Kya Israel Zamin kharid kar Bana hai?
Kya Arabo ne Yahudiyo ke hatho Palestine ki zamin farokht ki thi?Israeli and European Propaganda ke Arabo se Zamin kharid kar israel bana hai?
56 मुस्लिम रियासत इसलिए फौज रखी के अमेरिकी निजाम की हीफाजत की जाए, उसके डेमोक्रेसी और सेकुलरिज्म जैसी दज्जाली निजाम की हीफाजत की जाए न की अपने रियासत और क़ौम की जान, माल व आबरू की हीफाजत की जाए। वे सब मगरीबि निजाम और नज़रियात् के गुलाम है उनकी हीफाजत की जिम्मेदारी मिली है इसलिए फिलिसतीन अभी तक यूरोप के निजाम का गुलाम है जिसपर इस्राएल को कब्ज़ा करने के लिए बैठाया गया है, जो यूरोप की चौकीदारी करता है, यूरोप से उसे रशुख व रशद् मिलता है।

فلسطینیوں نے اپنی زمینیں فروخت کی ایک منظم پروپیگنڈہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسویں صدی میں ریاستی دہشتگردی کی اس سے بڑی مثال اور نہیں ملتی ، اعلان بالفور کے مطابق در بدر بھٹکتے ہوئے یہودیوں کے لیے جس سرزمین کا انتخاب کیا گیا وہ عرب دنیا کے عین قلب میں واقع ہے ۔۔ یعنی ہلال زرخیز ، فلسطینی علاقوں میں ایک ایسی جگہ یہودیوں کو دینا طے کیا گیا جہاں دو سمندر یعنی بحیرہ روم اور خلیج عقبہ حاصل ہیں ۔۔.
یہ وہ تنگ بحری راستہ ہے جس کے ذریعہ بحیرہ احمر تک پہنچا جاسکتا ہے ۔۔ نیز اسکے چاروں طرف عرب دنیا پھیلی ہوئی ہے ۔۔ یہودیوں کو اس تنگ پٹی کے قریب جگہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ اور مغرب یہاں کا کنٹرول آسانی اپنے ہاتھ میں مستقبل میں لے سکیں گے جہاں سے تجارتی بحری جہازوں کا گزر ہوتا ہے ۔۔
پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد اعلان بالفور کے سائے تلے اور بیس سالہ عملی جد و جہد کے ذریعہ صیہونیوں نے برطانیہ اور اسکے ساتھیوں کی مبینہ مدد و اعانت سے عربوں کے علاقے فلسطین پر قبضہ جما لیا ۔۔ عالمگیر حمایت یا ہمدردی international sympathy حاصل کرنے کے لیے برطانیہ مسلہ فلسطین کو 2 اگست 1947 ء کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردیا ۔۔ مجلس اقوامِ متحدہ نے کثرتِ رائے سے تقسیم فلسطین کی سفارش کی اور یوں فلسطینی علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنا منظور ہوا ۔۔
4500 مربع میل کا علاقہ عربوں کے لیے ۔
5338 مربع میل کا علاقہ یہودیوں کے لیے ۔۔
جبکہ یروشلم بین الاقوامی علاقہ اور حیفہ کی بندرگاہ اور اردگرد کے علاقے برطانوی تحویل میں دیئے گئے ۔۔
راتوں رات فلسطین کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا ڈیوڈ بن گوریان کو اسرائیل کا پہلا صدر تسلیم کیا گیا اور دوسرے رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو بلا تامل منظور کرلیا ۔ جبکہ عرب دنیا کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ۔ جس روز اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا اسی روز عرب ممالک کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کر دیا ۔ مصر ، شام لبنان عراق اور مشرقی اردن نے فلسطینی اپنی اپنی فوج اتار دیں ۔۔ عرب اور یہودی فوجوں کے مابین تقریبا چھ ماہ دسمبر 1947 ء سے مئی 1948 ء تک جنگ جاری رہی ۔۔
اس جنگ میں عرب افواج اسرائیل کو ختم تو نہ کرسکیں لیکن جنگ کے نتیجے میں اسرائیل یروشلم پر اپنا قبضہ قائم نہ رکھ سکا ۔۔ نیز اس جنگ کے نتیجے میں اردن نے مغربی کنارے پر مصر نے غزہ پر قبضہ کرلیا۔ اپریل 1949ء کو اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی عمل میں آئی ۔۔ اگلے ہی مہینے یعنی 13 مئی 1949ء کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بن گیا ۔۔ گویا اقوام متحدہ نے جس غیر قانونی قرارداد کے ذریعے اسرائیل کو ریاست کا درجہ دیا تھا اس پر مہر ثبت کردی گئی ۔۔
اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل فلسطین کے 27000 مربع کلومیٹر علاقے تقریباً بیس ہزار قبضے میں آچکا تھا اور دس لاکھ سے زائد فلسطینی اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔
عربوں نے اپنی جائیدادیں یہودیوں کو بیچ دی تھی یہ سب یہودیوں کا پروپیگنڈہ ہے بلکہ وہ تو اس زمین کو اپنے آبا و اجداد کی زمین سمجھ کر یہاں سے عربوں کو نکالنے کا منصوبہ پہلے ہی بنا چکے تھے ۔۔
محمد رفیق مینگل ۔۔






No comments:
Post a Comment