find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kya Namo ka Asar Sehat aur Shakhsiyat (Personality) par padta hai, Baccho ko Sham ke waqt ghar me kyu rakhna chahiye?

Kya Namo ka asar Shakhsiyat par padta hai?

Kaise kaise Nam Allah ko bilkul pasand nahi.
Baccho ko Sham ke waqt ghar se bahar kyu nahi nikalna chahiye?

Sardar Abbas Sajid

Assalam o alaikum!
Mera ik 4 sal ka beta hy us ko aksar koi na koi masla ho jata hy kabi bemar ho jata hy aur ziada tar gir jata hy jis ki wja sy us ko kafi zakham b aa jaty han. Mjy kafi logon ny us ka name change karny ka mshwara dia hy ta k wo theak rahy. Mehrbani farma kr rehnumai farma dain k mera ye amal Quran o sunnat ki roshni main sahe ho ga k nai.
Jazak Allah. 

۔┄┅═════════════┅┄

بِسْـــــــــــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَعَلَيــْـــكُم السَّــــــلاَم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه

✍ تحریر: مسزانصاری

بچے کے نام رکھنے سے متعلق کچھ غلط العوام باتیں دیکھنے میں آتی ہیں ، جیسے بچہ کی صحت و عادات پر عدم اطمینان والدین کو اس کا نام تبدیل کرنے پر رغبت دلاتا ہے ، نیز لوگ ناموں کے معنی کو شخصیت پر اثر انداز سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ نام بچے کو بلندی اور شہرت دیں گے ، اسی طرح کسی بچے کی موت پر اگلے بچے کا نام فوت شدہ بچے کے نام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ زندہ بچہ موت کے منہ میں جا سکتا ہے ۔

ان خیالات کے پیش نظر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اچھے نام بلا شبہ قیمتی جوہر ہیں ، نیز نام تبدیل کرکے اچھا نام رکھنا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ، تاہم اس کا شخصیت و کردار پر اثر انداز ہونا کوئی یقینی اور حتمی بات نہیں ہے ۔ نام کا اثر بچے کی شخصیت پر ہونا اللہ کی قدرت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتا ۔

نام کے بارے میں نبوی ﷺ حکم صرف اتنا ہے کہ نام اگر برا ہو تو اسے بدل دینا چاہئے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کا طریقہ یہ تھا کہ) برے نام کو بدل دیا کرتے تھے۔
(ترمذی، الادب، ما جاء فی تغییر الاسمائح، 2839)

سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:

"إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسماءكم"(ابو داود:)

تمہیں قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپوں کے ناموں سے پکارا جائے گا، لہذا تم اپنے نام اچھے اچھے رکھا کرو۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نام بدلنے کی وجہ انسان کی صحت و عافیت یا معاشرے میں اسکے رتبے اور بزرگی سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ نام بدلنے کی وجہ انکا غیر شرعئی ہونا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

(تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ ، وَأَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ ، وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ)

"تم انبیاء کے ناموں جیسے نام رکھو۔ اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔ سب سے سچے نام حارث (محنت کار/کاشت کار) اور ہمام (سردار) ہیں۔ اور بدترین نام حرب (جنگ/لڑائی) اور مرہ (سختی/کڑواہٹ) ہیں۔"

(ابوداؤد، الادب، فی تغییر الاسماء، ح: 4990، اس میں عقیل بن شبیب مجہول راوی ہے تاہم یہ حدیث معنی کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے کیونکہ دوسری حدیث میں ہے: (ان احب اسماءكم الى الله عبدالله و عبدالرحمٰن) (مسلم، الادب، النھی عن الکتنی بابی القاسم ۔۔ح: 2132)

کچھ ناموں سے بچنا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، ان ناموں سے مراد ایسے نام ہیں جن میں عقائد بد اور غیر شرعئی نظریات شامل ہوں جو عقیدہ خالص کو مجروح کر رہے ہوں جیسے ، نبی بخش ، عبدالنبی اور عبدالرسول وغیرہ ۔ اور ایسے ناموں سے بھی بچنا چاہیے جو فخر و غرور اور بڑائی کا اظہار کرتے ہیں ، جیسے ملک الاملاک یا شہنشاہ وغیرہ ، یہ نام بدترین ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں.

لہٰذا اے سائل بھائی ، بیماریاں ناموں کی وجہ سے نہیں آتیں ۔ ناموں کا اثر انسان کے مزاج اور صحت و عافیت پر نہیں ہوتا بلکہ نا پسندیدہ حالات سے دوچار ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے ، لوگوں کا ناموں کو بیماریوں کا مئوجب ٹہیرانا نہایت بد عقیدگی ہے ، شاید انسان جب نام پر گمان لگا دیتا ہے تو اللہ بھی اسے آزمائش کی خاطر اس طرف ہی لگا دیتا ہے ، اس لیے ایسے خیالات سے بچیے ،  نام بدلنا بچے کے امراض کا حل نہیں ہے ، بہترین بات یہ ہے کہ آپ بچے پر مسنون اذکار کا دم کرتے رہیے ، بچے معصوم ہوتے ہیں اور جلد شیطان کے شکنجے میں آجاتے ہیں ، یہ ہم والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جب تک بچہ مکلف نہیں ہوجاتا اور سن بلوغت کو نہیں پہنچ جاتا اس کے بارے میں احتیاط لازم رکھیں ، جیسے مغرب کے وقت بچے کو باہر نکلنے سے روکیے ، مغرب کے وقت شیاطین زمین پر پھیل جاتے ہیں اور گھروں سے باہر آوارہ پھرنے والے بچوں کو طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا کر دیتے ہیں ، صبح شام اذکار مسنونہ بچے پر پڑھیے ، گھر میں ہر روز یا ہر تین روز سے سورہ البقرہ کی تلاوت کیجیے ، بچہ اگر بول سکتا ہے تو اسے مختصر اذکار سکھا دیجیے ، جیسے کھانے سے پہلے بسم اللہ سونے سے پہلے دعا وغیرہ ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے بچے پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے ، اللہ تعالیٰ آپکے بچے کو تمام شیاطین جن و انس کے شرور سے محفوظ فرمائے ، اللہ تعالیٰ آپکے بچے کو تمام روحانی اور جسمانی بیماریوں سے دائمی شفاء عطا فرمائے ۔

اللهم آمين آمين يارب انت الحي الذي لا يموت أبداً
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّـــــلاَم عَلَيــْــــكُم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ
وَبَرَكـَـــــــــاتُه

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS