Kya Aurat ghar me Apne Baap ya Bhai ke Samne Bagair Parde ke rah sakti hai?
Kya Apne Ghar me Mehram ke Samne Bagair Dupatta ke Aurat samane aa sakti hai?
خاتون محمدی
الســـلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سسٹر اس بات کو واضح کر دیجئے میں ایک اہل حدیث عالم کی تقریر میں سنی ہوں گھر میں اگر غیر محرم کا آنا جانا نہ ہو تو عورت گھر میں بغیر دوپٹہ کے رہ سکتی ہے .
گھر میں تو باپ بھائی تو ہوتے ہیں اگر کوئی نہیں ہوگا تب بنا دوپٹہ کے رہ سکتے ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے سسٹر رہنمائی کر دیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَعَلَيْكُمُ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
ان صاحبِ علم حضرت نے درست فرمایا سسٹر !!
عورتوں کے لئے محارم کے سامنے زینت کے اعضاء (سر، بال، گردن، سینہ، کان، بازو، کلائی، پنڈلی، چہرہ) وغیرہ کھلا رکھنے کی ممانعت نہیں ہے ، عورت اپنے گھر میں اپنے محارم کی موجودگی یا غیر موجودگی میں بغیر دوپٹہ لیے یا بغیر سر ڈھانپے رہ سکتی ہے ، تاہم مستحسن بات یہ ہے کہ بتقاضہ حیا ، باپ یا بھائی کے سامنے اپنے سینے کو ڈھانپ لے ، البتہ سر کھلا رہنے کی اجازت ہے ۔ اسی طرح یہ بات مشہور ہے کہ عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے میں مانع ہے ، ایسا نہیں ہے ، ذخیرہ احادیث میں جہاں اس طرح کی بات یعنی رحمت کے فرشتوں کا گھروں میں داخل نہ ہونا مذکور ہے ، وہاں تصویر کا ہونا ، یا کتے کا گھر میں ہونا تو وارد ہے ، لیکن عورت کے ننگے سر ہونے کی بات نہیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم







No comments:
Post a Comment