہوتے بلکہ انکی میراث علم ہے- پس جسنے اسے حاصل کیا اسنے انبیاء کی وراثت سے بہت سارا حصہ حاصل کر لیا-
[جامع ترمذی :٢٦٨٢،  اس روایت کی طرح اور بھی روایت ہیں اور انکی متن پر علماء کا اتفاق ہے]

صاحبِ علم کی قرآن میں تعریف :
۔﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌
یَرۡفَعِ اللّٰہُ  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ  اُوۡتُوا  الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ
"جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا"
[سورة المجادلة : 58:11]

اور علم سیکھنا سکھانا اتنا اہمیت رکھتا ہے کہ اللہ نے رسول ﷺ کو اس سے زیادہ علم حاصل کر نے کا حکم دیا ۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَ  قُلۡ  رَّبِّ  زِدۡنِیۡ  عِلۡمًا ﴿سورة طه /۱۱۴﴾
اور دعا کرو کہ" میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علمدے"

علماء کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

قُلۡ ہَلۡ  یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ  اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
"کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں"
﴿سورة زمر /٩﴾

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے :

یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یَذَّکَّرُ  اِلَّاۤ  اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿البقرہ/۲۶۹﴾
وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا  اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔

سلف صالحین کی تعلیمات پر عمل پیرا حقیقی سلفی عالم کی خوبیاں :
۔﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌
ہم آج ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ تقدیر کا لکھا غالب آچکا ہے ۔ جوں جوں زمین اپنی مدتِ تکمیل طے کرتے کرتے اپنی منزل سے نزدیک سے نزدیک تر ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے فتنہ و فساد بحر و بر میں بڑھتا جا رہا ہے ۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا
﴿سورة روم /۴١﴾

کیا ہم آج اس وقت میں داخل نہیں ہو چکے ہیں جب لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کر رہے ہیں ، جیسے جیسے عدل و انصاف اٹھتا جارہا ہے ، علماء حق دنیا چھوڑتے جا رہے ہیں اور بدعت کی خرافات بڑھتی جارہی ہیں ویسے ویسے خیر و برکت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ پھلوں میں مویشیوں میں اناج میں اور انسان کے مال و اولاد میں نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے ۔ مومن اور کافر کا فرق مٹ رہا ہے ، جاہلوں کے ہاتھوں علماء دین کی تذلیل ہونا اب عام بات ہے ، علماء کے ساتھ ادب و آداب کے بجائے عام لوگوں کی طرح برتاو کیا جاتا ہے ۔ لوگوں کے نزدیک قابلِ نفرت امور پسندیدہ بنتے جا رہے ہیں اور حلال کی جگہ حرام لیتا جا رہا ہے ۔ وہ اس لیے کیونکہ لوگ صراط مستقیم سے دور ہو گئے ہیں ، دنیا میں آنے کے مقاصد بھول گئے ہیں ۔ اور اس کے خاطر خواہ اثرات علماء سلف میں بھی دیکھنے میں آتے ہیں ۔ موجودہ وقت کی مادیت پرستی نے ہمارے کئی سلفی علماء کو متاثر کیا ہے ، دنیاپرستی ، شہرت پرستی اور خود پسندی نے اکثر سفلی علماء کو ان کے مقاصد اور فرائض سے دور کر دیا ہے ، اس کی بڑی وجہ خشیت الہیٰ کی کمی ہے ۔

شیخ السلام ابن قیم الجوزیہ " الفوائد" صفحہ ١٦٢  پر عبدللہ بن مسعود سے نقل کرتے ہیں:

یقیناّ ایک شخص علم کو بھول جاتا ہے ان گناہ کی وجہ سے جو کرتا ہے ۔ علم یہ نہیں کہ تم بہت سی روایات بیان کرو، بلکہ علم اللہ سے خوف کا نام ہے ۔

سلفی علماء سلف صالحین کی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں ، آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں :

✦ جب تک عالم کے اندر قرآنی اوصاف ، شکرِ خداوندی ، اموال میں قناعت پسندی ، معاملات میں اطاعت الہٰی اور اعمال میں خشیتِ الہٰی مقدم نہیں ہوگا وہ سلفی علماء کی صف سے دور ہے ۔

اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ  الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ  غَفُوۡرٌ ﴿الفاطر/۲۸﴾
اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو صاحبِ علم ہیں ۔ 

✦ سلفی عالم امت محمدیہﷺ کے لیے تکلیف محسوس کرتا ہے ، وہ امت کی برائیوں کے سد باب کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے ۔ اسے امت کی فکرات راتوں کو جگاتی ہیں ۔

✦ عالم اگر نیکی کا حکم تو دے اور برائی سے بھی روکے لیکن خود ان صفات سے محروم ہو ، تو وہ عالم سلفیت سے دور ہے ۔

{ أَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ وَ أَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ أَ فَلاَ تَعْقِلُوْنَ}
(البقرۃ : ۴۴)         
یہ کیا غضب ہے کہ اوروں کو تو نیک کاموں کا حکم کرتے ہو اور خود اپنی ہی خبر نہیں لیتے، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے

✦ اس امت کے اسلاف کی طرح عالم اگر امت پر شفیق ، مہربان اور مخلص نا ہو بلکہ اس کے لیے اس کی ذات ، انا ، اسٹیٹس ، شہرت اور نمود و نمائش سب سے بڑھ کر اہم ہوں تو یہ سلفیت نہیں ہے ۔

✦ جب تک ایک عالم اللہ تعالیٰ سے حقیقی معنوں میں نہیں ڈرے گا ، وہ دینی اخلاص کے دعووں میں ناکام رہے گا اور دنیا داری اس کی مشغولیات کی ترجیحات ہوگی ، کیونکہ اللہ کا ڈر دنیاداری ختم کر دیتا ہے ۔

✦ جب تک ایک عالم حق کو واضح کرنے میں تساہل اور آزمائشوں سے گھبرائے گا ، حق گوئی پر سکوت کو ترجیح دے گا ، اس وقت تک وہ سلفی عالم نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ سلف دنیا کے ڈر پر راہِ حق کی آزمائشوں سے گھبراتے نہیں تھے ۔

✦ جب تک لوگوں سے ایک عالم کی گفتگو حکمت اور نصیحت سے بھری نا ہوگی اس وقت تک اس کی تعلیمات میں اثر پیدا نہیں ہو گا ۔ سلفی عالم کی دعوت دینی اخلاص کی شیرینی سے بھرپور اور مئوثر ہوتی ہے جو سلف کا شعار ہے ۔

✦ حقیقی معنوں میں سلفی علماء اپنے اندر اعمالِ حسنہ کی کثرت ، دانائی ، قوتِ ایمانی ، نیکوکاری اور مستقیم الاحوال ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناکارہ ، خطا کار اور طلابِ علم سمجھتے ہیں ۔ جب کہ دورِ حاضر میں اکثر سلفی علماء کسی حد تک رعونت کا شکار ہیں ، سوشل میڈیا کے ابلاغی میدان میں ان کا دعوتی کاموں پر متکبرانہ طرزِ اسلوب بسا اوقات مایوس کن ہوتا ہے ، یہ ایک سلفی عالم کا وطیرہ نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ حقیقی سلفی عالم شب و روز قرآن و سنت کی خدمت کر کے بھی تشنہ لب رہتا ہے اور جتاتا نہیں ہے ۔

✦ اگر ایک عالم مخالفینِ اسلام سے چشم پوشی کرے اور لوگوں کو مخالفینِ اسلام سے پہنچنے والے نقصانات اور ان کے سدّ باب سے آگاہ نا کرے تو وہ اپنا فرض پورا کرنے میں ناکام ہے ، یہ اسلاف کی تعلیمات نہیں ہیں ۔  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿المائدہ/۶۷﴾
اے رسول ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا

✦ ایک سلفی عالم بار بار اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے ، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کا ضمیر شیطان کے لیے ایک زرخیز زمین ثابت ہوگی ، جہاں وہ نت نئے شیطانی ہتھکنڈوں کے بیج بوتا رہے گا اور عالم کے فطری ایمان کو سلاتا رہے گا ۔ آگاہ رہیں کہ اسلافِ امت اپنے نفس کا بار بار محاسبہ کرتے تھے ۔ دعوتی میدان میں اپنی ابلاغی جدوجہد ، انکے نتائج ، دینی کاوشوں کے ثمرات پر نظر رکھتے تھے اور ان میں پیدا شدہ جھول کو دور کرنے کی کوشش میں جُت جاتے تھے ۔

✦ اگر دعوتی میدان میں عالم کی توجہ شہرت کے در و بام پر رہے گی ، وہ ہر روز ہر جگہ اپنے نام و نمود اور شہرت کو ناپتا اور تولتا رہے گا اور دوسرے اہل علم سے تقابلہ کرتا رہے گا ، اس وقت تک وہ سلفی علماء کی صف سے دور ہے ۔

✦ جب تک عالم کے اندر خود پسندی ، تکبر و نخوت اور رعونت ہوگی وہ سلفی علماء تو دور کی بات ہے رحمٰن کے عام متقی بندوں میں بھی شامل نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اس امت کے سلف عاجزی و انکساری اور متانت کا پیکر ہوا کرتے تھے۔

✦ جب تک ایک عالم کا اوڑھنا اور بچھونا دنیاداری ہو گا اور جب تک وہ مادہ پرست دنیا کا حصہ بنا رہے گا اس وقت تک وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا نہیں کر سکے گا ۔ جبکہ اسلاف کی چادر و چٹائی امر بالمعروف اور زندگی کا مقصد نہی عن المنکر ہوا کرتا تھا ۔

✦ اگر ایک عالم سلف کے اقوالِ حق کی حمایت کرتا ہے لیکن خود سلفیت کے احکامات پر عملی طور پر مفلس ہے ، نیز اقوالِ باطل کی تردید تو کرتا ہے لیکن خود اس کی طرزِ زندگی ان باطل اقوال سے مزین ہے تو وہ سلفی عالم کہلانے کا ہر گز حقدار نہیں ہے ۔

✦ اگر ابلاغِ دین میں دورانِ درس و تدریس صاحبِ علم سے کوتاہی ہو جائے اور وہ بجائے رجوع کرنے کے اپنے مرتبہ کے زعم میں اس کوتاہی پر ڈٹا رہے ، پھر کوتاہی کو درست ثابت کرنے کے لیے مزید کوتاہیاں کرتا رہے ، نیز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں رجوع کرنا اپنی کسرِ شان سمجھے تو وہ ہر گز سلفیت کے پلیٹ فارم پر نہیں ہے ، کیونکہ غلط فکرو نظر پروری اہل بدعات کی نشانی ہوتی ہے ، سلف ان قبیحات سے پاک تھے ۔ اور ہر حقیقی سلفی عالم اس سے نفرت کرتا ہے ۔

اگر ہم سلف صالحین کا مطالعہ کریں تو جانیں گے کہ سلف اپنے وقت کے اکابر علماء کی طرف رجوع کرتے تھے جو اس وقت موجود تھے ۔ جیسے کسی کو بدعتی قرار دینا ہو یا تکفیر کے امور ہوں ۔

شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے ایک دن گلوکوز انجکشن (glucose Injection ) کے حوالے سے ایک فتویٰ دیا تو مجمع میں موجود ایک شخص نے طبی بنیادوں پر شیخ رحمہ اللہ کے فتوے کی مخالفت کی ۔ اس پر شیخ نے کہا کہ میں اپنا فتویٰ واپس لیتا ہوں تب تک جب تک میں اپنے شیخ علامہ عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ سے نہ پوچھ لوں ۔ پھر اگلے روز وہ آئے اور لوگوں کو اپنے شیخ کا فتویٰ سنایا ۔
[ دیکھیے : الجامع لحیات العلّامہ محمد ابن صالح العثیمین، صفحہ ٢٣ ]

✦ جب معاشرے میں برائیاں ، بدعنوانیاں اور فسق و فجور پروان چڑھ رہا ہو ، اور عالم محض اپنے رتبوں اور عہدوں کو چمکانے میں مشغولیت رہے ، نیز برائیوں کو پھیلانے والوں پر سکوت اختیار کر لے تو یہ اہل سلفیت کا نہیں بلکہ یہود و نصاری کی خصلتیں ہیں ۔ یہود نصاریٰ کا نصب العین برائیوں کا پرچار ہوتا ہے ، وہ اچھائیوں پر سکوت اختیار کرتے ہیں

بجز زبان کی جمع خرچی کے اگر عالم کا علم دین پر عمل نہیں تو برسوں کی محنت سے سیکھے علومِ دین کے بعد بھی وہ ناکارہ اور سلفی تعلیمات سے دور ہے ۔ آج ان علماء کی کثرت قابلِ افسوس ہے جو علم دین حاصل کرنے کے بعد بھی عمل سے بہت دور ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :
ولکن کونوا ربانیّین بما کنتم تعلمون الکتاب وبما کنتم تدرسوں(آل عمران:۷۹)
'' تم لوگ اللہ والے بن جائو بوجہ اس کے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ پڑھتے ہو۔''

🖋: مسز انصاری

وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ
وَالسَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه

ALQURAN O HADITHS ➤WITH MRS. ANSARI

Share:

Khurasan Se Saiyyah Jhande lekar nikalne wali Peshingoiya.

Kya Iran Israel Jung Sirf Do Mulko ki jung hai?
Khurasan Kaha par hai aur isse juri Peshingoiya.

� خراسان، سیاہ جھنڈے اور آخری زمانے کی پیش گوئیاں �

جیسے جیسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں، دنیا بھر کے مبصرین اب نہ صرف سیاسی منظرنامے پر نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان اسلامی روایات پر بھی توجہ دے رہے ہیں جو "آخری زمانے" سے متعلق ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ توجہ پانے والی روایتیں وہ ہیں جن میں "خراسان" اور وہاں سے نکلنے والے "سیاہ جھنڈوں" کا ذکر آتا ہے۔

> "جب تم خراسان سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو، تو ان کی طرف شامل ہو جاؤ، کیونکہ ان کے درمیان اللہ کا خلیفہ، مہدی ہوگا۔"
— سنن ابن ماجہ: حدیث 4082

> "سیاہ جھنڈے خراسان سے نکلیں گے، اور انہیں کوئی چیز نہیں روک سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں نصب کر دیے جائیں۔"
— مسند احمد بن حنبل: جلد 4، صفحہ 435

"خراسان" فارسی کے الفاظ "خور" (سورج) اور "آسان" (آنا) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب بنتا ہے "طلوعِ آفتاب کی سرزمین"۔

یہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ ایک تاریخی خطہ تھا، جو آج کے شمال مشرقی ایران، افغانستان اور پاکستان کے شمال مغربی علاقے پر محیط ہے ۔

Share:

Iraq uske bad Iran fir Kiski bari hai? Muslim mumalik me kisi ke pas Nuclear Weapon nahi hona chahiye?

Iran aur Iraq ke bad Kiski Bari hai?

Israel ab iran ke bad USA ke sath Pakistan tak kab pahuchega?
Khurasan kaha par hai aur Saiyaah Faujaein kidhar se aayegi?
Khurasan aur Saiyyah jhhande lekar nikalne wali jamaat.


نقشہ دیکھ لیجیے...... 
اسرائیل کی سرحد اردن سے ملتی ہے۔
اردن کی سرحد شام سے،
شام کی سرحد عراق سے،
اور عراق کی سرحد ایران سے جا ملتی ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد ملتی ہے۔

اب ذرا تاریخ کے صفحات پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ:

جب (کنگ حسین) کے ساتھ اردن کا اسرائیل سے امن معاہدہ ہوتا ہے،
تو اسرائیل براہِ راست شام کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے اور موساد وہاں سرگرمِ عمل ہو جاتا ہے۔

شام میں حافظ الاسد رکاوٹ بنتا ہے،
چنانچہ وہاں چودہ سال اور تین ماہ تک خانہ جنگی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔
اس دوران شام کا فضائیہ اور فوج مکمل طور پر تباہ کر دی جاتی ہے،
ملک قرض میں ڈوب جاتا ہے،
بھائی، بھائی کا گلا کاٹتا ہے،
اور بالآخر بشار الاسد کو چلتا کیا جاتا ہے۔

اقتدار پر الجولانی اس حالت میں قبضہ کرتا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں
اور اہلِ شام صرف بے بسی کی آہیں بھرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اب ایران اور پاکستان کے درمیان صرف عراق باقی رہ جاتا ہے۔

پہلے عراق کو اسلحہ دیا جاتا ہے،
ایران میں خونی انقلاب برپا کروایا جاتا ہے،
اور پھر عرب اور عجم (یعنی عربی اور فارسی) کو آپس میں لڑایا جاتا ہے۔

یہ خونریزی آٹھ سال تک جاری رہتی ہے —
نہ کوئی فاتح ہوتا ہے، نہ مفتوح۔
ہاں، یہی اسرائیل جب دیکھتا ہے کہ عراق اور ایران حالتِ جنگ میں ہیں،
تو وہ اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے تموز کے نیوکلیئر پلانٹ پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے،
یہ کہہ کر کہ اس سے اسرائیل کی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد عراق کو شہ دی جاتی ہے اور وہ کویت پر حملہ آور ہوتا ہے۔
جیسے ہی وہ کویت کی سرحد پار کرتا ہے،
امریکہ بہادر پوری دنیا کو اکٹھا کر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔

مگر تب بھی عراق میں کچھ جان باقی رہتی ہے۔

پھر یہی اسرائیل 2003 میں امریکہ کو قائل کرتا ہے کہ عراق ایسے ہتھیار بنا رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔

عراق بار بار یقین دہانی کرواتا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں،
وہ عالمی ایٹمی توانائی کے ادارے کو مکمل رسائی دیتا ہے،
مگر اس ادارے کے افراد جاسوسی پر مامور ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد عراق پر تباہ کن حملہ ہوتا ہے،
شیعہ ملیشیا حرکت میں آتے ہیں،
بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے،
عراق کی فوج اور فضائیہ مکمل تباہ کر دی جاتی ہے،
سونے کے ذخائر لوٹے جاتے ہیں
اور صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔


اب پاکستان اور اسرائیل کے درمیان صرف ایران رہ جاتا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں اردن، شام، اور عراق کے اوپر سے بلاخوف و خطر پرواز کر سکتے ہیں،
بمباری کر سکتے ہیں، اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔

پھر 12 جون 2025 کا وہ لمحہ آتا ہے،
جب بغیر کسی پیشگی وجہ کے اسرائیل، ایران کے ایٹمی مراکز پر بمباری کرتا ہے۔

ایران کے اہم جرنیلوں اور سائنسدانوں کو ان کے بچوں کے سامنے خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔
دھمکی دی جاتی ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے
جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کر دیا جاتا،
کیونکہ اس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کا وزیرِ دفاع دھمکی دیتا ہے کہ
اگر ایران نے جوابی دفاع کا حق استعمال کیا تو تہران کو جلا کر راکھ کر دیا جائے گا۔

یہ حملے اور جوابی حملے تین دن سے جاری ہیں
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ کب تک جاری رہیں گے۔


اب تصور کیجیے — خدانخواستہ —
اگر ایران بھی اسی انجام سے دوچار ہو جائے جس سے شام اور عراق ہوئے،
تو پھر:
خاکم بدہن!
اسرائیل کے تین چار سو جنگی جہاز پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے
کسی بھی وقت، بغیر کسی روک ٹوک کے آسکیں گے۔

اور اس پر مستزاد یہ کہ
ان کو “ ان کھنڈ بھارت” کے خواب دیکھنے والے گوبر آچاریہ جیسے لوگوں کی حمایت حاصل ہوگی،
ان کے اڈے اور رہنما بھی ساتھ ہوں گے،
اور فضا میں ایندھن کی ضرورت تک نہیں پڑے گی!

تو کیا ہم اس وقت کا انتظار کریں؟


یورپ اور امریکہ کی انسان دوستی،
عدل و انصاف کے پیمانے اور دعوے
اب محض نعرے بن چکے ہیں۔
وہ صرف اُس وقت چیختے ہیں جب ان کی دم پر پاؤں پڑتا ہے،
ورنہ راوی چین ہی لکھتا ہے۔


جو کچھ کرنا ہے

جیسا بھی کرنا ہے
ابھی اور اسی وقت کرنا ہے۔

ورنہ:
“تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!”

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS