Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Deen ka ilm hasil karna aur Dusro tak Pahuchana Har Musalman par Farj hai?

Kya Ilm Hasil Karna aur Dusro tak Pahuchana Har Musalman par Farj hai?

السَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه

دین اسلام علم و عمل کی بلندی کا نام ہے ، قرآن حکیم فرقانِ مجید ، سنتِ رسولﷺ اور سلف صالحین کی تعلیمات کی رفعت و عظمت کا نام ہے ۔ اس دین میں علم سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے کا عظیم اجر ہے ۔ اسی لیے دین اسلام میں عالم کو عابد پر فضیلت دی گئی

ابو امامہ باہلی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا تذکرہ کیا گیا جن میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم- آپﷺنے فرمایا

فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَوَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِيجُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِالْخَيْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌغَرِيبٌ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍالْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يَقُولُ عَالِمٌعَامِلٌ مُعَلِّمٌ يُدْعَى كَبِيرًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ ‏.
عالم کی فضیلت عابد پر اسطرح ہے جسطرح میری تمہارے ادنی ترین آدمی پر - پھر فرمایا کہ یقیناّ الله، فرشتے اور تمام اہل زمین ؤ آسماں یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں بھی، اس شخص کی لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رحمت بھیجتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھاتا ہے-
[جامع ترمذی :٢٦٨٥]

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِيفِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِطَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّالْمَلاَئِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَارِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّالْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْفِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِحَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِوَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِكَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِالْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَوَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ إِنَّالأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًاوَلاَ دِرْهَمًا إِنَّمَاوَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَبِحَظٍّ وَافِرٍ
" اگر کوئی شخص علم کا راستہ اختیار کرے گا تو الله اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دے گا اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے (اسکے پاؤں کے نیچے) اپنے پر بچھاتے ہیں – عالم کے لئے آسماں ؤ زمین میں موجود ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے- یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں اس کے لئے استغفار کرتی ہیں- پھر عالم کی عابد پر اسطرح فضیلت ہے جیسے چاند کی فضیلت ستاروں پر- علماء انبیاء کے وارث ہیں  اور بےشک انبیاء کی وراثت درہم ؤ دینار نہیں ہوتے بلکہ انکی میراث علم ہے- پس جسنے اسے حاصل کیا اسنے انبیاء کی وراثت سے بہت سارا حصہ حاصل کر لیا-
[جامع ترمذی :٢٦٨٢،  اس روایت کی طرح اور بھی روایت ہیں اور انکی متن پر علماء کا اتفاق ہے]

صاحبِ علم کی قرآن میں تعریف :
۔﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌
یَرۡفَعِ اللّٰہُ  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ  اُوۡتُوا  الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ
"جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا"
[سورة المجادلة : 58:11]

اور علم سیکھنا سکھانا اتنا اہمیت رکھتا ہے کہ اللہ نے رسول ﷺ کو اس سے زیادہ علم حاصل کر نے کا حکم دیا ۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَ  قُلۡ  رَّبِّ  زِدۡنِیۡ  عِلۡمًا ﴿سورة طه /۱۱۴﴾
اور دعا کرو کہ" میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علمدے"

علماء کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

قُلۡ ہَلۡ  یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ  اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
"کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں"
﴿سورة زمر /٩﴾

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے :

یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یَذَّکَّرُ  اِلَّاۤ  اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿البقرہ/۲۶۹﴾
وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا  اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔

سلف صالحین کی تعلیمات پر عمل پیرا حقیقی سلفی عالم کی خوبیاں :
۔﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌﹌
ہم آج ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ تقدیر کا لکھا غالب آچکا ہے ۔ جوں جوں زمین اپنی مدتِ تکمیل طے کرتے کرتے اپنی منزل سے نزدیک سے نزدیک تر ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے فتنہ و فساد بحر و بر میں بڑھتا جا رہا ہے ۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا
﴿سورة روم /۴١﴾

