Koi Shakhs Ek baat bolta hai magar yah nahi sochta hai ke wah kitna failega aur kya anjaam hoga uska?
Suni Hui bato, afwaho aur jhuthi khabre failane ka Gunah.
سنی سنائی باتیں،افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا گناہ .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
️: مسز ارشد انصاری
آج کے وقت میں جبکہ ہماری زندگیوں کا بہت بڑا حصہ ابلاغی پلیٹ فارم کا محتاج ہوگیا ہے، اس احتیاج کو پورا کرنے کے لیے ہم اور آپ جہاں اس پلیٹ فارم کے مثبت اور مستند مواد سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہاں اس پلیٹ فارم میں موجود جھوٹے اور دھوکہ باز طبیعت کے حامل لوگوں کی منفی سرگرمیوں سے ہمارے معاشرے میں بدامنی اور فتنہ و فساد بھی پیدا ہوتا ہے، سوشل میڈیا اور واٹس اپ کے اس دور میں لوگوں کو چٹپٹی غیر مصدقہ خبریں اڑانے میں بہت خوشی اور دلچسپی محسوس ہوتی ہے ، لیکن افواہوں اور جھوٹی خبروں کا یہ سلسلہ چنگاری کو آگ بنا دیتا ہے ، شعلے کو آتش فشاں بنا دیتا ہے اور لوگ اس گھناؤنے کھیل سے لذت حاصل کرتے ہیں ، سماج و معاشرے کو ذہنی طور پر الجھاکر ان میں اضطراب پیدا کیا جاتا ہے جس کا تجربہ آجکل کے کچھ ایشوز پر بھرپور دیکھنے میں آرہا ہے جو نہایت افسوسناک تجربات ہیں، افواہوں کا بازار گرم ہے، اور ان افواہوں کو ہوا دینے والا ایک عنصر یہ ہے کہ ایک شخص اگر اکچھ سنتا ہے تو بجائے اس کی تصدیق کرنے کے اسے فورًا آگے پھیلا دیتا ہے ، اور جب ان کم ظرف اشخاص کی سرزنش کی جائے تو کہتے ہیں کہ یہ بات ہمیں سوشل میڈیا سے ملی ہے یا فلاں فلاں واٹس ایپ گروپ پرآئی تو ہم نے شیئر کردی، یا فلاں فلاں شخص سے سن کر ہم نے شئیر کردی ، واللہ یہ انداز فکر انتہائی گھناونا ہےکیونکہ جھوٹ‘ جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے جو ہرگز اسلام کی تعلیم نہیں ، جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلم سماج اور معاشرے میں اضطراب، بےچینی اور فساد پیدا ہوجائے ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
لَوْخَرَجُوْافِیْکُمْ مَّازَادُوْکُمْ اِلَّاخَبَالًاوَّلَااَوْضَعُوْاخِلٰٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْْنَۃَ وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِاظّٰلِمِیْنَ
’’اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں ر ہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے‘‘۔( توبہ:47 )
سنی سنائی باتیں ، جھوٹی خبریں اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور و فکر کرناچاہئے :
اِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مَایَتَبَیَّنُ فِیْہَایَزِلُّ بِھَافِیْ النَّارِأَبْعَدَ مِمَّا بَیْنَ المَشْرِقِ.
’’ آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کہ وہ بات کتنی پھیلے گی کتنا کفر و و فساد اور بے حیائی کی طرف لے جائیگی ،قوم و ملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا )جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڈھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا پچھّم سے پورپ کا فاصلہ ہے‘‘
( مسلم:8892 )
عمومًا لوگ مخلوط طبیعتوں کے مالک ہوتے ہیں، کچھ جھوٹ اور افتراء بازی میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں، اور کچھ سچائی کو پسند کرتے ہیں، اسی لیے ملی جلی طبیعتوں کے باعث جھوٹی سچی ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں، اور اگر انسان ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرے گا تو وہ ظاہر سی بات ہے لازمی جھوٹ بولے گا، اسی لیے بلا تحقیق و تدبر کے ہر کسی کی بات نقل کر دینا درست نہیں ہے۔
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع
”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے “۔
( صحیح مسلم : 7 )
مسلمان کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا یہ اصول اپنی زندگی پر منطبق کرنا چاہئیے کہ وہ ہر وقت احتیاط اور تحقیق سے کام لے ، کسی بھی خبر کی تصدیق سے پہلے مصدقہ ذرائع سے تحقیق کرے،
کتاب و سنت کی اِن تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بغیر سوچے سمجھے کسی بھی خبر یا پیغام ( خواہ وہ قرآن یا حدیث کا نام لے کر کہی گئی ہو) کو کلک کرکے شیئر کرنے کی جلد بازی سے بچنا چاہئے‘ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور سچے لوگوں میں شامل رہنا چاہئے کیونکہ یہی اللہ کا حکم ہے:
’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہمیشہ سچے لوگوں کے ساتھ رہو ‘‘۔(التوبة : 119)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔







No comments:
Post a Comment