Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Rishabh Ojha: The hate Speech Against Indian Muslim.

“तेज़ाब फेंको और तड़प का मज़ा लो” — नफरती सोच का खतरनाक चेहरा

भारत में सांप्रदायिक हिंसा और नफरती भाषण अब केवल शब्दों तक सीमित नहीं रह गए हैं। सोशल मीडिया पर फैल रही कट्टर मानसिकता ने इंसानियत की जड़ों को हिलाकर रख दिया है। यह लेख उसी सोच के ख़तरनाक परिणामों को सामने लाता है।

नफरत कैसे हिंसा में बदलती है?

जब किसी समुदाय को लगातार निशाना बनाया जाता है, उसे दुश्मन की तरह पेश किया जाता है, तो धीरे-धीरे हिंसा को जायज़ ठहराने की कोशिश की जाती है। ऑनलाइन नफरत लोगों को मानसिक रूप से इस हद तक तैयार कर देती है कि वे असली दुनिया में अपराध करने से भी नहीं हिचकते।

सोशल मीडिया और ज़हरीला प्रचार

आज हेट क्राइम इंडिया का बड़ा हिस्सा डिजिटल प्लेटफॉर्म से शुरू होता है। वीडियो, पोस्ट और भड़काऊ संदेश लाखों लोगों तक पहुँचते हैं और नफरत को “सामान्य” बना दिया जाता है।

इसके मुख्य प्रभाव

  • अल्पसंख्यक समुदायों में डर का माहौल
  • भीड़ हिंसा और मॉब लिंचिंग में बढ़ोतरी
  • कानून व्यवस्था पर लोगों का भरोसा कम होना
  • हिंसा को सामाजिक स्वीकृति मिलना

कानून की भूमिका और चुप्पी

किसी भी लोकतंत्र में कानून की निष्पक्षता सबसे ज़रूरी होती है। लेकिन जब नफरती उकसावे पर समय रहते कार्रवाई नहीं होती, तो यह संदेश जाता है कि ऐसे अपराधों को मौन सहमति मिली हुई है।

समाज पर पड़ता गहरा असर

इस तरह की सोच केवल एक समुदाय को नहीं, पूरे समाज को नुकसान पहुँचाती है। मुस्लिम उत्पीड़न भारत हो या अन्य अल्पसंख्यकों पर हमले — हर घटना सामाजिक ताने-बाने को और कमज़ोर करती है।

संक्षिप्त विश्लेषण

पहलू स्थिति
नफरती भाषण तेज़ी से बढ़ता हुआ
ऑनलाइन उकसावा मुख्य कारण
सामाजिक असर डर और विभाजन

समाधान की दिशा

इस समस्या का समाधान केवल कानून से नहीं, बल्कि सामाजिक ज़िम्मेदारी से आएगा। नफरत के ख़िलाफ़ आवाज़ उठाना, तथ्यों पर बात करना और इंसानियत को प्राथमिकता देना आज की सबसे बड़ी ज़रूरत है।

निष्कर्ष

नफरत चाहे किसी भी रूप में हो, वह अंततः समाज को ही जला देती है। अगर समय रहते इस सोच को नहीं रोका गया, तो आने वाली पीढ़ियाँ एक ज़्यादा असहिष्णु और हिंसक दुनिया देखेंगी। इंसानियत ही असली जवाब है।

Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 31.

Murtad Qaidiyo Ko Hazrat Abu bakr Razi Allahu Anahu Ki Ma'afi.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-31
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim web, Islamic warriors, Islamic rulers,
Islamic History.
  تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (31)
مرتد قیدیوں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معافی:

حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں پر سختی نہ کی جو میدان جنگ سے پابجولاں مدینہ پہنچے تھے، عینیہ بن حصن مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا اور طلیحہ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں سے جنگ کر چکا تھا، وہ قرہ بن ہبیرہ کے ساتھ قید ہو کر مدینہ آیا اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، مدینہ کے لڑکے اسے کھجور کی شاخوں سے مارتے اور کہتے تھے:

" اے اللہ کے دشمن! تو ہی ایمان لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا؟"
عینیہ جواب دیتا: "میں تو کبھی اللہ پر ایمان نہیں لایا۔"
لیکن اس کے باوجود حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی جاں بخشی کر دی اور اسے کچھ نہ کہا، بعض روایتوں کے مطابق اس نے نہایت گستاخی کا اظہار کیا جس کی بنیاد پر قتل کردیاگیا۔

  قرہ بن ہبیرہ:
قرہ بن ہبیرہ بنو عامر سے تعلق رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمرو بن عاص عمان سے مدینہ آتے ہوئے راستے میں اس کے پاس ٹھہرے تھے، اس وقت بنو عامر ارتداد کے لیے پر تول رہے تھے، جب عمروؓ بن عاص نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو قرہ نے علیحدہ میں ان سے مل کر کہا:

" عرب تمہیں تاوان (زکوٰۃ) دینے پر ہرگز راضی نہ ہوں گے، اگر تم ان کے اموال انہیں کے پاس رہنے دو اور ان پر زکوٰۃ عائد نہ کرو تو وہ تمہاری باتیں ماننے اور اطاعت قبول کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے، لیکن اگر تم نے انکار کیا تو پھر وہ ضرور تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔"

یہ سن کر عمرو بن عاص نے جواب دیا: اے قرہ! کیا تو کافر ہو گیا ہے اور ہمیں عربوں کا خوف دلاتا ہے؟ جب قرہ اسیر ہو کر مدینہ آیا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اس نے کہا:

" اے خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو مسلمان ہوں اور میرے اسلام پر عمرو بن عاص گواہ ہیں، وہ مدینہ آتے ہوئے ہمارے قبیلے میں سے گزرے تھے، میں نے انہیں اپنے پاس ٹھہرایا تھا اور بڑی خاطر تواضع کی تھی۔"

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عمروؓ بن عاص کو بلایا اور ان سے قرہ کی باتوں کی تصدیق چاہی، عمرو بن عاص نے سارا واقعہ بیان کرنا شروع کیا، جب وہ زکوٰۃ کی بات پر پہنچے تو قرہ کہنے لگا: عمروؓ بن عاص اس بات کو جانے دو۔ عمروؓ بن عاص نے کہا: کیوں؟ واللہ! میں تو سارا حال بیان کروں گا۔ جب وہ بات ختم کر چکے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مسکرائے اور قرہ کی جان بخشی کر دی۔

  علقمہ بن علاثہ:
عفو و در گزر کی یہ پالیسی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے کمزوری کی آئینہ دار نہ تھی، بلکہ اس سے صرف وہ جوش و خروش اس انداز سے سرد کرنا مقصود تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، لیکن جہاں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تک پہنچتا، وہاں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کسی قسم کی نرمی ہرگز گوارا نہ کر سکتے تھے، اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چند مثالیں کافی ہوں گی۔

بنی کلب کے ایک شخص علقمہ بن علاثہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا، لیکن آپ کی زندگی ہی میں مرتد ہو گیا اور شام چلا گیا، آپ کی وفات کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خبر پا کر قعقاع بن عمرو کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن مقابلے کی نوبت آنے سے پیشتر ہی عقلمہ فرار ہو گیا، اس کی بیوی، بیٹیاں اور دوسرے ساتھی اسلام لے آئے اور اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، بعد میں علقمہ بھی تائب ہو کر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے اس کی توبہ قبول کر لی اور جان بخشی کر دی، کیونکہ اس نے نہ مسلمانوں سے جنگ کی تھی اور نہ کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔

   فجاۂ ایاس:
لیکن اس کے مقابل انہوں نے فجاۂ ایاس بن عبد یا لیل کے عذرات قبول نہ کیے اور نہ اس کی جان بخشی ہی کی، یہ شخص حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی کہ آپ مجھے کچھ ہتھیار دیجئے، میں جس مرتد قبیلے سے آپ چاہیں گے لڑنے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے اسے ہتھیار دے کر ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا، لیکن فجاۂ نے وہ ہتھیار قبیلہ سلیم، عامر اور ہوازن کے مسلمانوں اور مرتدین دونوں کے خلاف استعمال کیے اور کئی مسلمانوں کو قتل کردیا، اس پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے طریفہ بن حاجز کو ایک دستے کے ہمراہ فجاۂ کی جانب بھیجا، لڑائی میں فجاۂ گرفتار ہوا اور طریفہ اسے اپنے ہمراہ مدینہ لے آئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے جلا دینے کا حکم دیا، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر فجاۂ مسلمانوں کو قتل نہ کرتا تو اسے اتنی ہولناک سزا نہ دی جاتی جس پر بعد میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو افسوس بھی ہوا۔ 
ابو شجرہ: اسی ضمن میں ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ کا واقعہ بیان کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ واقعہ عینیہ، قرہ اور علقمہ کے واقعات سے بڑی حد تک مشابہت رکھتا ہے، ابو شجرہ، مشہور شاعرہ خنسا کا بیٹا تھا جس نے اپنے بھائی صخر کی یاد میں بڑے دل دوز مرثیے کہے ہیں، ابو شجرہ اپنی والدہ کی طرح شاعر تھا، وہ مرتدین سے مل گیا اور ایسے شعر کہنے لگا جن میں اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا تھا اور ان سے لڑنے کی ترغیب دی جاتی تھی، چنانچہ منجملہ اور اشعار کے اس کا ایک شعر یہ بھی تھا:

فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا

''میں نے اپنا نیزہ خالدؓ کے لشکر کے خون سے سیراب کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی میں اسی طرح کرتا رہوں گا۔''

لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے خلاف ترغیب و تحریض بار آور ثابت نہیں ہوئی اور لوگ برابر اسلام قبول کررہے ہیں تو وہ بھی اسلام لے آیا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی بھی جان بخشی کر دی اور اسے معاف کر دیا۔

حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک دفعہ ابو شجرہ ان کے پاس آیا، وہ اس وقت زکوٰۃ کا مال غرباء میں تقسیم کر رہے تھے، ابو شجرہ نے کہا: امیر المومنین! مجھے بھی کچھ دیجئے کیونکہ میں حاجت مند ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: تو کون ہے؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ ابو شجرہ ہے تو فرمایا:
اے اللہ کے دشمن! کیا تو وہی نہیں جس نے کہا تھا:

فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا

اس کے بعد انہوں نے اسے درے مارنے کا حکم دیا، مگر وہ بھاگ کر اونٹنی پر سوار ہو کر اپنی قوم بنو سلیم میں آ گیا۔
======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 30.

Dusre Muratad Qabayel Se Istashaal.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-30.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Islamic history, Muslim web, Seerat-E-Sahaba, Sahaba Story,
Islamic History.
    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (30)
      دوسرے مرتد قبائل کا استیصال:

حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے چشمہ بزاخہ پر کامل ایک مہینہ قیام فرمایا، اس دوران میں وہ ان بقیہ قبائل کی سرکوبی میں مصروف رہے جو ابھی تک ارتداد اور سرکشی پر قائم تھے اور ام زمل سے مل کر مسلمانوں کے مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے، انہوں نے ایسے لوگوں کو چن چن کر قتل کرا دیا جن کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ تھے اور مرتدین کے متعدد سر بر آوردہ اشخاص کو جو اسلامی فوجوں کے مقابلے کو نکلے تھے، گرفتار کر کے مدینہ بھجوا دیا، ان لوگوں میں سے مشہور شخص یہ تھے: قرہ بن ہبیرہ، فجائۃ السلمی، ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ السلمی وغیرہ۔ یہ لوگ اس وقت تک حالت اسیری میں رہے جب تک حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فیصلہ نہ سنا دیا۔

  بقیہ مرتد قبائل:
ام زمل اور طلیحہ کے لشکر کے مفرورین کا حال بیان کرنے سے قبل اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان لوگوں کا کیا بنا جو طلیحہ کی قوم، بنی اسد کی طرح دوبارہ اسلام میں داخل نہ ہوئے؟ کیا ان کی عقل یہ تقاضا نہ کرتی تھی کہ جب طلیحہ کا کذب ان پر ظاہر ہو گیا تھا تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آتے؟
 بات یہ ہے کہ اگرچہ سارے عرب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجبوراً سر تسلیم خم کرنا پڑا، لیکن در حقیقت وہ لوگ صدق دل سے آپ پر ایمان نہ لائے تھے، ان میں بہت سے لوگوں کو بتوں کی عبادت فضول معلوم ہوئی تو وہ ان کی پرستش چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرنے لگے، لیکن اس عبادت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جو دوسرے فرائض عائد کر دئیے وہ ان کے لیے بڑے تکلیف دہ تھے اور ان کی آزاد طبائع ان فرائض کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھیں، اسی لیے انہوں نے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا، جب حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ زمانہ آیا تو ان لوگوں نے ادائے زکوٰۃ سے انکار کر دیا، کیونکہ مال کی محبت ان کے دلوں میں ہر چیز سے زیادہ رچی ہوئی تھی، اسی طرح وہ نماز اور دوسرے فرائض اسلام سے بھی نجات حاصل کرنا چاہتے تھے، طلیحہ، مسیلمہ اور دوسرے مدعیان نبوت کی پیروی انہوں نے اسی لیے اختیار کی تھی کہ اپنی گردنوں سے وہ طوق اتار کر پھینک سکیں جو فرائض اور ارکان اسلام کی شکل میں ان کی گردنوں میں ڈال دیا گیا تھا، چنانچہ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد بھی وہ اپنے آپ کو اسلامی حکومت کی اطاعت کرنے پر آمادہ نہ کر سکے اور دوسری جگہ جا کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے دوبارہ جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی، کیونکہ ان کا خیال تھا وہ بالآخر ضرور فتح یاب ہوں گے اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو مجبور کر سکیں گے کہ فرائض اسلام کی بجا آوری میں ان پر اتنی سختی نہ کریں جتنی وہ اب کر رہے ہیں۔

لڑائی کے لیے دوبارہ تیار ہو جانے کا ایک سبب اور بھی تھا اور اس کا تعلق بدوؤں کی نفسیات سے ہے، ان قبائل اور مہاجرین و انصار کے درمیان پرانے جھگڑے چلے آ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ پا لیا تو انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ کے احکام کی بجا آوری پر بظاہر رضا مند ہو گئے، لیکن یہ سب کچھ انہوں نے بحالت مجبوری، اپنی مرضی کے خلاف محض اس لیے کیا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکے تھے، جونہی انہیں کچھ مہلت اور آزادی ملی وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک لمحہ بھی سوچ بچار میں ضائع نہ کیا، انہیں جنگ خندق کا واقعہ یاد تھا جب قریب تھا کہ مدینہ اپنے دروازے کفار کے لیے کھول دیتا، اگر ایک سخت آندھی کافروں کے تمام منصوبے تہ و بالا کر کے نہ رکھ دیتی۔

بظاہر مسلمان ہونے کے بعد یہ لوگ چپکے ہو رہے اور دیکھتے رہے کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، پھر کیا تھا یہ لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے سارے ملک میں فساد برپا کر دیا، جب تک اسلامی فوجیں ان کی سرکوبی کے لیے پہنچیں انہوں نے اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر اپنی جمعیت کو مضبوط تر کر لیا، ان کا خیال تھاکہ قسمت ضرور ان کا ساتھ دے گی اور وہ دوبارہ اس آزادی و خود مختاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محروم ہو چکے تھے، اگر تمام قبائل اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہتے تو یقینا حضرت خالدؓ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ آسانی سے مرتدین پر فتح نہ پا سکتے، لیکن عدی بن حاتم کی کوششوں سے قبیلہ طئی کی دونوں شاخیں طلیحہ سے الگ ہو کر مسلمانوں سے مل گئیں، یہ دیکھ کر طلیحہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، یہی گھبراہٹ اور پریشانی اس کی شکست اور فرار کا موجب بنی۔ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد عینیہ بھی اپنے قبیلے میں جا کر بیٹھ رہا، اس دوران میں بنو عامر جو طلیحہ کے طرف داروں میں سے تھے اور بزاخہ سے کچھ فاصلے پر آباد تھے، اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں کس فریق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے؟ 

جب حضرت خالدؓ نے بنو اسد اور قیس کو شکست فاش دے دی تو بنو عامر نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اب ان کے لیے مسلمان ہو جانا ہی بہتر رہے گا، چنانچہ وہ بھی اسد، غطفان اور طئی کی طرح حضرت خالدؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔

 قا تلوں پر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کی سختی:

حضرت خالدؓ نے غطفان، ہوازن، سلیم اور طئی کے لوگوں کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ ان کو ان کے حوالے کر دیں، جنہوں نے ان غریب مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو بزمانہ ارتداد ان کے چنگل میں پھنس گئے تھے، چنانچہ جب یہ لوگ ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے ان کے سرداروں کے سوا باقی سب کو قتل کر دیا، اس کے بعد قرہ بن ہبیرہ، عینیہ بن حصن اور دوسرے سرداروں کو بیڑیاں پہنا کر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی حسب ذیل مضمون کا ایک خط بھی ارسال کیا:

"بنو عامر ارتداد کے بعد اسلام لے آئے، لیکن میں نے ان کی جان بخشی اس وقت تک نہ کی جب تک انہوں نے ان لوگوں کو میرے حوالے نہ کر دیا جنہوں نے غریب و بے کس مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھائے تھے، میں نے ایسے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے، اس خط کے ساتھ قرہ بن ہبیرہ اور اس کے ساتھیوں کو روانہ کر رہا ہوں۔"

 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روش پر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشنودی:

حضرت خالدؓ نے جن لوگوں کو قتلِ مسلماناں کی پاداش میں تلوار کے گھاٹ اتار دیا تھا، ان کی طرف سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں قطعاً رحم پیدا نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان دشمنان اسلام اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا کا قرار واقعی مستحق سمجھا اور حضرت خالدؓ کو جواب میں لکھا:

"اللہ تمہیں اپنے انعام سے بہرہ ور کرتا رہے، میری یہ نصیحت ہے کہ تم اپنے معاملات میں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہمیشہ تقویٰ کی راہ پر چلو، کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے اور اس کے بندوں پر احسان کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر کام کرو اور کبھی سستی نہ برتو، ہر شخص کو جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو، قابو پانے کے بعد قتل کر دو، دوسرے لوگوں کے متعلق بھی جنہوں نے اللہ سے دشمنی اور سرکشی اختیار کر کے اس کے احکام کی خلاف ورزی کی، اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ ان کا قتل کر دینا مناسب ہے تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیا رہے۔"

حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خط حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مرتدین کو مرعوب کرنے کی پالیسی پر اور زور شور سے عمل شروع کر دیا، چنانچہ ایک مہینے تک وہ بزاخہ کے چشمے پر مقیم رہ کر مرتدین کا قافیہ تنگ کرتے رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

DOES GOD EXIST: Mufti Saheb Ke Khilaf Liberal brigade Ka War.

Javed Akhtar Shocks Stage — Liberal Brigade Left Speechless.

Mufti Shamail vs Javed Akhtar: Liberals Exposed, Restless & Rattled.
Does God Exist: Mufti Saheb vs Liberal Brigade Debate.
देसी लिबरलिज्म का मकड़जाल: एनजीओ का फंड, बॉलीवुड का नैरेटिव और इल्मी खोखलापन!
शोले के डायलॉग और मंतिक के पैमाने: जब ‘लिबेरल्स ढोंग' स्टेज पर किरची-किरची हुआ!
देसी इल्हाद की इल्मी हकीकत: जावेद अख्तर बनाम मुफ्ती शमाइल.
The high‑voltage debate between Mufti Shamail Nadwi and Javed Akhtar has left the liberal brigade visibly restless and rattled. Their discomfort was evident as the Mufti’s sharp arguments dismantled Akhtar’s points, exposing the fragile narrative of liberal circles. Social media amplified this moment, showing how liberals were unmasked and forced into defensive reactions. The clash has become a viral symbol of liberal unease, sparking heated discussions across platforms.
#JavedAkhtar #MuftiShamail #LiberalsExposed #DebateViral #IdeologicalClash #TrendingIndia #GodDebate
Mufti Shamail Nadwi vs Javed Akhtar, God existence debate India, liberal brigade reaction, Javed Akhtar debate,
जावेद अखतर ने स्टेज पर लिबरल्स कि नाक कटवा दी.
इनका लिबरलिज्म सिर्फ 'मजहब दुश्मनी' तक महदूद है। जहां बात अपने फायदे की आएगी, वहां ये सांप बनकर बिलों में छुप जाएंगे,और जहां कमजोर का शिकार करना होगा, वहां जहर उगलेंगे। लेकिन इस बार मुकालमे की मेज पर इनके तर्क नहीं, बल्कि इनका गुरूर टूटा है।

हमने बचपन से, और खास तौर पर जब से सोशल मीडिया ने होश संभाला है, एक ही रट सुनी है, एक ही कवायेद दोहराई गई है और एक ही ”इल्मी तकब्बुर“ का सामना किया है कि: 
मजहब तो वो मानता है जिसने किताबें न पढ़ी हों, जिसने साइंस न जानी हो, जो कुएं का मेंढक हो। हम तो मुलहिद (नास्तिक) इसलिए हुए हैं क्योंकि हमने लाइब्रेरियां छान मारी हैं, हमने कायनात के राज पा लिए हैं, और अब हम इस नतीजे पर पहुंचे हैं कि खुदा का वजूद नहीं। “ 

यह जुमला हमारे देसी मुलहिदीन का ”कलमा“ और उनका सबसे बड़ा ”ब्रांड स्लोगन“ है। हमें यह यकीन दिलाया गया कि इल्हाद (Atheism) दरअसल ”इंटेलेक्चुअल एलीट“ का क्लब है जहां सिर्फ वो दाखिल हो सकता है जिसकी अक्ल आसमान को छू रही हो।

साइंसी नावाकफियत का एतराफ और इल्हाद का खोखलापन.

लेकिन फिर, हिंदुस्तान के एक स्टेज पर एक वाकिया हुआ, और इस ”इल्मी दबदबे“ का गुब्बारा इतनी जोर से फटा कि इसकी आवाज दूर-दूर तक सुनी गई। 
जनाब जावेद अख्तर साहब, जो बर-ए-सगीर में इल्हाद और रोशन-ख्याली के ”गॉडफादर“ समझे जाते हैं, तशरीफ लाए। तवक्को तो ये थी कि जब ये ”दानिश का पहाड़“ बोलेगा तो इल्म के दरिया बहेंगे, क्वांटम फिजिक्स के हवाले दिए जाएंगे, और मंतिक (Logic) के ऐसे पेचीदा असूल बयान होंगे कि सामने बैठा मौलवी पसीने से शराबोर हो जाएगा। लेकिन हुआ क्या? 
गुफ्तगू के आगाज में ही जावेद साहब ने बड़े मासूमियाना अंदाज में अपनी ”साइंसी नाख्वांदगी“ का एतराफ नामा पेश कर दिया।

उन्होंने फरमाया कि वो साइंस से नाबलद हैं। 
यह जुमला बजाहिर तो आजिजी लगता है, लेकिन दर-हकीकत यह उस पूरे कवायेद की ”खुदकुशी“ थी जो इल्हाद ने साइंस की बुनियाद पर खड़ा कर रखा है। 
अगर आप साइंस नहीं जानते, कायनात के कवानीन (Fine Tuning) नहीं समझते, डीएनए की पेचीदगी से वाकिफ नहीं, तो फिर आपने खुदा का इंकार किस बुनियाद पर किया? 
क्या सिर्फ इस बुनियाद पर कि ”मुझे दुनिया में दुख और तकलीफ नजर आती है?“ यह तो जज्बातियत है, इल्म नहीं।
 अक़ल का जनाजा और फिल्मी शोहरत.
असल ”ट्रेजेडी कॉमेडी“ तो तब शुरू हुई जब मंतिक (Logic) के मैदान में बात आई। मुफ्ती शमाइल ने जब खालिस मंतकी दलायल पेश किए, तो जावेद साहब का रद्दे-अमल ऐसा था जैसे कोई शायर किसी रियाजी (Maths) के पर्चे को देख रहा हो।

  मंतिक का बुनियादी असूल है: ”अगर अलिफ, बे है, और बे, जीम है, तो अलिफ, जीम है“ (Syllogism)। लेकिन जावेद साहब हर मंतकी दलील का जवाब एक ”फिल्मि मुकालमे“, एक ”शायराना महफिल“ या एक ”अवामी मिसाल“ से देने की कोशिश करते रहे। वो यह भूल गए कि मुकालमा ”मुशायरा“ नहीं होता जहां ”वाह-वाह“ से बात बन जाए, और न ही यह फिल्म का ”स्क्रीनप्ले“ है जहां आप विलेन/हिरो को अपनी मर्जी का डायलॉग बोलने पर मजबूर कर सकें। वह कोइ रेख्ता कि महफिल नहि है जहाँ चाहने वाले हि होंगे और बिना किसि ना इत्तेफाक़ि के तलिया बजायेंगे.
जमालियाती इल्हाद: शोले का क्लाइमेक्स या कायनाती हकीकत?
जावेद साहब की इस परफॉर्मेंस ने एक बहुत बड़े राज से पर्दा उठा दिया है। वो राज ये है कि हमारे खित्ते का ”देसी इल्हाद“ दरअसल रसल या डॉकिन्स के दलायल पर खड़ा नहीं है, बल्कि यह ”गालिब, मनटो, अस्मत चुग्ताइ“ और ”फैज“ की शायरी व ”बॉलीवुड, बाहरि इंफ्लुएंस“ की रोमानियत पर खड़ा है।

   यह ”इल्मी इल्हाद“ नहीं, यह ”जमालियाती इल्हाद“ (Aesthetic Atheism) है। इसमें ”दलील“ नहीं, सिर्फ ”अदाएं“ हैं। इन्हें खुदा से मसला नहीं, इन्हें ”मौलवी के हुलिए“ से मसला है। इन्हें कायनात की तखलीक के सवालात ने परेशान नहीं किया, बल्कि इन्हें ”मजहबी पाबंदियों“ ने तंग किया है।

इस मुकालमे ने साबित कर दिया कि ”किताबें पढ़ना“ और ”किताबें समझना“ दो अलग चीजें हैं। खुदा का इंकार या इकरार एक संजीदा तरीन कायनाती मसला है, यह ”शोले“ फिल्म का क्लाइमेक्स नहीं कि जहां आप जज्बाती डायलॉग बोलकर तालियां बजवा लें। जावेद साहब ने स्टेज पर जो किया, वो मंतिक का जनाजा था जिसे उन्होंने बड़े ”तमतराक“ से उठाया। 

सांपों की फितरत और बिलों से निकलता जहर: जब दलील का सामना हुआ तो 'दानिशवर' भीगी बिल्ली बन गए!

हमने अक्सर देखा है कि हमारे मुआशरे का 'कथित' लिबरल तबका बिल्कुल उन जहरीले सांपों की तरह है जो साल भर तो खामोशी से बिलों में दुबके रहते हैं, लेकिन जैसे ही मजहब की तौहीन या रिवायत पर हमले का मौका मिलता है, ये फुंकारते हुए बाहर निकल आते हैं। जावेद अख्तर और मुफ्ती शमाइल के दरमियान होने वाले मुकालमे ने यह साफ कर दिया कि इन 'सांपों' के पास जहर तो बहुत है, मगर इनकी रीढ़ की हड्डी बिल्कुल गायब है। यह वह तबका है जो खुद को 'इंटेलेक्चुअल' कहता है, मगर हकीकत में इनकी डोरियां कहीं और से हिलती हैं।

एनजीओ का चंदा और आयातित एजेंडा: मकड़ी के जाले जैसा कमजोर वजूद.
यह देसी लिबरल तबका अंदर से इतना ही खोखला और कमजोर है जितना मकड़ी का जाला। इनका इल्हाद और इनकी रोशन-ख्याली दरअसल बाहरी फंड्स, एनजीओ के अजेंडे और बॉलीवुड के उस मखसूस नैरेटिव पर खड़ी है जिसका मकसद सिर्फ और सिर्फ अपनी जड़ों से नफरत सिखाना है। 

इन्हें साइस या फलसफियाना गहराई से कोई लेना-देना नहीं, इनका कुल असासा (Asset) चंद अंग्रेजी इस्तलाहात और विदेशी अखबारों के कॉलम हैं। जब तक मंच इनके हक में सजा हो, ये शेर बनते हैं, लेकिन जैसे ही कोई मुफ्ती शमाइल जैसा शख्स खालिस मंतिक और दलील के साथ सामने आता है, तो इनका 'मुतालआ का बुत' ज़मिन पर बिखर जाता है।

मजहबी दुश्मनी या इल्मी बेचारगी?