کیا ہم آج اس وقت میں داخل نہیں ہو چکے ہیں جب لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کر رہے ہیں ، جیسے جیسے عدل و انصاف اٹھتا جارہا ہے ، علماء حق دنیا چھوڑتے جا رہے ہیں اور بدعت کی خرافات بڑھتی جارہی ہیں ویسے ویسے خیر و برکت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ پھلوں میں مویشیوں میں اناج میں اور انسان کے مال و اولاد میں نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے ۔ مومن اور کافر کا فرق مٹ رہا ہے ، جاہلوں کے ہاتھوں علماء دین کی تذلیل ہونا اب عام بات ہے ، علماء کے ساتھ ادب و آداب کے بجائے عام لوگوں کی طرح برتاو کیا جاتا ہے ۔ لوگوں کے نزدیک قابلِ نفرت امور پسندیدہ بنتے جا رہے ہیں اور حلال کی جگہ حرام لیتا جا رہا ہے ۔ وہ اس لیے کیونکہ لوگ صراط مستقیم سے دور ہو گئے ہیں ، دنیا میں آنے کے مقاصد بھول گئے ہیں ۔ اور اس کے خاطر خواہ اثرات علماء سلف میں بھی دیکھنے میں آتے ہیں ۔ موجودہ وقت کی مادیت پرستی نے ہمارے کئی سلفی علماء کو متاثر کیا ہے ، دنیاپرستی ، شہرت پرستی اور خود پسندی نے اکثر سفلی علماء کو ان کے مقاصد اور فرائض سے دور کر دیا ہے ، اس کی بڑی وجہ خشیت الہیٰ کی کمی ہے ۔

شیخ السلام ابن قیم الجوزیہ " الفوائد" صفحہ ١٦٢  پر عبدللہ بن مسعود سے نقل کرتے ہیں:

یقیناّ ایک شخص علم کو بھول جاتا ہے ان گناہ کی وجہ سے جو کرتا ہے ۔ علم یہ نہیں کہ تم بہت سی روایات بیان کرو، بلکہ علم اللہ سے خوف کا نام ہے ۔

سلفی علماء سلف صالحین کی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں ، آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں :

✦ جب تک عالم کے اندر قرآنی اوصاف ، شکرِ خداوندی ، اموال میں قناعت پسندی ، معاملات میں اطاعت الہٰی اور اعمال میں خشیتِ الہٰی مقدم نہیں ہوگا وہ سلفی علماء کی صف سے دور ہے ۔

اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ  الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ  غَفُوۡرٌ ﴿الفاطر/۲۸﴾
اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو صاحبِ علم ہیں ۔ 

✦ سلفی عالم امت محمدیہﷺ کے لیے تکلیف محسوس کرتا ہے ، وہ امت کی برائیوں کے سد باب کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے ۔ اسے امت کی فکرات راتوں کو جگاتی ہیں ۔

✦ عالم اگر نیکی کا حکم تو دے اور برائی سے بھی روکے لیکن خود ان صفات سے محروم ہو ، تو وہ عالم سلفیت سے دور ہے ۔

{ أَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ وَ أَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ أَ فَلاَ تَعْقِلُوْنَ}
(البقرۃ : ۴۴)         
یہ کیا غضب ہے کہ اوروں کو تو نیک کاموں کا حکم کرتے ہو اور خود اپنی ہی خبر نہیں لیتے، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے

✦ اس امت کے اسلاف کی طرح عالم اگر امت پر شفیق ، مہربان اور مخلص نا ہو بلکہ اس کے لیے اس کی ذات ، انا ، اسٹیٹس ، شہرت اور نمود و نمائش سب سے بڑھ کر اہم ہوں تو یہ سلفیت نہیں ہے ۔

✦ جب تک ایک عالم اللہ تعالیٰ سے حقیقی معنوں میں نہیں ڈرے گا ، وہ دینی اخلاص کے دعووں میں ناکام رہے گا اور دنیا داری اس کی مشغولیات کی ترجیحات ہوگی ، کیونکہ اللہ کا ڈر دنیاداری ختم کر دیتا ہے ۔

✦ جب تک ایک عالم حق کو واضح کرنے میں تساہل اور آزمائشوں سے گھبرائے گا ، حق گوئی پر سکوت کو ترجیح دے گا ، اس وقت تک وہ سلفی عالم نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ سلف دنیا کے ڈر پر راہِ حق کی آزمائشوں سے گھبراتے نہیں تھے ۔

✦ جب تک لوگوں سے ایک عالم کی گفتگو حکمت اور نصیحت سے بھری نا ہوگی اس وقت تک اس کی تعلیمات میں اثر پیدا نہیں ہو گا ۔ سلفی عالم کی دعوت دینی اخلاص کی شیرینی سے بھرپور اور مئوثر ہوتی ہے جو سلف کا شعار ہے ۔

✦ حقیقی معنوں میں سلفی علماء اپنے اندر اعمالِ حسنہ کی کثرت ، دانائی ، قوتِ ایمانی ، نیکوکاری اور مستقیم الاحوال ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناکارہ ، خطا کار اور طلابِ علم سمجھتے ہیں ۔ جب کہ دورِ حاضر میں اکثر سلفی علماء کسی حد تک رعونت کا شکار ہیں ، سوشل میڈیا کے ابلاغی میدان میں ان کا دعوتی کاموں پر متکبرانہ طرزِ اسلوب بسا اوقات مایوس کن ہوتا ہے ، یہ ایک سلفی عالم کا وطیرہ نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ حقیقی سلفی عالم شب و روز قرآن و سنت کی خدمت کر کے بھی تشنہ لب رہتا ہے اور جتاتا نہیں ہے ۔

✦ اگر ایک عالم مخالفینِ اسلام سے چشم پوشی کرے اور لوگوں کو مخالفینِ اسلام سے پہنچنے والے نقصانات اور ان کے سدّ باب سے آگاہ نا کرے تو وہ اپنا فرض پورا کرنے میں ناکام ہے ، یہ اسلاف کی تعلیمات نہیں ہیں ۔  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿المائدہ/۶۷﴾
اے رسول ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا

✦ ایک سلفی عالم بار بار اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے ، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کا ضمیر شیطان کے لیے ایک زرخیز زمین ثابت ہوگی ، جہاں وہ نت نئے شیطانی ہتھکنڈوں کے بیج بوتا رہے گا اور عالم کے فطری ایمان کو سلاتا رہے گا ۔ آگاہ رہیں کہ اسلافِ امت اپنے نفس کا بار بار محاسبہ کرتے تھے ۔ دعوتی میدان میں اپنی ابلاغی جدوجہد ، انکے نتائج ، دینی کاوشوں کے ثمرات پر نظر رکھتے تھے اور ان میں پیدا شدہ جھول کو دور کرنے کی کوشش میں جُت جاتے تھے ۔

✦ اگر دعوتی میدان میں عالم کی توجہ شہرت کے در و بام پر رہے گی ، وہ ہر روز ہر جگہ اپنے نام و نمود اور شہرت کو ناپتا اور تولتا رہے گا اور دوسرے اہل علم سے تقابلہ کرتا رہے گا ، اس وقت تک وہ سلفی علماء کی صف سے دور ہے ۔

✦ جب تک عالم کے اندر خود پسندی ، تکبر و نخوت اور رعونت ہوگی وہ سلفی علماء تو دور کی بات ہے رحمٰن کے عام متقی بندوں میں بھی شامل نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اس امت کے سلف عاجزی و انکساری اور متانت کا پیکر ہوا کرتے تھے۔

