Kya kisi ke Refrence De dene se Hi koi Hadees sahi sabit ho jati hai?
Bagair Tahqeeq kiye Hadees Bayan karna kya Deen hai?
"ریفرنس" کے نام پر خود کو حق پر سمجھنا!
آج کل کچھ لوگ دینی علم کے بنیادی اصولوں سے نابلد ہوتے ہوئے بھی محض "ریفرنس" کے نام پر خود کو حق پر سمجھنے لگے ہیں۔ دین کا صحیح فہم صرف یہ نہیں کہ کسی ویب سائٹ سے حدیث پڑھ لی اور اسے قطعی دلیل بنا لیا، بلکہ اس کے لیے اصولِ حدیث، اصولِ فقہ، اجماع، قیاس، اسبابِ ورود، ناسخ و منسوخ، اور دیگر کئی علوم کی مہارت ضروری ہے۔
ائمہ اربعہ اور دیگر اکابرین نے صدیوں کی محنت سے جو علمی ورثہ چھوڑا ہے، وہ کسی ایک دو حدیثیں پڑھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ علماء ہمیشہ یہ سکھاتے آئے ہیں کہ دین کو سند اور تسلسل کے ساتھ اہلِ علم سے سیکھا جائے، نہ کہ محض ترجمے اور سرچ انجنز پر انحصار کیا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض افراد محض شہرت کے لیے یا کسی خاص ایجنڈے کے تحت ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جو امت میں فتنہ و انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ لوگ اہلِ علم کی صحبت اختیار کریں، علم کو اس کے اصولوں کے مطابق سیکھیں، اور دینی معاملات میں جذباتیت کے بجائے حکمت، بصیرت اور دیانت داری کو اپنائیں۔
اللّٰہ ہمیں صحیح علم، فہم اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
#نقل







No comments:
Post a Comment