जावेद साहब का स्टेज पर यह कहना कि "मैं साइंस से नाबलद हूं", दरअसल उस पूरी जमात का एतराफ-ए-शिकस्त था जो साइंस का नाम लेकर मजहब का मजाक उड़ाती है। इनकी मजहबी दुश्मनी किसी तहकीक का नतीजा नहीं, बल्कि एक खास किस्म की नफ्सियाती बीमारी है। इन्हें खुदा से उतनी तकलीफ नहीं जितनी मजहब की दी हुई अख्लाकी पाबंदियों से है। ये चाहते हैं कि मुआशरा इनकी मर्जी के मुताबिक चले, जहां कोई टोकने वाला न हो। इनका इल्हाद एक 'फैशनेबल नकाब' है जिसे पहनकर ये खुद को मॉडर्न और दूसरों को जाहिल साबित करने की नाकाम कोशिश करते हैं।

 पहचानिए इन 'आस्तीन के सांपों' को!

अब वक्त आ गया है कि इस 'देसी लिबरल' गिरोह की असलियत को बेनकाब किया जाए। ये लोग जो बॉलीवुड के गानों और रोमानवी शायरी के पीछे छुपकर मजहब की बुनियादों पर वार करते हैं, असल में इल्मी तौर पर दिवालिया हो चुके हैं।
   इनका काम सिर्फ जहर फैलाना और मुआशरे में अफरा-तफरी पैदा करना है। लेकिन याद रखिए, जिस कश्ती में ये सवार हैं, उसका पेंदा सुराखों से भरा है। ये बाहरी बैसाखियों के सहारे कब तक चलेंगे? 
जावेद अख्तर साहब ने तो स्टेज पर हाथ खड़े कर दिए, अब उन छोटे प्यादों की बारी है जो अपनी प्रोफाइल पर 'Atheist' लिखकर खुद को आसमान की मखलूक समझते हैं।

जावेद अखतर ने स्टेज पर लिबरल्स कि नाक कटवा दी,लिबरल-ब्रिगेड का वार.
सोशल मीडिया का सर्कस देखिए! जावेद साहब स्टेज पर "मैं साइंस नहि जानता" बोलकर अपनी 'इल्मी पैंट' उतार चुके, लेकिन लिबरल-मुल्हिद ब्रिगेड ने न अपने 'गॉडफादर' का मुँह काला किया,न लॉजिक की लाश पर मर्सिया पढ़ा। बस! मुफ्ती शमाइल साहब पर टूट पड़े है-

मुफ्ती साहब ने तो बस नाक में चेन डालकर घुमाया - "अगर A से B, B से C, तो A से C!" - और लिबरल्स की पूरी इमारत 'धड़ाम!' गिर गई। अब ये 'ट्रोल आर्मी' मीम्स उछाल रही: "मुफ्ती का चेहरा 😂", "शमाइल का स्टाइल 😡" उसका लहजा कट्टर था, वो इस्लामिक स्टेट का एजेंट है"। लिबरल-ब्रिगेड! अपनी बहस हार गए तो 'किरदार कुशि' करोगे?
जो 'इंटेलेक्चुअल एलीट' होने का ढोंग रचते थे, वो अब 'व्हाट्सएप फॉरवर्ड' वाले बन गए। मुफ्ती साहब ने नाको चने चबवा दी, चेन काट दी,और लिबरल्स को नंगा कर दिया। अब तो बस 'ब्लॉक-रिपोर्ट-म्यूट' का सहारा! हकीकत का आईना देख ले, 'शोले' का क्लाइमेक्स खत्म हो चुका! 😂

अब वक्त आ गया है कि हमारे वो दोस्त जो साइंस और फल्सफा का नाम लेकर मजहब का मजाक उड़ाते थे, अपना नज़रिया थोपने मे कोइ कसर नहि छोड्ते थे. वो जरा अपने गिरेबान में झांकें। आपके ”आइकॉन“ ने तो हाथ खड़े कर दिए,अब आप तय करें कि आप उनके कश्ती में सवार होना चाह्ते है या नहीं? आप कब तक उनके फैन बॉय बनेंगे?

ऐ अल्लाह! पूरी उम्मत-ए-मुसलिमा को सलामती,अमान और रहमत अता फरमा।  
  माँ,बहन और बेटी को पर्दे की हिफ़ाज़त,हया की पाकीज़गी और ईमान की रोशनी से नवाज़ दे। उनके दिलों को सच्चाई,उनके चेहरों को नूर और उनके अमल को नेक बना।  
या रब्ब! हमें गुनाहों से बचा, हमारी ज़िन्दगी को तौहीद और इबादत से रौशन कर दे। आमीन या रब्ब-उल-आलमीन।

Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 29.

Tarikh-E-Islam: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-29.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, seerat-e-sahaba, Islamic history, Muslim hero, Islamic web, Islamic caliphate,
Islamic History.
      تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (29)
   طلیحہ اسدی اور جنگ بزاخہ:

طلیحہ ایک کاہن تھا، پھر اسلام میں داخل ہوا، آخر زمانۂ حیات نبوی میں مرتد ہوکر خود مدعی نبوت بن بیٹھا، قبائل عبس، ذبیان، بنو بکر اور ان کے وہ مددگار جنہوں نے مدینہ پر چڑھائی میں حصہ لیا تھا، داغ ہزیمت دھونے کے لیے طلیحہ بن خویلد اسدی سے جا کر مل گئے تھے، مزید برآں طی، غطفان، سلیم اور وہ بدوی قبائل بھی جو مدینہ کے مشرق اور شمال مشرق میں آباد تھے طلیحہ کے حامی بن گئے تھے، یہ سب قبائل عینیہ بن حصن فزاری کی طرح کہتے تھے، حلیف قبائل (اسد اور غطفان) کا نبی ہمیں قریش کے نبی سے زیادہ محبوب ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، لیکن طلیحہ زندہ ہے۔

ان قبائل کو خوب معلوم تھا کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ ان پر ضرور حملہ کریں گے، لیکن انہوں نے مطلق پروا نہ کی اور برابر لڑائی کی تیاریوں میں مصروف رہے، طلیحہ کی متابعت انہوں نے اس ضد میں آ کر اختیار کی تھی کہ وہ اپنے اوپر مدینہ کی حکومت کیوں تسلیم کریں؟ اپنی آزادی ہاتھ سے کیوں جانے دیں اور زکوٰۃ جو ایک قسم کا تاوان ہے، کیوں ادا کریں؟ طلیحہ پہلے سمیراء میں مقیم تھا، وہاں سے بزاخہ آ گیا کیونکہ اس کے خیال میں لڑائی کے لیے بزاخہ نسبتاً زیادہ مناسب اور محفوظ جگہ تھی۔

    طلیحہ کا دعوائے نبوت:
طلیحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نبوت کا دعویٰ نہ کیا تھا، بلکہ وہ اسود عنسی اور مسیلمہ کی طرح آپ کی زندگی کے آخری دنوں ہی میں یہ دعویٰ کر چکا تھا، اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کے برعکس عربوں کو دوبارہ بت پرستی اختیار کرنے کی دعوت نہ دی، کیونکہ بت پرستی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب سے بالکل مٹا چکے تھے اور اب اس کے پنپنے کا کوئی امکان باقی نہ رہا تھا، توحید کی دعوت عرب کے کناروں تک پہنچ چکی تھی اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ بت پرستی ہذیان کی ایک قسم ہے جس سے ہر شریف انسان کو شرمانا چاہیے۔

مدعیانِ نبوت نے لوگوں میں یہ بات پھیلانی شروع کی کہ ان پر اسی طرح وحی نازل ہوتی ہے جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے اور ان کے پاس بھی اسی طرح آسمان سے فرشتہ آتا ہے جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، ان میں سے بعض نے آیات قرآنی کے مشابہ کچھ عبارتیں بنانے کی کوشش کی اور جیسی بری بھلی وہ بنیں انہیں لوگوں کے سامنے وحی آسمانی کے طور پر پیش کیا، لیکن ان عبارتوں پر سرسری نظر ڈالنے ہی سے ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور حیرت ہوتی ہے ان مدعیان نبوت کو کس طرح جرات ہوئی کہ انہوں نے ایسی بے سروپا باتوں کو وحی آسمانی کا نام دے کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور وہ لوگ بھی کس عجیب قسم کی ذہنیت کے مالک تھے، جنہوں نے اس نامعقول اور بے ہودہ بکواس کو وحی الٰہی سمجھ کر قبول کر لیا، ذیل میں نمونتاً اس وحی کا ایک ٹکڑا پیش کیا جاتا ہے جو طلیحہ پر اترا کرتی تھی۔

"والحمام والیمام، والصرد الصوام، قد صمن قبلکم باعرام لیبلغن ملکنا العراق والشام۔"

تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ زمانہ جاہلیت میں کاہن لوگ مسجع و مقفی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کر کے ان پر رعب بٹھاتے تھے، قریش بھی یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے اور جو کچھ اس پر اترتا ہے وہ اسی قسم کی مسجع و مقفی عبارتیں ہیں جو عموماً کاہن لوگ سنایا کرتے ہیں، لیکن بالآخر عربوں اور تمام انسانوں پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور جن و انس میں سے کسی کی طاقت نہیں کہ وہ اس کی نظیر پیش کر سکے، طلیحہ اور اسود عنسی وغیرہ بھی کاہن تھے اور دوسرے کاہنوں کی طرح انہوں نے بھی بعض مسجع و مقفی عبارتیں بنا کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردیا تھا، حالانکہ ان عبارتوں کو سننا بھی مذاق سلیم پر گراں گزرتا تھا اور کوئی باذوق ان عبارتوں کو برداشت نہ کر سکتا تھا، تعجب ہے کہ یہ خرافات سننے کے بعد لوگ کس طرح ان مدعیان نبوت کے پھندوں میں گرفتار ہو گئے اور ان عبارتوں کو کلام الٰہی یقین کرنے لگے۔

حضور ﷺ کے دور میں اس کی سرکوبی کے لئے حضرت ضرار بن الازورؓ روانہ ہوئے تھے، ابھی وہ اپناکام ختم نہ کرچکے تھے کہ وفاتِ نبوی کی خبر مشہور ہوئی، اور حضرت ضرار اس مہم کو نا تمام چھوڑ کر مع اپنے ہمراہیوں کے مدینہ کی طرف آئے، طلیحہ کو اس فرصت میں اپنی حالت درست کرنے اور جمعیت کے بڑھانے کا خوب موقع ملا، غطفان وہوازن وغیرہ کے قبائل جوذی القصہ وذی خشب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے شکست کھا کر بھاگے تھے، طلیحہ کے پاس پہنچے تھے اور اس کی جماعت میں شامل ہوگئے تھے، نجد کے مشہور چشمۂ بزاخہ پر طلیحہ نے اپنا کیمپ قائم کیا اور یہاں غطفان ہوازن، بنو عامر، بنو طے وغیرہ قبائل کا اجتماع عظیم اس کے گرد ہوگیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب گیارہ سردار منتخب فرما کر روانہ کرنا چاہے تو حضرت عدی بن حاتمؓ مدینہ منورہؓ میں موجود تھے،
وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی روانگی سے پہلے اپنے قبیلہ طے کی طرف روانہ ہوئے اور اُن کو سمجھا کر اسلام پر قائم کیا، اس قبیلہ کے جو لوگ طلیحہ کے لشکر میں شامل تھے، اُن کے پاس قبیلۂ طے کے آدمیوں کو بھیجا کہ حضرت خالدؓ کے حملہ سے پہلے اپنے قبیلہ کو وہاں سے بلوا لو، چنانچہ بنی طے کے سب آدمی طلیحہ کے لشکر سے جُدا ہوکر آگئے اور سب کے سب اسلام پر قائم ہوکر حضرت خالد بن ولیدؓ کے لشکر میں جو قریب پہنچ چکا تھا شامل ہوگئے، حضرت خالد بن ولید نے بزاخہ کے میدان میں پہنچ کر لشکر طلیحہ پر حملہ کیا، جنگ وپیکار اورعام حملہ کے شروع ہونے سے پیشتر لشکر اسلام کے دو بہادُر حضرت عکاشہ بن حصنؓ اور ثابت بن اقرمؓ انصاری دشمنوں کے ہاتھ سے شہید ہوگئے تھے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے ثابت بن قیسؓ کو اور بنی طے پر عدیؓ بن حاتم کو سردار مقرر کرکے حملہ کیا، طلیحہ کے لشکر کی سپہ سالاری اُس کا بھائی خیال کررہا تھا اور طلیحہ ایک چادر اوڑھے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے الگ ایک طرف وحی کے انتظار میں بیٹھا تھا، لڑائی خوب زور شور سے جاری ہوئی۔