✦ جب تک ایک عالم کا اوڑھنا اور بچھونا دنیاداری ہو گا اور جب تک وہ مادہ پرست دنیا کا حصہ بنا رہے گا اس وقت تک وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا نہیں کر سکے گا ۔ جبکہ اسلاف کی چادر و چٹائی امر بالمعروف اور زندگی کا مقصد نہی عن المنکر ہوا کرتا تھا ۔

✦ اگر ایک عالم سلف کے اقوالِ حق کی حمایت کرتا ہے لیکن خود سلفیت کے احکامات پر عملی طور پر مفلس ہے ، نیز اقوالِ باطل کی تردید تو کرتا ہے لیکن خود اس کی طرزِ زندگی ان باطل اقوال سے مزین ہے تو وہ سلفی عالم کہلانے کا ہر گز حقدار نہیں ہے ۔

✦ اگر ابلاغِ دین میں دورانِ درس و تدریس صاحبِ علم سے کوتاہی ہو جائے اور وہ بجائے رجوع کرنے کے اپنے مرتبہ کے زعم میں اس کوتاہی پر ڈٹا رہے ، پھر کوتاہی کو درست ثابت کرنے کے لیے مزید کوتاہیاں کرتا رہے ، نیز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں رجوع کرنا اپنی کسرِ شان سمجھے تو وہ ہر گز سلفیت کے پلیٹ فارم پر نہیں ہے ، کیونکہ غلط فکرو نظر پروری اہل بدعات کی نشانی ہوتی ہے ، سلف ان قبیحات سے پاک تھے ۔ اور ہر حقیقی سلفی عالم اس سے نفرت کرتا ہے ۔

اگر ہم سلف صالحین کا مطالعہ کریں تو جانیں گے کہ سلف اپنے وقت کے اکابر علماء کی طرف رجوع کرتے تھے جو اس وقت موجود تھے ۔ جیسے کسی کو بدعتی قرار دینا ہو یا تکفیر کے امور ہوں ۔

شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے ایک دن گلوکوز انجکشن (glucose Injection ) کے حوالے سے ایک فتویٰ دیا تو مجمع میں موجود ایک شخص نے طبی بنیادوں پر شیخ رحمہ اللہ کے فتوے کی مخالفت کی ۔ اس پر شیخ نے کہا کہ میں اپنا فتویٰ واپس لیتا ہوں تب تک جب تک میں اپنے شیخ علامہ عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ سے نہ پوچھ لوں ۔ پھر اگلے روز وہ آئے اور لوگوں کو اپنے شیخ کا فتویٰ سنایا ۔
[ دیکھیے : الجامع لحیات العلّامہ محمد ابن صالح العثیمین، صفحہ ٢٣ ]

✦ جب معاشرے میں برائیاں ، بدعنوانیاں اور فسق و فجور پروان چڑھ رہا ہو ، اور عالم محض اپنے رتبوں اور عہدوں کو چمکانے میں مشغولیت رہے ، نیز برائیوں کو پھیلانے والوں پر سکوت اختیار کر لے تو یہ اہل سلفیت کا نہیں بلکہ یہود و نصاری کی خصلتیں ہیں ۔ یہود نصاریٰ کا نصب العین برائیوں کا پرچار ہوتا ہے ، وہ اچھائیوں پر سکوت اختیار کرتے ہیں

بجز زبان کی جمع خرچی کے اگر عالم کا علم دین پر عمل نہیں تو برسوں کی محنت سے سیکھے علومِ دین کے بعد بھی وہ ناکارہ اور سلفی تعلیمات سے دور ہے ۔ آج ان علماء کی کثرت قابلِ افسوس ہے جو علم دین حاصل کرنے کے بعد بھی عمل سے بہت دور ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :
ولکن کونوا ربانیّین بما کنتم تعلمون الکتاب وبما کنتم تدرسوں(آل عمران:۷۹)
'' تم لوگ اللہ والے بن جائو بوجہ اس کے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ پڑھتے ہو۔''

🖋: مسز انصاری

وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ
وَالسَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه

ALQURAN O HADITHS ➤WITH MRS. ANSARI

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS