Kya Iran Israel Jung Sirf Do Mulko ki jung hai?
Khurasan Kaha par hai aur isse juri Peshingoiya.
� خراسان، سیاہ جھنڈے اور آخری زمانے کی پیش گوئیاں �
جیسے جیسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں، دنیا بھر کے مبصرین اب نہ صرف سیاسی منظرنامے پر نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان اسلامی روایات پر بھی توجہ دے رہے ہیں جو "آخری زمانے" سے متعلق ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ توجہ پانے والی روایتیں وہ ہیں جن میں "خراسان" اور وہاں سے نکلنے والے "سیاہ جھنڈوں" کا ذکر آتا ہے۔
> "جب تم خراسان سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو، تو ان کی طرف شامل ہو جاؤ، کیونکہ ان کے درمیان اللہ کا خلیفہ، مہدی ہوگا۔"
— سنن ابن ماجہ: حدیث 4082
> "سیاہ جھنڈے خراسان سے نکلیں گے، اور انہیں کوئی چیز نہیں روک سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں نصب کر دیے جائیں۔"
— مسند احمد بن حنبل: جلد 4، صفحہ 435
"خراسان" فارسی کے الفاظ "خور" (سورج) اور "آسان" (آنا) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب بنتا ہے "طلوعِ آفتاب کی سرزمین"۔
یہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ ایک تاریخی خطہ تھا، جو آج کے شمال مشرقی ایران، افغانستان اور پاکستان کے شمال مغربی علاقے پر محیط ہے ۔






No comments:
Post a Comment