جب مرتدین کے لشکر پر کچھ پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے تو طلیحہ کے لشکر کا ایک سردار عینیہ بن حصن طلیحہ کے پاس آیا اور کہا کہ کوئی وحی نازل ہوئی یا نہیں؟ طلیحہ نے کہا ابھی نہیں ہوئی پھر تھوڑی دیر کے بعد عینیہ نے دریافت کیا اور وہی جواب پایا، پھر میدان پہ جاکر لڑنے لگا، اب دم بدم مسلمان غالب ہوتے جارہے تھے اور مرتدین کے پاؤں اکھڑنے لگے تھے، عینیہ تیسری مرتبہ پھر طلیحہ کے پاس گیا اور وحی کی نسبت پوچھا تو اس نے کہا کہ ہاں جبرائیل میرے پاس آیاتھا، وہ کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے وہی ہوگا، جو تیری قسمت میں لکھاہے، عینیہ نے یہ سن کر کہا کہ لوگو! طلیحہ جھوٹا ہے، میں تو جاتا ہوں، یہ سنتے ہی مرتدین یک لخت بھاگ پڑے، بہت سے مقتول، بہت سے مفرور اور بہت گرفتار ہوئے، بہت سے اُسی وقت مسلمان ہوگئے، طلیحہ معہ اپنی بیوی کے گھوڑے پر سوار ہوکر وہاں سے بھاگا اور ملکِ شام کی طرف جاکر قبیلہ قضاعہ میں مقیم ہوا، جب رفتہ رفتہ تمام قبائل مسلمان ہوگئے اور خود اس کا قبیلہ بھی اسلام میں داخل ہوگیا تو طلیحہ بھی مسلمان ہوکر حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں مدینے آیا اور اُن کے ہاتھ پر بیعت کی۔

اُدھر مدینہ منورہ میں بنو سلیم کا ایک سردار الفجات بن عبد یالیل حضرت ابوبکرصدیقؓ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوں آپ آلات حرب سے میری مدد کریں میں مرتدین کا مقابلہ کروں گا، حضرت صدیق اکبرؓ نے اُس کو اور اس کے ہمراہیوں کو سامان حرب عطا کرکے مرتدین کے مقابلہ کو بھیجا، اس نے مدینہ سےنکل کر اپنے ارتداد کا اعلان کیا اور بنو سلیم، بنو ہوازن کے ان لوگوں پر جو مسلمان ہوگئے تھے شب خون مارنے کو بڑھا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس حال سے آگاہ ہوکر حضرت عبداللہ بن قیس کو روانہ کیا، انہوں نے ان دھوکہ باز مرتدین کو راستہ ہی میں جالیا، بعد مقابلہ و مقاتلہ الفجاۃ بن عبد یالیل گرفتار ہوکر حضرت صدیق اکبرؓ کے سامنے مدینہ میں حاضر کیا گیا اور مقتول ہوا۔
=====> جاری ہے ۔
Share:

DOES GOD EXIST: The Secret War Against Ulema.

 Does God Exist? When Propaganda Fails, Leaders Get Defamed—Know the Game.

When truth rises, propaganda smears the guide—see why?
The Hidden Playbook: Why Propaganda Targets Faith When It Loses.
Truth vs Propaganda: The Secret War Against Belief in God.
Propaganda lost. Faith attacked. Understand the game.
Propaganda vs God: Why Leaders Are Defamed When Truth Prevails.
Does God Exist? Exposing the Propaganda Game Against Faith & Leaders.
जब प्रोपेगेंडा हार जाए, तो रहबर को बदनाम किया जाता है—समझो खेल!
Propaganda lost, Does God exist?, Propaganda vs God, The Hidden Playbook,
उलमा फ़ितनापरस्त नज़रियात के लिए सबसे मज़बूत रुकावट हैं।
DOES GOD EXIST? क्यों अथीज़्म और लिबरलिज़्म उलेमा से खफ़ा रहते हैं, कैसे बदनामी की मुहिम चलती है, और मुसलमानों को किस तरह बेदार रहना चाहिए ताकि अपने दीनी रहबरों से जुड़कर गुमराही से महफ़ूज़ रह सकें।

इल्हाद के शोर में ईमान की ख़ामोश मेहनत.
आज के दौर में मुल्हिदीन से मुनाज़रा करना रद्द-ए-इल्हाद का एक जाना-माना और असरदार तरीक़ा है, और इसकी अहमियत से इनकार नहीं किया जा सकता। लेकिन यह समझ लेना कि इल्हाद के ख़िलाफ़ सारा काम सिर्फ़ मुनाज़रों तक महदूद है, हक़ीक़त से दूर है। रद्द-ए-इल्हाद असल में एक मुसलसल तरबियती अमल है, जो बहस से नहीं बल्कि बचपन में अकीदे की बुनियाद रखने से शुरू होता है।

वह मौलवी साहब जो किसी छोटे से मकतब में बच्चों को सादा सा जुमला पढ़ाते हैं—
रब का शुक्र अदा कर भाई, जिसने हमें पैदा किया
वह भी इल्हाद के ख़िलाफ़ ही काम कर रहे हैं। यहाँ न फ़लसफ़े की पेचीदगियाँ हैं, न दलीलों की नुमाइश, मगर ईमान की जड़ मज़बूत की जा रही है। यही जड़ आगे चल कर हर फ़िक्री हमले के सामने इंसान को क़ायम रखती है।

स्कूलों में हमें यह पढ़ाया जाता है कि इंसान किसी जानवर से तरक़्क़ी करके इस शक्ल तक पहुँचा है, मगर मकतब हमें यह याद दिलाता है कि हम बंदरों की नहीं बल्कि हज़रत आदम अलैहिस्सलाम की औलाद हैं। यह फ़र्क़ सिर्फ़ निसाब का नहीं, बल्कि सोच और पहचान का है। यही पहचान इंसान को उसके रब से जोड़ती है और यही इल्हाद के नज़रिये के ख़िलाफ़ सबसे मज़बूत जवाब है।

आज अगर जदीद वसाइल, सोशल मीडिया और बड़े-बड़े प्रोपेगेंडा के बावजूद इल्हाद मुसलमानों की बड़ी तादाद को गुमराह नहीं कर सका, तो इसके पीछे उन्हीं गुमनाम असातिज़ा (अलिम ए दीन) की मेहनत है। वे लोग जो शोहरत से दूर, क़र्या-क़र्या और मुहल्ला-मुहल्ला मकातिब और मदरसों में बच्चों को ईमान, इबादत और अख़लाक़ सिखा रहे हैं।

यही वजह है कि आज भी नई नस्ल तौहीद का कलिमा ज़बान पर लाती है। यह किसी एक तक़रीर करने वाले या मुनाजरे की मेहनत नहीं, बल्कि उन उलमा की ख़ामोश जद्द-ओ-जहद का नतीजा है जो दिन-रात तालीम-ओ-तरबियत में लगे रहते हैं। हक़ीक़त यह है कि इल्हाद के ख़िलाफ़ सबसे मज़बूत मोर्चा यही मकातिब और मदरसात हैं, जो फ़िक्री सैलाब के सामने दीवार बन कर खड़े हैं।

मुनाज़रे उन लोगों के लिए होते हैं जो रास्ते से भटक चुके हों, ताकि उन्हें वापस लाया जा सके। मगर सबसे बेहतर हिकमत-ए-अमली यह है कि भटकने ही न दिया जाए। यही काम मकतब करता है, यही मदरसा करता है, और यही वह बुनियादी मोर्चा है जहाँ ईमान की हिफ़ाज़त होती है।

लिबरल सोच और मदरसों से दुश्मनी.

कुछ लिबरल हल्क़ों को मदरसों और उलमा से इसलिए परेशानी है कि ये इदारे इंसान को ख़ुदा से जोड़ते हैं, आज़ादी के नाम पर बे-लगामी नहीं सिखाते। उन्हें वह निज़ाम खटकता है जो अख़लाक़, जवाबदेही और अकीदे की बात करता है। असल में मदरसों से दुश्मनी ईमान की जड़ों पर हमला है, और इसी वजह से यह मुख़ालफ़त इतनी वाज़ेह नज़र आती है।

क्यों निशाने पर हैं उलमा? फ़ितनों की असली घबराहट का राज़
अथीज़्म, लिबरलिज़्म और ऐसे दूसरे फ़ितनापरस्त नज़रियात को उलमा, मौलाना और आलिम-ए-दीन से इस क़दर चिढ़ क्यों होती है? 
इसका जवाब बहुत सादा है। उनकी सबसे मज़बूत दीवार यही आलिम है। वही आख़िरी क़िला, जिसके सामने उनका हर प्रोपेगेंडा दम तोड़ देता है। जब तक अवाम अपने दीनी रहबर से जुड़ी रहती है, तब तक गुमराही का सौदा नहीं चल पाता—इसी सच्चाई से उन्हें बेचैनी रहती है।

इसलिए पहली कोशिश यह होती है कि अवाम और उलमा के दरमियान भरोसा तोड़ा जाए। कभी आलिम को “पिछड़ा, कठ्मुल्लाह” कहा जाता है, कभी “नफ़रत फैलाने वाला”, कभी “वक़्त से कटा हुआ”। मक़सद बहस नहीं, बदनामी है; दलील नहीं, शोर है। 
जब रहबर ही गुमनाम बना दिया जाए, तो क़ौम को भटकाना आसान हो जाता है।

लिबरल और सोशलिस्ट सोच अक्सर मज़हबी आलिम को अपना सबसे बड़ा दुश्मन मानती है, क्योंकि आलिम सवाल पूछना सिखाता है—और हर सवाल फ़ितने की दुकान के लिए ख़तरा बन जाता है। वह अल्लाह से रिश्ता जोड़ता है, जवाबदेही का एहसास जगाता है, और यही बातें हर बे-लगाम आज़ादी के नारे की जड़ काट देती हैं।

याद रखिए, यह नफ़रत अचानक नहीं उगती—इसे तरतीब से बोया जाता है तरकिब के साथ। सोशल मीडिया पर मज़ाक, तंज़, मीम्स और अधूरी क्लिप्स के ज़रिए उलेमा की शाख गिराने की मुहिम चलाई जाती है, ताकि मुसलमान अपने असली रहबर से दूर हो जाए। जब रिश्ता टूटेगा, तो रास्ता भटकाना आसान होगा—यही उनकी फिक्रि/ नज़रियाति जंग है।
मुसलमानों के लिए ज़रूरी है कि वे शोर और साज़िश के फ़र्क़ को पहचानें। हर तंज़ “सच” नहीं होता, हर इलजाम “तहक़ीक़” नहीं। उलमा से इख़्तिलाफ़ हो सकता है, मगर नफ़रत फैलाना फ़ितने की निशानी है। अपने रहबरों से जुड़िए, सवाल कीजिए—मगर इज़्ज़त और इंसाफ़ के साथ।
   
शान-ए-मुफ़्ती शमाइल नदवी की तारीखी जीत.
हक़ और बातिल की जंग में जब भी सुच्चाई का सूरज निकलता है, बातिल की तारीकी छँट जाती है। हाल ही में मुफ़्ती शमाइल नदवी साहब ने जिस निडरता और बेबाकी के साथ इस्लाम के सही रुख़ को दुनिया के सामने पेश किया है, वह न सिर्फ क़ाबिल-ए-तारीफ़ है बल्कि मिल्लत-ए-इस्लामिया के लिए एक सरमाया-ए-इफ़्तिख़ार है।
 उनकी इस अज़ीम फ़तह ने मुसल्मानो के उन अक़ाबिर की याद ताज़ा कर दी है जिन्होंने हमेशा बातिल की आँखों में आँखें डालकर हक़ का परचम बुलंद किया। मुफ़्ती साहब का लहजा, उनके दलायल की मज़बूती और ईमान की हरारत ने दुश्मन के हर वार को नाकाम कर दिया। यह महज़ एक बहस की जीत नहीं, बल्कि अक़ीदे की पाकीज़गी और इल्म की बरतरी का ऐलान है।

जलायी हक़ की शम्ऐ ज़ौफ़शाँ मुफ़्ती शमाइल ने  
सुनायी डट के ईमानी अज़ान मुफ़्ती शमाइल ने

किया है फिर से ताज़ा अहद-ए-क़ासिम की रिवायत को  
किया बातिल को फिर से रायग़ाँ मुफ़्ती शमाइल ने

लहू गर्मा दिया है मिल्लत-ए-बैज़ा का ईमाँ से  
रक़म की जुरअतों की दास्ताँ मुफ़्ती शमाइल ने,

यह फ़तह-ए-हक़ का मुज़्दा है, यह ग़लबा दीन-ए-फ़ित्रत का  
बनायी है नई इक कहकशाँ मुफ़्ती शमाइल ने,

कटी ज़ंजीर-ए-बातिल, जब उठी ललकार-ए-ईमान 
मक़फ़ूल की है बातिल की ज़बाँ मुफ़्ती शमाइल ने

जिसे सुन कर यह अहल-ए-दीन व ईमाँ मुस्कुरा उठे  
किया है इस तरह सच को अयाँ मुफ़्ती शमाइल ने,

यह मुफ़्ती यासिर की दुआओं का समर निकला  
कि जीता इम्तिहान-ए-सख़्त जाँ मुफ़्ती शमाइल ने

अदू का क़स्र-ए-बातिल काँप उठा उनके लहजे से  
कि झंडा गाड़ डाला फिर वहाँ मुफ़्ती शमाइल ने,

ख़ुदा के मुनकिरों पर आज सक्ता हो गया तारी, 
किया बे-ख़ौफ़ होकर हक़ बयाँ मुफ़्ती शमाइल ने

अनस इनको मुबारक़बाद देता हर इक मोमिन  
हराया कुफ़्र का इक तर्जुमाँ मुफ़्ती शमाइल ने.
(मुहम्मद अनस बिजनौरी. दारुल ईमान अलीपुरा जट, ज़िला बिजनौर)
 
हासिल ए कलाम.
इल्हाद का मुक़ाबला सिर्फ़ स्टेज की बहसों से नहीं होता, बल्कि मकतब की ख़ामोश तालीम से होता है। यही ख़ामोश मेहनत आने वाली नस्लों के ईमान की सबसे बड़ी हिफ़ाज़त है। 
उलेमा- फ़ितनापरस्त नज़रियात (Atheism, socialism, liberalism etc.) के लिए सबसे मज़बूत रुकावट हैं। इसलिए अवाम और आलिम के रिश्ते को तोड़ने की कोशिश की जाती है।होशियारी,तदबिर और इंसाफ़ ही इसका जवाब है।
ऐ अल्लाह! हमें और हमारी आने वाली नस्लों को उन फितनों से बचा जो 'हमदर्दी' का लिबादा ओढ़कर हमें हमारे दीन से बेगाना करना चाहते हैं।  आमीन.

Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 28.

Muratadeen Ko Aakhiri Pesh Kash.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-28/40.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Hayat-E-Sahaba, Seerat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim rulers,
Islamic History.
     تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (28)
 مرتدین کو آخری پیشکش:

لشکروں کی روانگی سے قبل حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کو آخری موقع دینے کے لیے انہیں دوبارہ اسلام لانے اور امن سے رہنے کی دعوت دی، عرب کے ہر حصے میں انہوں نے متعدد خطوط روانہ کیے جن میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور ان کے بشیر و نذیر ہونے کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب وہ کام پورا ہو گیا جس کے لیے آپ دنیا میں تشریف لائے تھے تو اللہ نے آپ کو وفات دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ان خطوط میں یہ آیات بھی درج کیں۔

"انک میت وانھم میتون"
اے رسول! تمہیں بھی وفات دی جانے والی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی۔

" وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افئن مت فھم الخالدون"
اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ سے پہلے کسی شخص کو ہمیشہ کی زندگی سے نہیں نوازا، یہ ممکن ہے کہ آپ وفات پا جائے اور دوسرے لوگ زندہ رہیں؟

"وما محمد الارسول قد خلت من قبلہ الرسل افئن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین"
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، اگر دوسرے رسولوں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا جائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو اپنی ایڑیوں کے بل پھرے گا تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر گزار بندوں کو جزائے خیر دے گا۔)

ان آیات کے درج کرنے سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا مقصد ان لوگوں کا فتنہ فرو کرنا تھا جو یہ کہہ رہے تھے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہوتے تو کبھی وفات نہ پاتے۔ ان آیات کے علاوہ آپ نے لکھا:

"مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ مسلمان ہونے اور اسلام کے احکام پر عمل کرنے کے بعد جہالت اور شیطان کے بہکانے کے باعث دین حق سے پھر گئے ہیں، میں تمہاری جانب مہاجرین، انصار اور تابعین کا لشکر بھیج رہا ہوں، میں نے اسے حکم دے دیا ہے کہ جب تک وہ تمہارے سامنے اسلام کا پیغام نہ پہنچا دے جنگ نہ کرے، پس جو شخص یہ دعوت قبول کرے گا، اسلام کا اقرار کر کے تمام مخالفانہ سرگرمیوں سے باز آ جائے گا اور نیک کام کرے گا اس کی جان بخشی کر دی جائے گی، لیکن جو شخص انکار کرے گا اور فساد پر آمادہ ہو گا اس سے جنگ کی جائے گی اور وہ اللہ کی تقدیر کو اپنے اوپر نافذ ہونے سے روک نہ سکے گا، ایسے لوگوں کو آگ میں جلایا جائے گا اور بری طرح قتل کیا جائے گا، ان کی عورتیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں گے، کسی شخص سے اسلام کے سوا کچھ قبول نہ کیا جائے گا، ان باتوں پر غور کرنے کے بعد جو شخص ایمان لے آئے گا تو یہ ایمان اس کے لیے بہتر ہو گا، لیکن جو شخص بدستور حالت ارتداد پر قائم رہے گا وہ اللہ کو ہرگز عاجز نہ کر سکے گا، میں نے قاصد کو حکم دے دیا ہے کہ وہ میرا یہ خط مجمع عام میں پڑھ کر سنا دے۔ اسلام لانے کی علامت اذان ہو گی۔ "

اسی لیے جب مسلمان مرتدین کی بستیوں کے قریب پہنچ کر اذان دیتے اور اس کے جواب میں بستی کی جانب سے بھی اذان کی آواز سنائی دیتی تو مسلمان ان سے کوئی تعرض نہ کرتے، لیکن اگر اذان کی آواز نہ آتی تو ایک بار پھر اتمام حجت کرنے کے بعد ان سے جنگ شروع کر دیتے۔

حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے قاصدوں کے ہاتھ یہ خطوط عرب کے گوشے گوشے میں بھیج دئیے، وہ چاہتے تھے کہ اس طرح متردد لوگوں کو غور و فکر کی مہلت مل جائے، کیونکہ لوگ محض اس خدشے کے باعث مرتدین کے ساتھ ہو گئے تھے کہ اگر وہ اسلام پر قائم رہے تو انہیں مرتدین کے ہاتھوں سخت مظالم برداشت کرنے پڑیں گے، لیکن اب کہ انہوں نے اپنے آپ کو دو قوتوں کے درمیان گھرا ہوا دیکھا تو دوبارہ اسلام لانے کا اعلان کر دیا، یا کم از کم مرتدین کے سرداروں کی حمایت سے دست کشی اختیار کر لی، اس وجہ سے ان کی جانیں بچ گئیں۔

یہ خطوط سن کر کثیر التعداد مرتدین کی ہمتیں بھی پست ہو گئیں اور انہوں نے مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کا خیال چھوڑ دیا، غرض حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی اس پالیسی سے مسلمانوں کو زبردست فائدہ پہنچا، پھر بھی اس پالیسی سے کسی کمزوری کا اظہار مطلق نہ ہوتا تھا۔

حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا منشا یہ نہ تھا کہ پہلے تو مرتدین کو بہلا پھسلا کر اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں، لیکن اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو مصالحت کی کوئی اور راہ اختیار کریں، اس کے برعکس انہوں نے اپنے خطوط کا لفظ لفظ نہایت سنجیدگی سے تحریر کیا تھا، جو دھمکیاں خطوط میں دی گئی تھیں وہ خالی خولی نہ تھیں، بلکہ وہ انہیں لباس عمل پہنانے کا تہیہ کر چکے تھے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھ دیا امرائے عساکر کو حکم دے دیا گیا ہے کہ وہ پہلے مرتد لوگوں کو دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں، اگر وہ اسے قبول کر لیں تو ان سے در گزر کریں، لیکن  انکار کی صورت میں ان سے جنگ کریں اور اس وقت تک جنگ کریں کہ وہ اسلام لانے کا اقرار کر لیں، اسلام کا اقرار کر لینے کے بعد وہ انہیں ان حقوق سے آگاہ کریں جو ان پر عائد ہوتے ہیں اور ان حقوق سے بھی باخبر کریں جو حکومت کے ذمے عائد ہوتے ہیں، پھر ان سے جو لینا ہو وہ لیں اور انہیں جو دینا وہ دیں، انہیں مہلت قطعا نہ دیں، جو شخص یہ دعوت قبول کر لے اس پر کسی شخص کو دست دراز کرنے کا حق نہیں، اگر وہ اپنے دل میں ان باتوں سے مختلف باتیں چھپائے جو اس نے اپنی زبان سے ادا کی ہیں تو اس کا حساب لینا صرف اللہ کا کام ہے، لیکن جو شخص قبول دعوت سے انکار کر دے تو اس سے جہاں کہیں وہ ہو، جنگ کی جائے اور اسے قتل کیا جائے، اس سے اسلام کے سوا کوئی چیز قبول نہ کی جائے، قتل کرنے کے لیے تلوار اور آگ دونوں استعمال کی جائیں۔

   بہترین سیاست کا کرشمہ:
حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر جو پالیسی اختیار کی وہ بہترین سیاست کا کرشمہ تھی، بعض لوگ اس امر پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے نہایت نرم دل ہونے کے باوجود اس قدر سخت رویہ کیوں اختیار کیا؟ لیکن اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، کیونکہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کامل ایمان تھا اس کے باعث انہیں دین کے معاملے میں نرمی برتنے کا کبھی خیال بھی نہ آیا، یہ درست ہے کہ نرم دل لوگ سختی اور تندہی کو پسند نہیں کرتے، لیکن اگر کسی جانب سے ان کے عقائد پر زد پڑے تو ان کی سختی کی انتہا نہیں رہتی، انسانی فطرت میں ایک خاص حد تک سختی اور نرمی کا مادہ رکھا گیا ہے، مگر بعض اوقات جب معاملات اس مقرر حد سے بڑھ جائیں تو اس کا رد عمل بالکل الٹ ہوتا ہے۔

بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبائع پر سختی غالب ہوتی ہے، انہیں دیکھ کر قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کبھی نرمی بھی برت سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر نرمی نے پوری طرح قابو پا لیا ہوتا ہے اور انہیں دیکھ کر یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ کبھی سختی پر بھی اتر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس قسم کے نظارے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں کہ جن لوگوں سے سختی کی توقع نہیں کی جا سکتی وہ انتہائی سختی پر اتر آگئے ہیں اور جن سے نرمی کی توقع نہیں کی جاسکتی، وہ انتہائی نرمی برتنے لگتے ہیں، وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ سختی اور نرمی دونوں کی حدود مقرر ہیں، بعض واقعات کے نتیجے میں یہ حدود ٹوٹ جاتی ہیں تو ان کا رد عمل بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔

کیا کوئی شخص خیال کر سکتا تھا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو شام بھیجتے وقت حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ وہ رویہ اختیار کریں گے جو اکابر مہاجرین اور انصار کی رائے کے بالکل خلاف تھا؟ یا منکرین زکوٰۃ کے مقابلے میں اس قدر سختی برتیں گے کہ اسلامی لشکر کے مدینہ سے غیر حاضر ہونے کے باوجود چند آدمی لے کر ان کے مقابلے کو نکل آئیں گے؟ انہی واقعات پر بس نہیں بلکہ بعد کے واقعات نے بھی بتا دیا کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ جن کی سرشت میں نرم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی، مخالفین کے مقابلے میں نہایت سخت دل واقع ہوئے۔

اس کی وجہ جیسا کہ بیان کی جا چکی ہے یہی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان تھا اور انہیں وثوق تھا کہ انہوں نے جو چیز قبول کی ہے وہی حق ہے۔ اس لیے جب بعض لوگ اس چیز کے مقابلے کے لیے کھڑے تو ان سے مطلق صبر نہ ہو سکا اور وہ پورے عزم اور عدیم النظیر ہمت سے دین میں رخنہ اندازی کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں ڈٹ گئے، حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اس وقت تک خاموش نہ بیٹھیں گے جب تک منکرین زکوٰۃ اور مرتدین کو حق کی طرف نہ لے آئیں یا ان کا قلع قمع نہ کر لیں اور اگر اس غرض کے لیے انہیں تنہا بھی لڑنا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہ کریں گے۔

جنگ ہائے ارتداد کی اہمیت:
مرتدین سے جو جنگیں پیش آئیں، ان کا شمار زمانہ اسلام کی فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے، اگر ان جنگوں میں مسلمان فتح یاب نہ ہوتے تو تھوڑے ہی عرصے میں عرب دوبارہ اسی پرانی جاہلیت کا شکار ہو جاتے جسے فنا کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تھے، لیکن اللہ نے مقدر کر دیا تھا کہ اس کا دین غالب رہے گا۔ اس غرض سے اس نے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو چنا، انہوں نے انتہائی پامردی سے تمام دشمنان اسلام کا مقابلہ کر کے انہیں دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہونے پر مجبور کر دیا، پوری تاریخ اسلام میں کہیں بھی ایسی نظیر نہیں ملتی جہاں ایسے محکم ایمان کا مظاہرہ کیا گیا ہو جیسا حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا اور عزم و استقلال کا ایسا ثبوت دیا گیا ہو جیسا حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے دیا۔
=======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

DOES GOD EXIST: Liberals VS RSS & Sanghi.

The Modern Liberal’s Arsenal: Books, Mics & Silver Screens.

Liberals dropped swords—picked up screens!
Books, mics & movies: the new liberal weapons.
Forget swords/canons—liberals fight with stories, speeches & screens!
Today’s liberal doesn’t fight with steel/weapons but with ideas. Books, microphones, and silver screens have become their weapons of influence—reshaping culture, controlling narratives, and spreading ideological fitna across society.
From books to blockbusters, liberals wage war not with swords but with stories. Discover how media, microphones, and movies fuel the modern fitna of liberalism.
खबरदार! क्या आप भी मोदी विरोध के नाम पर अपना ईमान लिबरल्स के हाथों बेच रहे हैं? जानिये कैसे ध्रुव राठी और जावेद अख्तर जैसे लोग आपकी नस्लों में नास्तिकता का ज़हर घोल रहे हैं।
#IntellectualWar #FaithUnderFire, Does god exists, Atheism, Liberalism, Socialism, leftism, Ideological Fitna, Modern Liberal Agenda, Propaganda Tools, Ideological Fitna,
जावेद अख्तर vs मुफ्ती यासिर: इल्म की दलील के सामने क्यों फेल हुई शायराना लफ्फाज़ी?
बंदूक एक को मारती है, नज़रिया नस्लों को! 🔫 एक तरफ संघी डंडा, दूसरी तरफ लिबरल (कुफ्रर) का मीठा ज़हर। आखिर मुसलमान कब तक दूसरों का 'वोट बैंक' और 'मोहरा' बना रहेगा?

"They no longer wield swords, but something far more powerful—ideas, voices, and screens. Today’s liberalism spreads through books, microphones and cinema, shaping minds and rewriting narratives. The battlefield isn’t the street—it’s the culture itself."
जो मुसलमान ध्रुव राठी, अशोक पांडे या कुणाल कामरा को मोदी, बिजेपि या संघ विरोधी की वजह से देखते है वे राठी को देखने के बजाए मुफ्ती साहेब का यह डिबेट देखे। मोदी योगी का विरोध एक सियासी मसला है, अगर कल को उसके समान विचारधारा वालि दूसरी पार्टी की हुकूमत होगी तो यह राठी अपनी विचारधारा के वजह से उसका समर्थन करेंगे, वे मोदी, BJP का विरोध अपने नज़रिए की वजह के करते है नाकि मुसलमानो की वजह से। यह सब नास्तिक है जो किसी भी धर्म को नही मानते.
                                                  भारत मे बड़ी आबादी हिंदुओ की है इसलिए वे मोदी का विरोध करके मुसलमानो को अपने खेमे मे रख कर सेकुलर बनते है, इसी तरह पाकिसतान मे भी लेफ्ट वाले ऐसे ही करते है,वहा उलेमा को कठमुल्ला कहकर जलील करते है यह लिबरल्स वाले का BJP विरोधि करने का मतलब सियासी है नाकि वह मुसलमानो का हमदर्द। लेफ्ट हर जगह बडि आबादि और मजहब का विरोध करता है, चाहे वह किसी भी धर्म या उससे जुडा हो। क्योंके वह धर्म को अफीम मानता है। 
                                                                          इसलिए यह डिबेट सुने, अब राठी भी सकते मे आगया है क्योंके उसका मोदी विरोधी वाला कार्ड मुसलमान खरीदना बंद कर देंगे। 

क्या लिबरलिज़्म मुसलमानों का मुहाफिज़ है?
आज के दौर में सोशल मीडिया और सियासी बहसों का बाज़ार गर्म है। भारतीय मुसलमान, जो मौजूदा हुकूमत की पॉलिसियों से खौफज़दा है, अक्सर हर उस आवाज़ को अपना मसीहा मान लेता है जो हुकूमत के खिलाफ उठती है। ध्रुव राठी (Dhruv Rathee), कुणाल कामरा (Kunal Kamra) या रवीश कुमार जैसे नाम इसी कतार में आते हैं।

 मगर सवाल यह है कि क्या महज़ मोदी-योगी की मुखालिफत (opposition) करना ही मुसलमानों का हमदर्द होने की दलील है? 
हाल ही में मुफ्ती शमायिल नदवि के मुनाज़रे ने जिस तरह इन 'लिबरल्स' के दोहरे रवैये की कलई खोली है, उसने एक नई बहस छेड़ दी है।

 नज़रियाती कशमकश: हमदर्दी या सियासी इस्तेमाल?
यह समझना बेहद ज़रूरी है कि ध्रुव राठी या कुणाल कामरा जैसे लोग किसी मज़हब के पैरोकार नहीं हैं, बल्कि यह 'नस्तिक' (Atheist) ज़हनियत रखते हैं। इनके लिए मज़हब, कार्ल मार्क्स (Karl Marx) के उस कॉल के मुताबिक, "अफीम" की तरह है। यह लोग सिर्फ BJP या किसि भि धार्मिक विचारो का विरोध करते हैं क्योंकि उनका कथित 'लिबरल और सेक्युलर' ढांचा उन्हें इसकी इजाज़त देता है।

मुफ्ती साहेब का वह डिबेट और चैलेंज इस बात का सबूत है कि जब बात इस्लाम के बुनियादी अकाइद (Beliefs) की आती है—जैसे खुदा का वजूद—तो यह लिबरल्स अपनी असली जगह पर आ जाते हैं. राठी और कामरा का विरोध 'इस्लाम की मोहब्बत' में नहीं, बल्कि अपनी 'लेफ्टिस्ट आइडियोलॉजी' को बचाने के लिए है। अगर कल को हुकूमत बदल जाए, तो यही लोग अपनी उसी विचारधारा के तहत किसी भी मज़हबी हुकूमत के खिलाफ खड़े होंगे।

शरहद पार का मंज़र: पाकिस्तान के लिबरल्स का हाल.
जो लोग यह समझते हैं कि लिबरल्स या लेफ्टिस्ट (Leftists) सिर्फ भारत में मुसलमानों के साथ हैं, उन्हें पाकिस्तान के हालात पर नज़र डालनी चाहिए। वहां परवेज़ हुदभोय,आसमा सिराजि और नदीम एफ. पराचा (Nadeem F. Paracha) जैसे मशहूर लिबरल इंटेलेक्चुअल्स (Intellectuals) का रवैया देखें। पाकिस्तान में तो कोई मोदी या योगी नहीं है, फिर वहां यह तबका किसके खिलाफ है? वहा यह नज़रियाति तबका और फिक्रि गिरोह क्या कर रहा है?

वहां ये लिबरल्स उलेमा-ए-कराम और मदरसों को निशाना बनाते हैं, उन्हें 'कठमुल्ला' कहकर जलील करते हैं और इस्लाम को तरक्की की राह में रुकावट बताते हैं। 
यह साबित करता है कि 'लेफ्ट' (Left) की लड़ाई किसी व्यक्ति विशेष से नहीं, बल्कि मज़हब (Religion) के उस उसूल से है जो इंसान को खुदा से जोड़ता है। भारत में वे मोदी का विरोध करके मुसलमानों को अपने 'खेमे' (Camp) में रखते हैं ताकि उनकी सेक्युलर दुकान चलती रहे.

 ध्रुव राठी का 'एंटी-मोदी कार्ड' और खौफ.
मुफ्ती शमायिल नदवि और दीगर संजीदा उलेमा ने जब से इन लिबरल्स के अकीदे (Faith) पर सवाल उठाए हैं, राठी जैसे यू-ट्यूबर्स (YouTubers) सकते में हैं। उन्हें डर है कि अगर मुसलमान यह समझ गया कि "हमारा और इनका रास्ता अलग है", तो उनका सबसे बड़ा 'व्यूअर बेस' (Viewer Base) हाथ से निकल जाएगा। उनका 'मोदी विरोधी कार्ड' अब एक्सपायर होने की कगार पर है क्योंकि मुसलमान अब यह समझने लगा है कि सियासी मुखालिफत एक अलग चीज़ है और अक़ीदे का समझौता एक अलग चीज़।

 सियासी मुखालिफत बनाम नज़रियाती यलगार: संघ और लिबरल्स का फर्क.

मुसलमानों के लिए आज का दौर 'दो पाटों के बीच पिसने' जैसा है। एक तरफ संघ (Sangh/BJP) की 'भगवा सियासत' है और दूसरी तरफ 'लिबरल्स' (Liberals) की 'मीठी छुरी'। मगर इन दोनों में फर्क ज़मीन और आसमान का है। एक आपके 'वजूद' (existence) का दुश्मन है तो दूसरा आपके 'अकीदे' (faith) का। और याद रहे, जान का जाना ईमान के जाने से बहुत छोटा नुकसान है।

संघ/बीजेपी: एक खुला सियासी हरीफ. (Political Adversary)

बीजेपी या संघ परिवार का मामला बिल्कुल साफ और शफ्फ है। वे जो हैं, वही दिखते हैं। उनकी दुश्मनी 'सियासी' (Political) और 'तहज़ीबी' (Cultural) गलबा हासिल करने की है। वे चाहते हैं कि भारत पर उनकी सियासी पकड़ मजबूत हो।
नुकसान की हद: उनका हमला आपकी मस्जिदों पर हो सकता है, आपके खान-पान पर हो सकता है, या आपकी नागरिकता (citizenship) पर। यह सब यकीनन तकलीफदेह है, मगर यह 'ज़ाहिरी' (external) है।
ईमान पर असर: कोई भी संघी आपको यह नहीं कहेगा कि "कुरान में यह आयत गलत है" या "इस्लाम के फलां उसूल को बदल दो"। वे आपको 'दबाना' चाहते हैं, 'बदलना' नहीं। उनका डर दिखाकर कोई आपका ईमान नहीं छीन सकता। बल्कि तारीख गवाह है कि जब-जब ज़ाहिरी जुल्म बढ़ता है, मुसलमान अपने दीन से और मजबूती से चिपक जाता है।

लिबरल्स/ इलहाद: ईमान और अकीदे के 'बातिनी' दुश्मन.

असल खतरा यहां है। लिबरल्स का मसला सियासत से ज्यादा 'नज़रिए' (Ideology) का है। यह वो गिरोह है जो आपको बीजेपी के डर का इंजेक्शन लगाकर अपनी गोद में बिठाता है, और फिर धीरे-धीरे आपके दिमाग से 'इस्लाम' निकालकर उसमें 'लिबरलिज़्म' का कचरा भरता है।

1. डर का कारोबार (The Business of Fear):
    लिबरल्स की पूरी दुकान 'मोदी के खौफ' पर चलती है। वे मुसलमानों को यकीन दिलाते हैं कि "अगर तुमने हमारी बात नहीं मानी, हमारी हां में हां नहीं मिलाई, तो तुम फासीवाद (Fascism) के शिकार हो जाओगे।" यह एक ब्लैकमेलिंग है। वे कहते हैं, "हम तुम्हें मोदी से बचाएंगे, बदले में तुम्हें हमारे 'उसूल' मानने होंगे।"

2. ज़हनी गुलामी और अंधी तकलीद:
     लिबरल्स चाहते हैं कि मुसलमान नमाज तो पढ़े, मगर जब बात 'समलैंगिकता' (LGBTQ) का वो रूप जो हया के खिलाफ हो), या 'खुदा के वजूद' की आए, तो मुसलमान वही बोले जो लिबरल आका चाहते हैं।
    वे मुसल्मानो को समझाते हैं कि मज़हब एक 'निजी' (Private) मामला है, इसे घर में रखो। वे चाहते हैं कि आप दिखने में मुसलमान रहें, मगर सोचने में 'नास्तिक' (Atheist) हो जाएं। यह फिक्री पस्ती (Intellectual Degradation) है।

3. मीठा ज़हर:
    बीजेपी अगर कड़वी गोली है, तो लिबरलिज़्म 'शहद में लिपटा ज़हर' है। लिबरल्स आपके अकीदे पर वहां हमला करते हैं जहां आपको महसूस भी नहीं होता। वे कहते हैं, "देखो हम तुम्हारे हक के लिए लड़ रहे हैं," और इसी आड़ में वे आपके बच्चों को यह सिखा जाते हैं कि "शराब पीना, लिव-इन में रहना या मज़हब का मज़ाक उड़ाना 'आज़ादी' है।"

सियासत बनाम अकीदा.
इस फर्क को एक जुमले में यूं समझिए:
"संघी चाहता है कि मुसलमान भारत में 'दोयम दर्जे' (Second Class) का शहरी बनकर रहे, लेकिन लिबरल चाहता है कि मुसलमान इस्लाम छोड़कर 'ज़हनी तौर पर' उनका गुलाम बन जाए।"

संघी आपकी 'पहचान' (Identity) को मिटाना चाहता है, जबकि लिबरल आपके 'ईमान' (Faith) को मिटाना चाहता है।
मुसलमानों को यह समझना होगा कि मोदी का विरोध करने के लिए अपना ईमान लिबरल्स के कदमों में रखने की ज़रूरत नहीं है। हम बीजेपी की सियासी मुखालिफत करेंगे क्योंकि यह हमारा हक है,लेकिन इसके लिए हम उन लिबरल्स या वामपंथियों (Leftists) को अपना रहनुमा नहीं बनाएंगे जो खुद खुदा के बागी हैं।

लिबरल्स की हमदर्दी एक सियासी चाल है। वे आपको 'वोट बैंक' और 'भीड़' से ज्यादा कुछ नहीं समझते। जिस दिन आप अपने दीन पर मजबूती से खड़े होकर लिबरल आइडियोलॉजी को ठुकरा देंगे, उस दिन आप देखेंगे कि ये 'सेक्युलर' दोस्त भी आपके खिलाफ वही ज़बान बोलेंगे जो आज संघि गिरोह बोलते हैं।

एक संघी आपको 'जय श्री राम' कहने पर मजबूर कर सकता है, मगर वह आपको यह यकीन नहीं दिला सकता कि (नऊज़ुबिल्लाह) "खुदा का वजूद नहीं है।" यह काम लिबरल करता है। जावेद अख्तर जैसे लोग आपके दिल में शक के बीज बोते हैं। वे कहते हैं, "तुम जाहिल हो, मज़हब अफीम है, तरक्की के लिए दीन को छोड़ना होगा।"

लिबरल्स का आलमी नेटवर्क (International Network)
यह कोई अकेला जावेद अख्तर नहीं है। यह एक पूरा आलमी नेटवर्क है। अमरीका से लेकर यूरोप तक, अरबों डॉलर की फंडिंग इसी एजेंडे पर खर्च होती है कि मुसलमानों को उनके दीन से बेगाना कर दिया जाए। यह नेटवर्क इन तरीकों से काम करता है:
NGOs और मीडिया: ये इदारों को फंड करते हैं जो 'आज़ादी' और 'मानवाधिकार' के नाम पर इस्लाम के खिलाफ प्रोपेगेंडा करते हैं।
शकोक-ओ-शुबहात फैलाना (Spreading Doubts): ये आपके नबी की शान में गुस्ताखी करेंगे, कुरान पर सवाल उठाएंगे और फिर कहेंगे, "हम तो सिर्फ सवाल पूछ रहे हैं।"
अंदरूनी दुश्मन पैदा करना: ये मुसलमानों के बीच से ही कुछ 'मुनाफिक़' और 'मुल्लहिद' चेहरे तैयार करते हैं जो इन्हीं की ज़बान बोलते हैं, ताकि मुस्लिम नौजवान गुमराह हों।

 फिक्री यलगार: एटम बम से ज्यादा मोहलिक (Lethal) हथियार
दुनिया में हथियारों की दौड़ लगी है, मगर सबसे खतरनाक जंग वह नहीं जो सरहदों पर लड़ी जाती है, बल्कि वह है जो इंसानी ज़हनों (Minds) के अंदर लड़ी जाती है। जैसा कि- एक बंदूक की गोली की हद मुकर्रर है—वह एक वक्त में सिर्फ एक शख्स को मार सकती है। उसका दायरा एक जिस्म तक महदूद है। मगर एक 'नज़रिया' (Ideology) वह हथियार है जो एक साथ लाखों को कत्ल करता है और यह कत्ल सिर्फ जिस्मों का नहीं, बल्कि रूहों का होता है।

1. बंदूक बनाम नज़रिया: नुकसान का पैमाना

जब किसी को गोली मारी जाती है, तो वह मर जाता है। अगर वह हक पर था, तो उसे शहादत मिल गई। उसका नुकसान सिर्फ दुनिया का हुआ, आखिरत (Hereafter) महफूज है। लेकिन जब किसी के दिमाग में एक 'गलत नज़रिया' डाल दिया जाता है, तो वह जिंदा लाश बन जाता है।
लिबरल्स का दिया हुआ 'नास्तिकता' (Atheism) और 'बे-दीनी' का नज़रिया उस शख्स की दुनिया भी बर्बाद करता है और आखिरत भी। सबसे खौफनाक बात यह है कि बंदूक से मरने वाला अपने साथ अपनी मौत ले जाता है, लेकिन गलत नज़रिए से मरने वाला अपने पीछे अपनी 'नस्लों' (Generations) को भी उसी गुमराही में धकेल जाता है। यह एक ऐसा जहर है जो बाप से बेटे और बेटे से पोते तक सफर करता है।

2. लिबरलिज़्म: परमाणु बम से ज्यादा खतरनाक

परमाणु बम (Nuclear Bomb) एक शहर को तबाह करता है, उसका असर दशकों तक रहता है। लेकिन 'लिबरल आइडियोलॉजी' तहज़ीबों (Civilizations) को तबाह करती है और उसका असर सदियों तक रहता है।
संघी या दक्षिणपंथी ताकतें आपके जिस्म या आपकी मस्जिद को निशाना बना सकती हैं, जो कि एक 'माद्दी' (Physical) नुकसान है। लेकिन लिबरल्स का यह इंटरनेशनल नेटवर्क आपके 'यकीन' (Belief) पर हमला करता है। वे तालिम (Education), मीडिया और फिल्मों के जरिए धीमे जहर की तरह यह बात फैलाते हैं कि "मज़हब अक्ल का दुश्मन है" या "आज़ादी का मतलब हर हराम काम करना है".

3. ज़हनी गुलामी का 'सॉफ्ट वार'

आज का लिबरल हाथ में तलवार लेकर नहीं आता। वह हाथ में 'किताब', 'माइक' और 'सिल्वर स्क्रीन' लेकर आता है।
नस्लों में सफर: एक बार जब किसी नौजवान के दिमाग में यह बात बैठ गई कि "कुरान पुराने ज़माने की बात है" (नऊज़ुबिल्लाह), तो उसकी आने वाली सात पुश्तें इस्लाम से दूर हो जाती हैं। 
एक जिस्मानी कातिल (Physical Killer) आपकी नस्ल खत्म कर सकता है, लेकिन एक फिक्री कातिल (Ideological Killer) आपकी नस्ल को 'मुर्तद' (Apostate) बना देता है।
मीठा हमला: यह हमला इतना बारीक होता है कि शिकार को पता ही नहीं चलता कि वह शिकार हो रहा है। वह समझता है कि वह 'मॉडर्न' हो रहा है, जबकि असल में वह अपनी जड़ों से कटकर 'ज़हनी गुलाम' बन रहा होता है।

आगाज या अंजाम?
 यह समझना लाज़िम है कि मुसलमानों के लिए असली खतरा वह नहीं है जो डंडा/बंदुक लेकर सामने खड़ा है, बल्कि वह है जो मुस्कुराहट के साथ आपके ड्राइंग रूम में टीवी और मोबाइल के जरिए बैठा है। एक बंदूकधारी से बचना आसान है, आप छुप सकते हैं या मुकाबला कर सकते हैं। लेकिन उस 'फिक्री वायरस' से बचना बहुत मुश्किल है जो हवा में घुला हुआ है।

लिबरल्स की यह 'फिक्री जंग' (Ideological War) दरअसल शैतानी मिशन का ज़दिद शक्ल है। हमें अपने बच्चों को सिर्फ पुलिस और फौज के डंडे से नहीं, बल्कि इन लिबरल्स के 'लफ्ज़ों के जाल' से बचाना है। क्योंकि जो कौम अपना नज़रिया खो देती है, तारीख गवाह है कि वह नक्शे से भी मिट जाती है।

 हकीकी रहनुमा कौन?
आज का मुसलमान एक अजब दोराहे पर खड़ा है। जहाँ एक तरफ ज़ाहिरी दुश्मन का खौफ है, वहीं दूसरी तरफ 'लिबरलिज़्म' के रूप में एक बातिनी (छुपा हुआ) खतरा है। 
मुसलमानों को चाहिए कि वे अपनी सियासी और फिक्री रहनुमाई के लिए उन लोगों की तरफ देखें जो उनकी जड़ों से जुड़े हैं। उलेमा, जैसे मुफ्ती यासिर नदीम, जो न सिर्फ ज़दीद (Modern) और कदीम (Traditional) उलूम पर दस्तरस रखते हैं, बल्कि जो 'लॉजिक' और 'दलील' के साथ बात करते हैं, वही असली मॉडल हो सकते हैं।

एक नास्तिक (Atheist) या लिबरल, चाहे वह कितना ही मीठा बोले, आखिरकार वह आपकी दीनि शिनाख्त को मिटाकर आपको एक 'बे-दीन' इलहाद ढांचे में ढालना चाहता है। मोदी का विरोध करना एक सियासी ज़रूरत हो सकती है, लेकिन इसके लिए अपने ईमान और अक्ल को मुल्लहिद के हवाले कर देना, एक बहुत बड़ी फिक्री गुमराही है।
संघी आपकी 'ज़मीन' और 'वजूद' का दुश्मन है, जबकि लिबरल आपके 'ईमान' और 'पहचान' का सौदागर है। मुफ्ती यासिर नदीम अल वाजिदी जैसी आवाज़ों ने इस फरेब का पर्दा फाश कर दिया है। अपनी सियासी जंग लड़िए, मगर अपना ईमान और ज़हन उन लोगों के हवाले मत कीजिए जो खुदा और उसके रसूल के बागी हैं। खौफ की बुनियाद पर की गई 'अंधी तकलीद' हमें ज़हनी गुलामी की अंधेरी खाइयों में धकेल देगी। अपनी जड़ों की तरफ लौटिए और अकीदे की हिफाज़त को अपनी पहली तरजीह (priority) बनाइए।

जावेद अख़्तर का ज़हर संघि से ज़्यादा खतरनाक इसलिए है क्योंकि डंडे का ज़ख्म भर जाता है,मगर ज़हन में भरा हुआ ज़हर नस्लों को तबाह कर देता है। लिबरल्स आपको सियासी दुश्मन का डर दिखाकर आपकी रूह छीन लेना चाहते हैं। वे चाहते हैं कि आप एक ऐसे जिस्म बनकर रह जाएं जिसमें ईमान की जान न हो।

इसलिए, सियासी लड़ाई अपनी जगह, लेकिन अपनी नस्लों को बचाने के लिए इस फिक्री और नज़रियाती हमले से होशियार रहना आज का सबसे बड़ा जिहाद है।

ऐ रब्बे-ज़ुल-जलाल! ऐ दिलों के फेरने वाले और ईमान की हिफाज़त फरमाने वाले परवरदिगार! आज उम्मत-ए-मुस्लिमा उस दौर से गुज़र रही है जहाँ ईमान को हाथ में रखना दहकते अंगारे को पकड़ने के मानिंद हो गया है। मौला, हम पर रहम फरमा।

ऐ अल्लाह! हमें इन ज़दीद दौर के 'लिबरल' और 'देहरिया' (Atheist) फितनों से महफूज़ रख, जो अक्ल और आज़ादी के नाम पर हमारे सीनों से ईमान की मिठास चुराने के दरपे हैं। हमारी नस्लों के ज़हनों में जो शक और बे-दीनी के बीज बोए जा रहे हैं, अपनी कुदरत से उन्हें जड़ से मिटा दे। ऐ बारी-तआला! हमें ज़हनी गुलामी और अंधी तकलीद के अंधेरे रास्तों से निकालकर हकीकी इल्म और बसीरत के नूर से सरफ़राज़ फरमा।

ऐ पाक परवरदिगार! उम्मत की मांओं, बहनों और बेटियों की हिफाज़त फरमा। उन्हें हज़रत फातिमा-तुज़-ज़हरा (रज़ी.) की हया और हज़रत आयशा (रज़ी.) के इल्म का वारिस बना। आज के इस 'फहाशी' और 'बे-पर्दगी' के सैलाब में उन्हें हया की ढाल अता कर। उनके दिलों में पर्दे की अज़मत और पाकीज़गी की तड़प पैदा फरमा, ताकि वे ज़दीदियत के नाम पर अपनी अज़मत का सौदा न करें।

या रब! हमें और हमारी आने वाली नस्लों को उन फितनों से बचा जो 'हमदर्दी' का लिबादा ओढ़कर हमें हमारे दीन से बेगाना करना चाहते हैं। हमें हकीकी मसीहा और इमान ओ अक़ीदे के सौदागरो के बीच फर्क करने की सिफत अता कर। ऐ अल्लाह! हमें दोबारा ज़मीन पर एक बावकार और ईमान वाला मुकाम अता फरमा। आमीन, सुम्मा आमीन।
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 27.

Sham (Syria) Se Usama Razi Allahu Anahu Ke Lashkar Ki Wapasi.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu bakr Razi Allahu Anahu. Part-27.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim web, Caliph era, Khilafat,
Islamic History.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (27)
  شام سے لشکرِ اسامہ کی واپسی:

مختلف قبائل کے مسلمان زکوٰۃ لے کر مدینہ پہنچ ہی رہے تھے کہ حضرت اسامہؓ بھی سرزمین روم سے مظفر ومنصور واپس آ گئے، حضرت ابوبکرؓ اور کبار صحابہ نے مقام جرف میں لشکر کا استقبال کیا، عامۃ الناس نے بھی بڑے جوش و خروش سے اس فوج کا خیر مقدم کیا، جب لشکر مدینہ میں داخل ہوا تو ہر جانب سے خوشی اور مسرت کے گیتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، حضرت اسامہؓ سب سے پہلے مسجد نبوی میں پہنچے، وہ عَلم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں مرحمت فرمایا تھا، مسجد میں بلند کیا اور نماز شکرانہ ادا کی۔

حضرت ابوبکرؓ نے نہایت دور اندیشی سے فیصلہ کیا کہ دشمن کو تیاری کا موقع نہ دیا جائے، بلکہ اس پر پے در پے حملے کر کے اس کی قوت و طاقت توڑ دی جائے، انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو فی الحال آرام کرنے کا حکم دیا اور خود ان لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے جو اس سے پہلے ذی القصہ کی لڑائی میں ان کے ساتھ شریک تھے، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر خدا نخواستہ آپ کو کوئی ضرر پہنچ گیا تو اسلامی سلطنت کا نظام تہہ و بالا ہو جائے گا، اس لیے آپ اپنی جگہ کسی اور کو لشکر کا سردار مقرر فرما دیں، تاکہ اگر وہ میدان میں کام بھی آ جائے تو مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچ سکے، لیکن حضرت ابوبکرؓ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے تھے تو جب تک اسے پورا نہ کر لیتے پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہ لیتے تھے، انہوں نے یہ باتیں سن کر فرمایا:

"واللہ! میں ہرگز پیچھے نہ رہوں گا، بلکہ تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری ہمتوں کو بلند رکھوں گا۔"

مدینہ سے روانہ ہو کر حضرت ابوبکرؓ ابرق پہنچے جو ذی القصہ کے قریب واقع ہے، وہاں بنی عبس، ذبیان اور بنی بکر سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی، جنگ میں مؤخر الذکر قبائل کو شکست اٹھانی پڑی اور مسلمانوں نے انہیں اس علاقے سے نکال دیا، ابرق بنی ذبیان کی ملکیت تھا، لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے انہیں وہاں سے نکال دیا تو اعلان کیا کہ اب یہ سرزمین مسلمانوں کی ملکیت ہے، آئندہ بنی ذبیان اس پر قابض نہ ہو سکیں گے، چنانچہ اس کے بعد یہ مقامات مسلمانوں ہی کی ملکیت میں رہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد بھی بنو ثعلبہ نے اس جگہ دوبارہ آباد ہونا چاہا تو حضرت ابوبکرؓ نے اجازت نہ دی۔

عبس، ذبیان، غطفان، بنی بکر اور مدینہ کے قریب بسنے والے دوسرے باغی قبائل کے لیے مناسب تھا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور بغاوت سے باز آ جاتے، حضرت ابوبکرؓ کی کامل اطاعت اور ارکان اسلام کی بجا آوری کا اقرار کرتے اور مسلمانوں سے مل کر مرتدین کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے، عقل کا تقاضا بھی یہی تھا اور واقعات بھی اسی کی تائید کرتے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے ذریعے سے ان کا زور ٹوٹ چکا تھا، روم کی سرحدوں پر حصول کامیابی کے باعث اہل مدینہ کا رعب قائم ہو چکا تھا، مسلمانوں کی قوت وطاقت بڑھ چکی تھی اور اب وہ اس کمزوری کے عالم میں نہ تھے جو جنگ بدر اور ابتدائی غزوات کے ایام میں ان پر طاری تھی، اب مکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور طائف بھی اور ان دونوں شہروں کی سیادت سارے عرب پر مُسلم تھی، پھر خود ان قبائل کے درمیان ایسے مسلمان کثرت سے موجود تھے جنہیں باغی کسی صورت ساتھ نہ ملا سکے تھے اور اس طرح ان کی پوزیشن بے حد کمزور تھی۔

لیکن مسلمانوں کی دشمنی نے ان کی آنکھیں اندھی کردی تھیں اور سود و زیاں کا احساس دلوں سے جاتا رہا تھا، انہوں نے اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور قبیلہ بنی اسد کے نبوت کے دعویدار طلیحہ بن خویلد سے جا ملے، جو مسلمان ان کے درمیان موجود تھے وہ انہیں ان کے ارادوں سے باز نہ رکھ سکے، ان لوگوں کے پہنچ جانے سے طلیحہ اور مسیلمہ کی قوت و طاقت میں بہت اضافہ ہو گیا اور یمن میں بغاوت کے شعلے زور و شور سے بھڑکنے لگے۔

یہ حالات دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے فیصلہ کیا کہ جنگ کا سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے اور اس وقت تک دم نہ لیا جائے جب تک یمن کا چپہ چپہ اسلامی حکومت کے زیر نگین نہ آ جائے، اگر یہ قبائل عقل سے کام لیتے تو طلیحہ اور دوسرے مدعیان نبوت کو اتنا فروغ حاصل نہ ہوتا اور بہت جلد سارا عرب اسلام کی آغوش میں آ جاتا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا، اس نے مخالفین کو مزید مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں اپنی جمعیت اور مضبوط کر لیں۔ اسلام سے ان قبائل کی عناد اور نفرت کی اصل وجہ وہی تھی جس کا ذکر ہم ابتداء میں کر آئے ہیں، یعنی قبائلی عصبیت اور یہ جذبہ کہ ہم کسی طاقت کا غلبہ تسلیم نہیں کر سکتے، جب ان قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے میں ناکامی ہوئی بلکہ اس کے برعکس انہیں اپنی بعض بستیوں ہی سے نکلنا پڑا تو بدوی طبائع نے فاتح طاقت کے سامنے سر جھکانا اور اس کی سیادت قبول کر کے اس کے ماتحت زندگی بسر کرنا گوارا نہ کیا، چنانچہ وہ اس خیال سے بنی اسد اور طلیحہ سے جا کر مل گئے کہ ممکن ہے ان کا ساتھ دینے سے وہ اپنی عبرت ناک شکست  
کا داغ  دھو سکیں۔

لیکن حضرت ابوبکرؓ تمام قبائلی عصبیتوں سے دور تھے، ان کے پیش نظر صرف ایک مقصد تھا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ طریقہ اختیار کیا جائے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے، انہوں نے اپنی ساری جدوجہد اسی مقصد کے حصول کے لیے وقف کر دی، یہی سیاست تھی جس کے نفاذ کا اعلان انہوں نے بیعت کے دن کیا تھا اور اپنے عہد خلافت میں اسی پر نہایت سختی سے کاربند رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 26.

Daur-E-Siddique Ka Pahla Mu'arka.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Siddique Razi Allahu Anahu. Part-26.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Seerat-E-Sahaba, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim Rulers, kingdom of heaven,
Islamic History.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (26)
عہد صدیقی کا پہلا معرکہ:

حضرت ابوبکرؓ کا اندازہ بالکل درست نکلا، ابھی تین روز بھی نہ گزرے تھے کہ منکرین زکوٰۃ نے مدینہ پر چڑھائی کر دی اور تہیہ کر لیا کہ خلیفہ سے اپنی بات منوا کر ہی واپس جائیں گے، مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے جاسوسوں نے منکرین زکوٰۃ کے ارادوں سے حضرت علیؓ، زبیرؓ، طلحہؓ، ابن مسعود اور دوسرے لوگوں کو مطلع کر دیا، انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے پاس خبر بھیجی، حضرت ابوبکرؓ نے انہیں تو ہدایت کی کہ وہ اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہر کر شہر کے تمام ناکوں کی حفاظت کریں اور خود اونٹ پر سوار ہو کر مسجد نبوی میں تشریف لائے اور تمام مسلمانوں کو جو وہاں جمع تھے، ساتھ لے کر ان لوگوں کے مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوئے جو بے خبری میں مسلمانوں پر شب خون مارنا چاہتے تھے۔

ان قبائل کے وہم میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی ان کے مقابلے میں آئے گا، کیونکہ انہیں اپنے وفود کے ذریعے سے اہل مدینہ کی کمزوری کا علم ہو گیا تھا، لیکن جب ان کی توقعات کے قطعاً برعکس انہیں حضرت علیؓ وزبیرؓ وطلحہ وابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدینے سے باہر ہی روکا اورمدینہ میں حضرت صدیق اکبرؓ کے پاس خبر بھیجی، ادھر سے بلا توقف کمک روانہ ہوئی، مسلمانوں نے ذی خشب تک ان کو پسپا کردیا اور وہ ہزیمت پاکر بھاگ نکلے، مگر دوسرے راستے سے دف اور قسم قسم کے باجے بجاتے ہوئے لوٹے جس سے مسلمانوں کے اونٹ ایسے بدکے اور ڈر کر بھاگے کہ مدینہ ہی میں آکر دم لیا۔

عبس، ذبیان اور ان کے مددگار، مسلمانوں کے بھاگ جانے سے بڑے خوش ہوئے اور اسے اپنی فتح مندی اور مسلمانوں کی کمزوری پر محمول کرتے ہوئے مقام ذی القصہ کے پاس خیمہ زن لوگوں کو ان تمام واقعات کی اطلاع دی، ذی القصہ والے بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور آپس میں صلاح مشورہ ہونے لگا، بالآخر فیصلہ ہوا کہ وہ اس وقت تک واپس نہ جائیں جب تک مسلمانوں کو ناکوں چنے چبوا کر اپنی پیش کردہ شرائط قبول کرنے پر مجبور نہ کر دیں۔

ادھر حضرت ابوبکرؓ اور تمام مسلمانوں نے اس رات پلک تک نہ جھپکائی، بلکہ دشمن سے لڑائی کی تیاریوں میں مشغول رہے، رات کے آخری تہائی حصے میں وہ مسلمانوں کو لے کر دوبارہ ان کی جانب روانہ ہوئے، پہلے کی طرح اب بھی انہوں نے اس امر کی کامل احتیاط کی کہ دشمن کو کانوں کان مسلمانوں کے آنے کی خبر نہ ہونے پائے، صبح صادق کا ظہور ہوا تو مسلمان اور ان کے دشمن قبائل ایک ہی میدان میں تھے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ مسلمان لڑائی کے لیے پوری طرح تیار تھے اور دشمن بڑے اطمینان اور آرام سے خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا، مسلمانوں کے لیے اس سے بہتر اور کون سا موقع ہو سکتا تھا، وہ لوگ اس اچانک حملے سے ہڑ بڑا کر اٹھے اور اسی نیم بیداری کی حالت میں لڑنا شروع کر دیا اور ابھی سورج نے اپنا چہرہ افق عالم پر ظاہر ہی کیا تھا کہ دشمن کے لشکر نے نہایت بے ترتیبی کی حالت میں بھاگنا شروع کر دیا، حضرت ابوبکرؓ نے ذی القصہ تک ان کا تعاقب کیا، آخر جب یہ دیکھ لیا کہ وہ دوبارہ واپس آنے کی جرأت نہ کریں گے تو حضرت ابوبکرؓ اس جگہ واپس آ گئے جہاں پر تھوڑی دیر قبل میدان کار زار گرم تھا اور نعمان بن مقرن سالار میمنہ کو تھوڑی سی جمعیت کے ہمراہ اس جگہ چھوڑ کر خود مدینہ تشریف لے آئے۔

حضرت ابوبکرؓ نے عزم و ثبات اور ایمان و ایقان کا جو مظاہرہ کیا وہ چنداں قابل تعجب نہیں، کیونکہ انہوں نے آغاز اسلام ہی سے اپنا مقصد اولین یہ قرار دے رکھا تھا کہ وہ ہر کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کریں گے اور ان کی ساری زندگی اس امر کی شاہد ہے کہ انہوں نے ہر موقع پر اپنے اس عہد کو پوری طرح نبھایا اور بڑی سے بڑی روک بھی انہیں ان کے بلند مقصد سے علیحدہ نہ کر سکی، اس صورت میں یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ دشمنوں سے ایسے معاملے کے متعلق سمجھوتا کر لیتے جو سرا سر احکام الٰہی کے خلاف تھا، حضرت ابوبکرؓ کی نظروں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک ورق کھلا ہوا موجود تھا، جب کبھی کسی جانب سے منشائے الٰہی اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی کام کرنے کے لیے ان پر زور دیا جاتا تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فقرہ یاد آ جاتا جو ابو طالب کی درخواست پر آپ نے کہا تھا:

"واللہ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کھڑا کریں اور یہ چاہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں جو مجھے اللہ کی طرف سے تفویض کیا گیا ہے تو بھی میں اس کام کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ یا تو میں دوسروں کو بھی اپنا ہم نوا بنا لوں یا اپنی کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔"   
حضرت ابوبکرؓ نے بھی بالکل اسی قسم کا جواب اپنے ساتھیوں کو اس وقت دیا تھا جب انہوں نے حضرت اسامہؓ کی روانگی منسوخ کرنے پر زور دیا تھا اور یہی موقف انہوں نے اس وقت اختیار کیا جب لوگوں نے انہیں منکرین زکوٰۃ سے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا، یہی وہ ایمان صادق تھا جس کے مقابلے میں انہوں نے کسی چیز کی حتیٰ کہ موت کی بھی پروا نہ کی اور یہی ایمان صادق تھا جس کے مقابلے میں دنیا کی تمام آسائشیں ان کی نظروں میں ہیچ تھیں، اس نازک وقت میں اسلام کو تباہی و بربادی سے بچانے میں بھی سب سے بڑا ممد و معاون ثابت ہوا۔

سوال پیدا ہوتا ہے آخر کیا حرج تھا اگر حضرت ابوبکرؓ منکرین زکوٰۃ سے جنگ نہ کرنے کے بارے میں حضرت عمرؓ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ کا مشورہ قبول کر لیتے، اس کا جواب بہت سہل ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ عرب کے اکثر قبائل نے بہت تھوڑا عرصہ قبل بت پرستی سے نجات حاصل کی تھی اور جاہلیت کا دور ختم ہوئے نہایت قلیل عرصہ گزرا تھا، اگر حضرت ابوبکرؓ فرائض دینی کو ترک کر دینے کے متعلق قبائل عرب کا کوئی مطالبہ تسلیم کر کے ان سے سمجھوتا کر لیتے تو طلیحہ، مسیلمہ اور دوسرے خود ساختہ نبی فوراً یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتے کہ فرائض دینی کی بجا آوری کے متعلق اس سمجھوتے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام دنیا کے سامنے پیش کیا تھا وہ (نعوذ باللہ) اللہ کی طرف سے نہ تھا، بلکہ آپ کا خود ساختہ تھا ورنہ حضرت ابوبکرؓ اس کے متعلق سمجھوتا کیوں کرتے۔!!

قبائل عرب پر اس پروپیگنڈے کا زبردست اثر ہوتا اور اس کے نتیجے میں وہ لوگ مدعیان نبوت سے مل جاتے جو ابھی ان پر ایمان نہ لائے تھے اور ان کی اطاعت قبول نہ کی تھی، ذی القصہ میں شرمناک شکست کا انتقام لینے کے لیے بنی ذبیان اور بنی عبس کے مشرکین نے ان تمام مسلمانوں کو قتل کر ڈالا جو ان کی دسترس میں تھے، لیکن اس کا اثر الٹا پڑا اور قبائل کے وہ لوگ جو بدستور اسلام پر قائم تھے اپنے عقیدے میں اور پکے ہو گئے اور انہوں نے بے پس و پیش حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر زکوٰۃ پیش کرنی شروع کر دی، کیونکہ انہوں نے تمام حالات و واقعات کا مشاہدہ کر کے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ اپنی قوت ایمانی کی بدولت ان مرتدین پر لامحالہ غالب آ جائیں گے، دین حق کا بول بالا ہو گا اور وہ بزدلانہ انتقام جو ہزیمت خوردہ قبائل نے کمزور و بے کس مسلمانوں سے لیا ہے ان کی ہزیمت کے داغ کو نہ مٹا سکے گا اور ان قبائل کو اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑے گی۔

کسی شک کی گنجائش بھی کہاں تھی؟
 حضرت صدیق اکبرؓ نے عہد کر لیا تھا کہ ان قبائل سے غریب و بے کس مسلمانوں کے قتل کا انتقام لیا جائے گا اور کسی بھی مشرک کو جس نے مسلمانوں کے قتل میں حصہ لیا ہے زندہ نہ چھوڑا جائے گا، اس کام کے لیے صرف لشکر اسامہ کی واپسی کی دیر تھی۔

ذی القصہ میں مسلمانوں کی فتح پر قبائل کے جو لوگ بدستور اسلام پر قائم تھے جوق در جوق زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے مدینہ آنے شروع ہوئے، سب سے پہلے جو لوگ آئے وہ بنی تمیم کے رئیس صفوان اور زبرقان اور بنی طی کے سردار عدی بن حاتم طائی تھے، اہل مدینہ نے بڑی گرمجوشی سے ان لوگوں کا خیر مقدم کیا، لیکن اندر ہی اندر ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کہیں ان لوگوں کا آنا ہمارے لیے مصیبت کا باعث نہ ہو، مگر حضرت ابوبکرؓ ہمیشہ یہ جواب دیتے کہ نہیں یہ لوگ تمہارے لیے مصیبت کا پیغام لے کر نہیں بلکہ خوش خبری لے کر آئے ہیں، یہ تمہارے دشمن نہیں مددگار ہیں۔

اس وقت مسلمانوں کے حوصلے بلند رکھنا بے حد ضروری تھا، کیونکہ ہر جانب خطرات کے بادل منڈلاتے دیکھ کر مسلمانوں کو طبعاً مضبوط سہاروں کی ضرورت تھی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہم اس مقام پر کھڑے تھے اگر اللہ تعالی حضرت ابوبکرؓ کے ذریعے سے ہماری مدد نہ فرماتا تو ہماری ہلاکت یقینی تھی، ہم سب مسلمانوں کا بالاتفاق یہ خیال تھا کہ ہم زکوٰۃ کے اونٹوں کی خاطر دوسروں سے جنگ نہ کریں گے اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہو جائیں گے یہاں تک کہ ہمیں کاملاً غلبہ حاصل ہو جائے، لیکن حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوٰۃ سے لڑنے کا عزم کر لیا، انہوں نے منکرین کے سامنے صرف دو باتیں پیش کیں، تیسری نہیں۔''
=========> جاری ہے ۔۔۔۔
Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS